جنازے میں تعداد بڑھانے کے لیے تاخیر کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جنازے میں تعداد بڑھانے کے لیے نماز جمعہ تک تاخیر کرنا کیسا؟ نیز میت کو رات میں دفن کرنے کا حکم ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین درج ذیل سوالات کے بارے میں کہ:
(1) اگر کسی شخص کا جمعرات کو بعدِ مغرب انتقال ہو، تو تدفین میں نمازِ جمعہ کے بعد تک اس نیت سے تاخیر کرنا کیسا کہ نمازِ جنازہ میں زیادہ افراد شریک ہو سکیں ؟
(2) نیز میت کو رات میں دفن کرنے کا کیا حکم ہے ؟ کیا حدیث ِپاک میں اس کی ممانعت ہے؟
جواب
(1) محض لوگوں کی تعداد بڑھانے کی غرض سے نمازِ جمعہ کے بعد تک تدفین میں تاخیر کرنا سخت مکروہ و ممنوع ہے، کیونکہ احادیث میں کسی شخص کے انتقال کا یقین ہو جانے کے بعد اس کی تجہیز وتکفین اور تدفین میں جلدی کرنے کا حکم ہے، (البتہ موت کا یقین ہونے، قبر کی تیاری کرنے اور غسل و کفن وغیرہ کے ضروری انتظامات میں جو دیر لگتی ہے، اس کی اجازت ہے)، حتی کہ فقہائےکرام رحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں: اگر جمعہ والے دن صبح کے وقت ہی جنازہ تیار ہوگیا، لیکن نماز جنازہ اور تدفین میں فقط اس لیے تاخیر کی کہ جمعہ کے بعد لوگ زیادہ ہوجائیں گے، یہ بھی مکروہ ہے۔ پس جب جمعہ والے دن انتقال کرنے والے کے جنازے میں اس وجہ سے تاخیر کی اجازت نہیں، تو جس کا جمعرات کو انتقال ہوا، اس کی تدفین میں تاخیر کی اجازت کیسے ہوگی ؟
میت کی تدفین میں جلدی کرنے کا حکم ہے۔ چنانچہ حضرت حصین بن وحوح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:”ان طلحۃ بن البراء مرض فاتاہ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یعودہ، فقال: انی لا اری طلحۃ، الا قد حدث فیہ الموت، فاذنونی بہ و عجلوا، فانہ لا ینبغی لجیفۃ مسلم ان تحبس بین ظھرانی اھلہ“ترجمہ: حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے، پھر ارشاد فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ طلحہ کی موت کا وقت قریب آ گیا ہے، موت کے بعد مجھے اس کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین وغیرہ میں جلدی کرنا، کیونکہ کسی مسلمان کی میت کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے درمیان دیر تک رہے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 97، مطبوعہ لاھور)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسرعوا بالجنازۃ، فان تک صالحۃ فخیر تقدمونھا الیہ وان تک غیر ذٰلک فشر تضعونہ عن رقابکم“ ترجمہ: جنازہ کو دفن کرنے میں جلدی کرو، کہ اگر وہ نیک ہے، تو ایک اچھی چیز ہے، جس کی طرف تم اس کو لے کر جا رہے ہو اور اگر وہ نیک نہیں ہے، تو ایک بری چیز ہے، جسے تم اپنی گردن سے اتار رہے ہو۔ (صحیح المسلم، جلد1، صفحہ 306تا307، مطبوعہ کراچی)
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے: ”و یبادر الی تجھیزہ و لا یؤخر، لقولہ علیہ السلام: عجلوا بموتاکم، فان یک خیرا قدمتموھم الیہ و ان یک شرا فبعدا لاھل النار“ ترجمہ: میت کی تجہیز میں جلدی کی جائے، اس میں تاخیر نہ کی جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا قول ہے کہ اپنے مردوں کی تجہیز میں جلدی کرو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے، تو اس کو تم جلدی پیش کرو اور اگر وہ برا ہے تو اہل ناریعنی جہنمی کے لیے دوری ہے۔ (الجوھرۃ النیرہ، جلد1، صفحہ123، مطبوعہ کراچی)
