logo logo
AI Search

قبر پر تین مٹھی مٹی ڈالنے کا ثبوت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میت دفنانے کے بعد قبر پر تین مٹھی مٹی ڈالنے کا حکم ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر تین مٹھی مٹی ڈالنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میت کی تدفین کے بعد قبر پر تین مُٹھی مٹی ڈالنا ثابت ہے۔ اسی لئے فقہائے کرام نے میت کے سرہانے کی جانب دونوں ہاتھوں سے تین مرتبہ مٹی ڈالنے کو مستحب قرار دیا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہےکہ قبر میں میت رکھنے کے بعد اس پر تختے برابر کرکے جب تختوں پر مٹی ڈالنے لگیں، تو پھاوڑے وغیرہ سے مٹی ڈالنے سے پہلے، حاضرین اپنے ہاتھوں سے تین مٹھی مٹی ڈالیں اور اس میں پہلی مٹھی ڈالتے وقت: ’’مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ‘‘ (اسی مٹی سے ہم نے تم کو پیدا کیا) ، دوسری بار: ’’وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ ‘‘( اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے) اور تیسری بار: ’’وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ‘‘ (اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے) کہیں۔ اب باقی مٹی پھاوڑے وغیرہ سے ڈال دیں۔

قبر پر مٹی ڈالنے کے متعلق حدیثِ پاک میں ہے:

”عن ابي هريرة ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلى على جنازة ثم اتى قبر الميت فحثى عليه من قبل رأسه ثلاثا“

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولِ كريم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک میت پر جنازہ پڑھا، پھر اس کی قبر پر تشریف لائے اور سر کی جانب سے تین مرتبہ اس پر مٹی ڈالی۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 01، صفحہ 499، مطبوعہ دار احیاء الکتب العربیہ)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

’’في الحديث الذی في السنن ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم حضر جنازة فلما دفن الميت اخذ قبضة التراب فالقاها في القبر وقال: ’’مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ‘‘ ثم اخذ اخرى وقال: ’’ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ ‘‘ ثم اخرى وقال: ’’وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ‘‘

ترجمہ: سنن میں مذکور حدیث پاک  میں ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازے میں تشریف لے گئے۔ جب میت کو دفن کر دیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹی کی ایک مٹھی لی اور اسے قبر پر ڈالتے ہوئے فرمایا: ’’مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ‘‘ پھر دوسری مٹھی لی اور فرمایا: ’’وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ‘‘ پھر تیسری مٹھی لی اور فرمایا: ’’وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر، جلد 05، صفحہ 299، مطبوعہ دار طيبة للنشر و التوزيع)

الجوہرۃ النیرۃ، فتاوی عالمگیری اور رد المحتار وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے،

واللفظ للاول: ويستحب لمن شهد دفن ميت أن يحثو في قبره ثلاث حثيات من التراب بيديه جميعا ويكون من قبل رأس الميت ويقول في الحثية الأولى ’’مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ‘‘ وفي الثانية ’’وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ‘‘ وفي الثالثة ’’وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ‘‘

ترجمہ: جو شخص تدفین کے وقت حاضر ہو، اُس کے لیے میت کے سرہانے کی جانب اپنے دونوں ہاتھوں سے قبر پر تین مٹھی مٹی ڈالنا مستحب ہے۔ پہلی مٹھی ڈالتے وقت: ’’مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ‘‘، دوسری بار: ’’وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ‘‘ اور تیسری بار: ’’وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ ‘‘کہے۔ (الجوھرۃ النیرہ، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 109، مطبوعہ المطبعة الخيريہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”تختے لگانے کے بعد مٹی دی جائے، مستحب یہ ہے کہ سرہانے کی طرف دونوں ہاتھوں سے تین بار مٹی ڈالیں۔ پہلی بار کہیں: ’’مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ‘‘، دوسری بار: ’’وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ‘‘ (اور) تیسری بار: ’’وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْری‘‘(کہیں)۔۔۔باقی مٹی ہاتھ یا کُھرپی یا پھوڑے وغیرہ جس چیز سے ممکن ہو قبر میں ڈالیں۔“ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 845، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9886
تاریخ اجراء:11 شوال المکرم 1447ھ/31 مارچ 2026 ء