logo logo
AI Search

میت کے رشتداروں کے علاوہ سے تعزیت کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میت کے ورثاء کے علاوہ سے تعزیت کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا فوت ہونے والے کی تعزیت اس کے ورثاء کے علاوہ بھی کسی سے کی جا سکتی ہے، جیسے دوست یا مرید یا پیر سے کہ آپ کے دوست یا آپ کے پیر صاحب یا آپ کے مرید کی وفات پر میں آپ سے تعزیت کرتا ہوں۔

جواب

شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں کسی فوت ہونے والے شخص کی تعزیت کا تعلق صرف اس کے شرعی ورثاء تک محدود نہیں، بلکہ میت کے دوستوں، شاگردوں، اساتذہ، پیر و مرید اور ہر اس شخص سے تعزیت کرنا شرعاً بالکل جائز اور مستحب ہے، جسے اُس کی موت سے صدمہ اور غم پہنچا ہو، کیونکہ تعزیت کا دارومدار ”وارث“ ہونے پر نہیں، بلکہ ”مصیبت زدہ (مُصاب) اور غمزدہ (حزین) ہونے پر رکھا گیا ہے، لہٰذا جس شخص کو بھی کسی کی وفات پر دکھ یا قلبی صدمہ پہنچے، اسے تسلی دینا، صبر کی تلقین کرنا اور ساتھ میت کے حق میں دعائے بخشش و عافیت کرنا شریعت کو مطلوب و محبوب اور اللہ کریم کی بارگاہ سے حصولِ اجر و ثواب کا بہترین ذریعہ ہے۔
کسی کے انتقال سے جس کو بھی صدمہ پہنچا، وہ ”مُصاب“ ہے اور حدیث مبارک میں ہر مصاب سے تعزیت کرنے پر بشارت ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’من عزى مصابا فله مثل أجره‘‘ ترجمہ: جس نے کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کی، اللہ تعالیٰ اُس مصیبت زدہ کے صبر کی مثل اِسے بھی اجر نصیب فرمائے گا۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 02، صفحہ 533، مطبوعه دار الرسالۃ العالمیہ)
دوسری روایت میں ”حزین“ یعنی غم زدہ کا کلمہ استعمال کیا گیا، یعنی جس کو بھی غم لاحق ہوا ہو، اُس سے تعزیت کرنا مستحب ہے، چنانچہ فرمایا: ’’من عز حزینا البسہ اللہ التقوی‘‘ ترجمہ: جس نے کسی غم زدہ سے تعزیت کی، اللہ تعالیٰ اُسے لباسِ تقوی پہنائے گا (المعجم الأوسط للطبرانی، جلد 09، صفحہ 117، مطبوعۃ دار الحرمین، قاھرہ)
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصالِ ظاہری ہوا، تو حضرت خضر علیہ الصلٰوۃ والسَّلام نے صحابہ کرام سے تعزیت کی، چنانچہ ”دلائل النبوۃ لأبی نعيم الأصبهاني“ اور دیگر کثیر کتب میں ہے: واللفظ للدلائل: لما قبض رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم وكانت التعزية جاء آت يسمعون حسه ولا يرون شخصه فقال: السلام عليكم أهل البيت ورحمة اللہ إن في اللہ عزاء من كل مصيبة، وخلفا من كل هالك، ودركا من كل ما فات، فبالله فثقوا وإياه فارجوا فإن المحروم من حرم الثواب والمصاب من حرم الثواب، والسلام عليكم فقال: هل تدرون من هذا؟ هذا الخضر صلوات اللہ عليه وعلى جميع الأنبياء۔ ترجمہ: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ظاہری ہوا اور تعزیت کا وقت آیا تو ایک آنے والا آیا، جس کی آواز سب سن رہے تھے، لیکن اس کی ذات کسی کو نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس نے کہا کہ اے گھر والو! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت نازل ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی ذات ہر مصیبت میں تسلی دینے والی اور ہر جانے والے کے بعد وہی ہے، نیز اُس کی ذات ہر چھن جانے والی چیز کی تلافی کرنے والی ہے، لہٰذا اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اور اسی سے امید وابستہ رکھو، کیونکہ اصل محروم اور مصیبت زدہ وہ شخص ہے، جو ثواب سے محروم رہ جائے اور آپ پر سلامتی ہو۔ یہ سن کر حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے؟ پھر خود ہی جواب دیا کہ یہ حضرت خضر علیہ الصلٰوۃ والسَّلام ہیں، اِن پر اور تمام انبیاء پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔ (دلائل النبوۃ، صفحۃ 565، مطبوعۃ دار النفائس، بیروت)