زیادہ لوگوں کے شامل ہونے کی وجہ سے نمازِ جمعہ کے بعد تک جنازہ میں تاخیر مکروہ ہے۔ چنانچہ حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح اور البحر الرائق میں ہے: ”ولو جهز الميت صبيحة يوم الجمعة يكره تاخير الصلاة ودفنه ليصلي عليه الجمع العظيم بعد صلاة الجمعة“ ترجمہ: اگر جمعہ کے دن صبح میت کی تجہیز و تکفین کر دی، تو نماز جنازہ اورتدفین کو اس وجہ سے مؤخر کرنا، تاکہ نمازِ جمعہ کے بعد زیادہ لوگ جنازہ پڑھیں گے، تو یہ مکروہ ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ604، مطبوعہ کراچی)
امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ’’نماز جنازہ میں تعجیل شرعاً نہایت درجہ مطلوب۔امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ و حاکم و ابن حبان وغیرہم امیر المؤمنین مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ثلاث لا تؤخرھن، الصلوٰۃ اذا اتت و الجنازۃ اذا احضرت و الایم اذا وجدت لھا کفوا“ترجمہ: تین چیزوں میں دیر نہ کرو، نمازمیں جب اس کا وقت آ جائے اور جنازہ میں جس وقت حاضر ہو، اورغیر شادی شدہ لڑکی کے (نکاح کے) بارے میں جب اس کا کفو ملے۔۔طبرانی بہ سند حسن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اذا مات احدکم فلا تحبسوہ و اسرعوا بہ الی قبرہ“ ترجمہ: جب تم میں سے کوئی مرے، تو اسے نہ روکو، بلکہ جلد دفن کےلئے لے جاؤ۔ و لہٰذا علماء فرماتے ہیں: ’’اگر روزِ جمعہ پیش از جمعہ جنازہ تیار ہو گیا، جماعتِ کثیرہ کے انتظار میں دیر نہ کریں، پہلے ہی دفن کر دیں، اس مسئلہ کا بہت لحاظ رکھنا چاہیے کہ آج کل عوام میں اس کے خلاف رائج ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 309 تا 310، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
(2) میت کو جس طرح دن میں دفن کرنا، جائز ہے، اسی طرح رات میں بھی جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں اور بعض احادیث مبارکہ میں رات کو دفن کرنے کی جو ممانعت آئی ہے، اس بارے میں تفصیل درج ذیل ہے:
(الف) جن احادیث میں رات کو دفن کرنے سے منع کیا گیا ہے، وہ منسوخ ہیں، اور اس کی ناسخ وہ احادیث مبارکہ ہیں جن میں دن اور رات میں نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر موجود ہے ۔
(ب) رات میں تدفین سے منع کرنا اس عمل کے مکروہ ہونے کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ کچھ لوگ رات کو دفن کرتے ہوئے ناقص قسم کا کفن پہنا دیتے کہ رات میں کون سا کسی کو صحیح نظر آتا ہے کہ کیسا کفن دیا ہے۔ اس وجہ سے رات میں تدفین کرنے سے منع کیا گیا اور ساتھ میں انتقال کرنے والوں کو اچھا کفن پہنانے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی گئی۔
(ج) نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی شخص کی نماز جنازہ پڑھانا اس کے لیے رحمت و برکت کا باعث ہے، اس لیے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مسلمانوں کے جنازے خود پڑھانے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن صحابہ کرام علیہم الرضوان رات میں انتقال کرنے والے کی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر نہ دیتے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آرام کا خیال فرماتے ہوئے خود ہی اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے۔کوئی مسلمان نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکتوں سے محروم نہ رہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو تدفین سے منع فرمایا۔
