logo logo
AI Search

نمازِ جنازہ میں دیکھ کر دعائیں پڑھ سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نمازِ جنازہ میں دیکھ کر دعائیں پڑھنے کا شرعی حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک جنازہ گاہ ہے، اس کی در و دیوار پر لکھائی بھی کی گئی ہے، دیوار قبلہ میں نمازِ جنازہ کا طریقہ اور تمام دعائیں لکھی ہوئی ہیں، تو اگر کسی شخص کو جنازے کی دعائیں یاد نہ ہوں اور وہ نمازِ جنازہ میں سامنے لکھی دعائیں دیکھ کر پڑھے، تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی ؟

جواب

جس شخص کو جنازے کی دعائیں یاد نہ ہوں، اگر وہ نماز جنازہ میں دیوار پر لکھی دعائیں دیکھ کر پڑھے گا، تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، کیونکہ یہ نماز کے باہر سے سیکھنا ہے اور نماز کے باہر سے سیکھنا جس طرح عام نماز کو فاسدکر دیتا ہے اسی طرح نماز جنازہ کو بھی فاسد کر دیتا ہے، لہذا ایسے افراد کو چاہئے کہ وہ جنازہ کے اذکار و دعائیں یاد کریں، جنازہ کی دعائیں مختصر سی ہیں، معمولی توجہ دینے سے بآسانی یاد ہو سکتی ہیں۔

نمازِ جنازہ کے مفسدات کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے: ’’واما بيان ما تفسد به صلاة الجنازة فنقول: انها تفسد بما تفسد به سائر الصلوات ۔۔ الا المحاذاۃ‘‘ ترجمہ: بہرحال ان چیزوں کا بیان جن سے نمازِ جنازہ فاسد ہو جاتی ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ نمازِ جنازہ اس چیز سے فاسد ہو جاتی ہے جس سے (بقیہ) تمام نمازیں فاسد ہو جاتی ہیں، سوائے محاذات کے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، فصل بیان ما تفسد بہ صلاۃ الجنازۃ، جلد 1، صفحہ 316، مطبوعہ بیروت)

نماز کے باہر سے سیکھنا مفسدِ نماز ہے۔ رد المحتار میں ہے: ’’المؤتم لما تلقن من خارج، بطلت صلاته‘‘ ترجمہ: مقتدی نے جب اس سے سیکھا جو نماز سے باہر ہے تو اس کی نماز باطل ہوگئی ۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، جلد 2، صفحہ 461، مطبوعہ پشاور)

اسی لئے مصحف شریف یا محراب سے دیکھ کر قراءت کرنا بھی مفسدات میں سے ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے: ’’وقراءتہ من مصحف ای ما فیہ قرآن مطلقاً لانہ تعلم‘‘ ترجمہ: نمازی کا اس سے مطلقا تلاوت کرنا جس میں قرآن پاک ہے نماز کو فاسد کر دیتا ہے، کیونکہ یہ تعلم یعنی سیکھنا ہے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے:’’(قوله اي ما فيه قرآن) عممه ليشمل المحراب، فانه اذا قرا ما فيه فسدت في الصحيح، بحر (قوله مطلقا) اي قليلا او كثيرا، اماما او منفردا، اميا لا يمكنه القراءة الا منه او لا‘‘ ترجمہ: (جس میں قرآن پاک ہو) اسے عام رکھا تاکہ یہ حکم محراب کو بھی شامل ہو جائے، پس بے شک جب محراب میں لکھے ہوئے کو نمازی پڑھے گا، تو صحیح قول کے مطابق نماز فاسد ہو جائے گی، بحر (مطلقاً) یعنی تلاوت قلیل ہو یا کثیر، کرنے والا امام ہو یا منفرد، اُمّی ہو یعنی جو لکھا ہوا ہی پڑھ سکتا ہے یا غیر اُمّی (بہر صورت حکم یکساں ہے)۔ (رد المحتار مع الدر المختار،کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، جلد 2، صفحہ 463، مطبوعہ پشاور)

مفتی وقار الدین رضوی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ کسی نے نمازِ جنازہ پڑھائی، اس کو دعائیں یاد نہیں تھیں، اس لئے اس نے دیکھ کر یعنی کتاب کھول کر نماز جنازہ پڑھائی، تو کیا حکم ہے؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً فرمایا: یہ نماز جنازہ ادا نہیں ہوئی۔ (ملخصاً از وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 362، بزم وقار الدین، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7382
تاریخ اجراء: 27 جمادی الاخری 1445ھ / 10 جنوری 2024ء