logo logo
AI Search

کیا غسل میت کا پانی پاک ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غسلِ میت کا پانی پاک ہے یا ناپاک؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ غسل میت کے پانی کے بارے میں کیا حکم ہے، کیا یہ پانی پاک ہے یا ناپاک؟ سنا ہے کہ فقہائے کرام نے غسلِ میت کے پانی کو ناپاک قراردیا ہے؟ اگر تو یہ پانی ناپاک ہوتا ہے، تو کیا اگر مُردے پر ظاہری کوئی نجاست نہ ہو تب بھی وہ پانی ناپاک ہی ہوگا؟ نیز غسل میت دیتے ہوئے کچھ چھینٹے کپڑوں پر لگ جاتی ہیں، تو کیا اُن چھینٹوں سے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے؟

جواب

غسلِ میّت کے پانی کے پاک یا ناپاک ہونے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ غسلِ میت کے واجب ہونے کا سبب کیا ہے؟ فقہائے کرام کے درمیان اس میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ فقہائے کرام کی بڑی تعداد کے نزدیک غسل میت کا سبب نجاستِ حقیقیہ ہے، اس بنا پر وہ پانی جو غسلِ میّت میں استعمال ہو، ناپاک قرار پاتا ہے۔ لیکن دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ میّت کا غسل نجاستِ حکمیہ کو دور کرنے کے لیے ہوتا ہے اور یہی قول اصح اور راجح ہے۔

میت کے بدن پر اگر کوئی نجاست نہ ہو، تو اصح قول کے مطابق وہ پانی نجس نہیں، بلکہ مائے مستعمل ہوگا، چنانچہ علامہ حسين بن محمد سمنقانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ ’خزانۃ المفتین میں لکھتے ہیں: ’’غسالة الميّت إذا لم يكن على بدنه نجاسةٌ يصير الماء مستعملاً، و لا يكون نجساً على الأصحّ‘‘ ترجمہ: میت کے غسل کا پانی اگر اس کے بدن پر کوئی نجاست نہ ہو تو وہ پانی مستعمل ہوجاتا ہے، اور اصح قول کے مطابق نجس نہیں ہوتا۔ (خزانۃ المفتین، صفحہ 186، مطبوعہ سعودیہ)

بحر الرائق، حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح، فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’و اللفظ للاول: و في الفتاوى الظهيرية و غسالة الميت نجسة كذا أطلق محمد في الأصل و الأصح أنه إذا لم يكن على بدنه نجاسة يصير الماء مستعملا و لا يكون نجسا‘‘ ترجمہ: اور فتاوى ظہیریہ میں ہے کہ غسل میت کا پانی نجس ہے، اسی طرح امام محمد نے اصل میں مطلقاً یہی فرمایا ہے، اور اصح یہ ہے کہ اگر میت کے بدن پر کوئی نجاست نہ ہو تو وہ پانی مستعمل ہوجاتا ہے، نجس نہیں ہوتا، البتہ امام محمد نے پانی کے نجس ہونے کو اس لیے مطلق بیان کیا ہے کہ عموماً غسل میت کا پانی نجاست سے خالی نہیں ہوتا۔ (بحر الرائق، جلد 1، صفحہ 96، 97، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: میت کے بارے میں علماء مختلف ہیں: جمہور کے نزدیک موت نجاست حقیقیہ ہے اس تقدیر پر تو وہ پانی کہ غسل میت میں صرف ہوا مائے مستعمل نہیں بلکہ ناپاک ہے اور بعض کے نزدیک نجاست حکمیہ ہے بحر الرائق وغیرہ میں اسی کو اصح کہا اس تقدیر پر وہ پانی بھی مائے مستعمل ہے اور ہماری (بیان کردہ مائے مستعمل کی) تعریف کی شق اول میں داخل کہ اُس نے بھی اسقاطِ واجب کیا ۔۔۔ یوں ہی غسلِ میت کا دوسرا اور تیسرا پانی بھی مستعمل ہوگا کہ اگر چہ پہلے پانی سے اسقاطِ واجب ہوگیا مگر غسل میت میں تثلیث بھی قربت مطلوبہ فی الشرع ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 2، صفحہ 45، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مستعمل پانی ناپاک نہیں ہوتا، چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: مائے مستعمل صحیح و معتمد و مفتیٰ بہ مذہب میں ناپاک نہیں، طاہر غیر مطہر ہے یہی ہمارے امام اعظم رضی اللہ عنہ کا مذہب معتمد ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 4، صفحہ 335، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے: راجح یہ ہے کہ میّت کا غسل، نجاستِ حکمیہ دُور کرنے کے ليے ہے تو مستعمل پانی کی چھینٹیں پڑیں اور مستعمل پانی نجس نہیں، جس طرح زندوں کے وضو و غسل کا پانی۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 817، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1179
تاریخ اجراء: 14 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 02 مئی 2026ء