رات میں تدفين کی اجازت والی حدیث پاک:
چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے: نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صلوا على موتاكم بالليل والنهار“ ترجمہ: اپنے انتقال کر جانے والوں پر دن اور رات میں نماز پڑھو۔ (سنن ابن ماجہ ، جلد1، صفحہ 487، مطبوعہ دار إحياء الكتب العربي)
رات کو تدفین میں بھی حرج نہیں، چنانچہ نخب الافکار میں ہے: ”علي رضي الله عنه لم ير بالدفن في الليل بأسًا، ولم ينكر ذلك أبو بكر وعمر رضي الله عنها ولا أحد من أصحاب رسول الله عليه السلام“ ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو تدفین میں کوئی حرج خیال نہ فرماتے اور رات میں تدفین سے حضرت ابو بکر، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔ (نخب الأفكار کتاب الجنائز، باب الدفن باللیل، جلد 7، صفحہ 463، مطبوعہ قطر)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ رات میں دفن جائز ہے۔ دوسرے یہ کہ دفن میں جلدی کی جائے کہ اگر رات میں دفن ممکن ہوتو بلا وجہ دن ہونے کا انتظار نہ کیا جائے، دیکھو صحابہ کرام نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے انتظار میں سویرے تک میت کو نہ رکھابلکہ خود اس پر نماز پڑھ کر دفن کردیا۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد2، صفحہ447، حسن پبلیشرز، لاھور)
رات میں تدفین سے منع والی حدیث پاک اور اس کی توجیہات کے جزئیات:
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لا تدفنوا موتاكم بالليل، إلا أن تضطروا“ ترجمہ: اپنے انتقال کرنے والوں کو رات میں دفن نہ کرو، مگر یہ کہ کوئی مجبوری ہو۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 1، صفحہ 487، دار إحياء الكتب العربي)
(الف) مذکورہ حدیثِ پاک منسوخ ہے، چنانچہ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری اور شرح سنن ابی داؤد للعینی میں ہے: واللفظ للآخر: ”قلت: يمكن التوفيق بين هذه الأخبار بأن يكون عليه السلام نهى عن ذلك أولا، ثم رخصه“ ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ ان احادیث ِمبارکہ میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اولا ًاس (رات میں تدفین) سے منع فرمایا، پھر بعد میں اس کی اجازت عطا فرمائی۔ (شرح سنن ابی داؤد للعینی، باب فی الکفن، جلد6، صفحہ 78، مطبوعہ الریاض )
علامہ ابن شاہين رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 385ھ) اپنی کتاب ناسخ الحديث ومنسوخہ میں پہلے رات میں تدفین کی ممانعت اور بعد میں اجازت والی احادیث مبارکہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”وهذا يدل على نسخ الأول“ ترجمہ: اور یہ (رات کو دفن کرنے کی اجازت والی ) احادیث مبارکہ پہلی( ممانعت والی احادیث مبارکہ) کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ (ناسخ الحديث ومنسوخه، کتاب الجنائز، الخلاف ذلك، صفحہ 284، مكتبة المنار، الزرقاء)
(ب)رات میں دفن کرتے ہوئے نامناسب کفن دینے والوں کو ممانعت کے متعلق صحیح مسلم میں ہے : ”أن النبي صلى الله عليه وسلم خطب يوما فذكر رجلا من أصحابه قبض فكفن في كفن غير طائل. وقبر ليلا فزجر النبي صلى الله عليه وسلم أن يقبر الرجل بالليل۔۔ إلا أن يضطر إنسان إلى ذلك. وقال النبي صلى الله عليه وسلم إذا كفن أحدكم أخاه فليحسن كفنه“ ترجمہ: بے شک نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے اصحاب میں سے ایک انتقال کر جانے والے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا، جن کو کفن غیر طائل میں کفن دیا گیا تھا اور رات میں ہی ان کی تدفین کی گئی تھی، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو دفن کرنے سے منع فرمایا مگر یہ کہ کوئی مجبور ی ہو۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کو کفن دے تو اسے چاہیے کہ اچھا کفن دے۔ (صحیح المسلم، کتاب الجنائز، جلد 2، صفحہ 651، مطبوعہ قاھرہ)