اِسی بات کو امام اہلِ سنت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی لکھا: حضرت خضر علیہ الصلٰوۃ والسَّلام بعدِ وصال اقدس، حضور سید عالم ﷺ کی تعزیت کے لیے صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم کے پاس تشریف لائے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 29، صفحہ 637، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
” مُصاب“اور ”حزین“ والی روایات اور ”دلائل النبوۃ “کے واقعہ سے معلوم ہوا کہ تعزیت کا حق دار محض وارِث نہیں، بلکہ ہر وہ شخص ہوتا ہے، جسے صدمہ اور غم پہنچا، چنانچہ اِن ہی روایات سے استدلال کرتے ہوئے صرف فقہ حنفی نہیں، بلکہ مذاہبِ فقہیہ اربعہ میں ہر غم زدہ سے تعزیت کرنے کو مستحب قرار دیا گیا، خواہ وہ وارث ہو یا نہ ہو۔
فقہ حنفی کی نہایت معتبر کتاب ”الفتاوٰی الھندیۃ“ میں ہے: يستحب أن يعم بالتعزية جميع أقارب الميت؛ الكبار والصغار والرجال والنساء إلا أن يكون امرأة شابة فلا يعزيها إلا محارمها۔ ترجمہ: یہ بات مستحب ہے کہ میت کے تمام رشتہ داروں سے تعزیت کی جائے، چاہے وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، مرد ہوں یا عورتیں۔ البتہ اگر کوئی نوجوان عورت ہو، تو اُس سے صرف اُس کے محرم رشتہ دار ہی تعزیت کریں گے۔ (یہاں استدلال یہ ہے کہ ہر رشتے دار سے تعزیت مستحب قرار دی گئی حالانکہ ہر رشتے دار وارث نہیں ہوتا۔) (الفتاوى الھندیۃ، جلد 01، صفحہ 167، مطبوعہ کوئٹہ)
فقہ شافعی کی معروف کتاب ”أسنى المطالب في شرح روض الطالب “ میں ہے: ’’والمستحب أنه يعزي بكل من يحصل له عليه وجد كما ذكره الحسن البصري حتى بالزوجة والصديق وتعبيرهم بالأهل جرى على الغالب‘‘۔ ترجمہ: مستحب یہ ہے کہ ہر اس شخص سے تعزیت کی جائے جسے میت کے جانے کا صدمہ اور دکھ ہوا ہو، جیسا کہ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ذکر کیا ہے۔ یہاں تک کہ بیوی اور دوست سے بھی تعزیت کی جائے گی۔ فقہاء کا تعزیت کے باب میں ”اہلِ خانہ“ کا لفظ استعمال کرنا تغلیباً ہے۔ (أسنى المطالب في شرح روض الطالب، جلد 02، صفحہ 353، مطبوعۃ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
علامہ ابن جزی مالکی غرناطی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 741ھ/1340ء) کی کتاب ”القوانين الفقهية “ میں ہے: ويستحب ‌التعزية والدعاء للميت والمصاب۔ترجمہ: میت کے حق میں دعا اور مصیبت زدہ سے تعزیت کرنا مستحب ہے۔ (القوانين الفقهية، صفحہ 178، مطبوعۃ دار ابن حزم)
”المغني لابن قدامة الحنبلي“ میں ہے: يستحب تعزية جميع أهل المصيبة، كبارهم وصغارهم، ويخص خيارهم، والمنظور إليه من بينهم؛ ليستن به غيره، وذا الضعف منهم عن تحمل المصيبة، لحاجته إليها۔ ترجمہ: تمام مصیبت زدگان سے تعزیت کرنا مستحب ہے، چاہے وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، البتہ ان میں سے ان لوگوں کی تعزیت کو خاص اہمیت دی جائے گی، جو نیک اور با اثر ہوں، جنہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی ان کی پیروی کریں اور صبر کریں۔ اسی طرح اس شخص کی تعزیت پر بھی خاص توجہ دی جائے گی جو صدمہ برداشت کرنے میں کمزور ہو، کیونکہ اسے تسلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ (المغني لابن قدامة، جلد 02، صفحہ 405، مطبوعہ مکتبۃ القاھرہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9942
تاریخ اجراء: 04 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 22 اپریل 2026