کفن غیر طائل کی وضاحت کے متعلق ’’اكمال المعلم بفوائد مسلم اور المفہم میں ہے: واللفظ للاول: ”ومعنى " غير طائل ": أى لا خطر له ولا قيمة، أو لا ستر فيه، ولا كفاية أو لا نظافة فيه ولا نقاوة“ ترجمہ: اور غیر طائل کا معنی یہ ہے کہ جس (کفن) کی کوئی وقعت اور قیمت نہ ہو، یا اس میں بدن نہ چھپتا ہویاوہ کفایت نہ کرتا ہویا اس میں نظافت اور صفائی نہ ہو۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم، جلد3، صفحہ 398، مصر)
اسی حدیث پاک کے تحت شرح نووی علی صحیح مسلم اور حاشیہ سندی على سنن ابن ماجہ میں ہے: ”وقيل نهاهم لأنهم كانوا لا يحسنون أكفان موتاهم ويدفنونهم بالليل“ ترجمہ: اور کہا گیا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو منع فرمایا، کیونکہ وہ انتقال کرنے والوں کو اچھا کفن نہ پہناتے اور ان کو رات میں ہی دفن کر دیتے۔ (حاشیہ سندی علی سنن ابن ماجہ، جلد1، صفحہ 464، بيروت)
نخب الافکار میں ہے: ”أن قومًا كانوا يقصرون في أكفان موتاهم۔۔۔ ويدفنونهم بالليل حتى لا يطلع على ذلك أحد من الناس، فمنعهم النبي عليه السلام عن الدفن بالليل لذلك، لا لأجل الدفن بالليل مكروه“ ترجمہ: ایک قوم اپنے مردوں کو کفن دینے میں کوتاہی کرتی اور ان کو رات میں ہی دفن کر دیتی، حتی کہ لوگوں میں سے کوئی ایک بھی اس پر مطلع نہ ہوتا، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس وجہ سے رات میں دفن کرنے سے منع فرمایا، نہ اس وجہ سے کہ رات میں دفن کرنا مکروہ ہے۔ (نخب الأفكار کتاب الجنائز، باب الدفن بااللیل، جلد7، صفحہ 459، مطبوعہ قطر)
(ج) اہل مدینہ کا کوئی شخص نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکتوں سے محروم نہ رہے، اس لیے رات میں تدفین سے منع فرما دیا۔ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری اور نخب الافکار میں ہے:
واللفظ للآخر: ”أن النهي المذكور في الحديث الأول ليس لأجل كراهة الدفن بالليل لكونه بالليل، بل إنما كان لإرادة رسول الله عليه السلام أن يصلي على كل من مات من المسلمين؛ لينالوا بذلك بركة النبي عليه السلام وفضله وخيره؛ لأن صلاته عليهم رحمة كما قد صرح عليه السلام بذلك بقوله: فإن صلاتي عليهم رحمة“ ترجمہ: پہلی حدیث میں جو رات کو تدفین کی کراہت مذکور ہے وہ اس کے رات ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ تھا کہ مسلمانوں میں سے جو بھی انتقال کرے آپ اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، تاکہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت، فضل اور خیر کو پالیں، کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنا ان کے لیے رحمت ہے، جیسا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس قول کے ساتھ اس کی صراحت فرمائی کہ بے شک میرا ان پر نماز پڑھنا رحمت ہے۔ (نخب الافکار، کتاب الجنائز، باب الدفن باللیل، جلد 7، صفحہ 457، مطبوعہ قطر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0120
تاریخ اجراء:14 شوال المکرم 1447ھ/03 اپریل 2026ء