بغیر گواہوں کے نکاح کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بغیر گواہوں کے نکاح کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ لڑکا اور لڑکی نے بغیر گواہوں کے ایجاب و قبول کر لیا۔ اس نکاح کا کیا حکم ہے؟ اسے ختم کرنے کے لئے طلاق ضروری ہوگی یا نہیں؟ ختم کرنے کی صورت میں عدت لازم ہوگی یا نہیں؟ اگر پہلا نکاح ختم نہیں کرتے تو آگے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں بغیر گواہوں کے کیا جانے والا نکاح فاسد ہے۔ جسے ختم کرنے کے لئے طلاق ضروری نہیں، البتہ متارکہ ضروری ہے۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ نکاح صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے، کہ دولہا اور دلہن کے علاوہ دو مسلمان عاقل بالغ آزادمرد یا ایک مرداور دوعورتیں گواہ ہوں۔ بغیر اس کے نکاح صحیح نہیں ہوسکتا۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوتے ہیں اور ان کا یہ عقد نکاح، نکاح فاسد شمار ہوگا۔ فاسد نکاح خود بخود ختم نہیں ہوتا، نہ اس کے لئے لڑکے سے طلاق لینا ضروری ہوتا ہے۔ بلکہ اسے ختم کرنے کے لئے متارکہ ضروری ہوتا ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی میں سے کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہےکہ میں اس نکاح کو ختم کرتا ہوں یا دوسرے کو چھوڑتا ہوں۔ البتہ اس موقع پر شوہر کی طرف سے دی جانے والی طلاق بھی متارکہ کے قائم مقام ہوتی ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ نکاح فاسد کی صورت میں زوجین والے تعلقات ناجائز و حرام ہوتے ہیں۔ پھر متارکہ کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ لڑکے اور لڑکی کا آپسی جسمانی تعلق قائم ہوا (وطی ہوئی) ہے یا نہیں؟ اگر تعلق قائم ہوا ہے تو متارکہ کے بعد سے عدت لازم ہوگی۔ ورنہ بغیر عدت کے لڑکی کا نکاح آگے ہو سکتا ہے۔ نیز وطی کی صورت میں مہر بھی لازم ہوگا۔
حضرت ابو الحسن برهان الدين علی بن ابی بكر الفرغانی المرغينانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفى: 593ھ) تحریر فرماتے ہیں: و لا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل و امرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف "قال رضي اللہ عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة و السلام" لا نكاح إلا بشهود“ یعنی مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوتا مگر ایسے دو مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں جو آزاد ہوں، عاقل ہوں بالغ ہوں، عادل ہوں یا غیر عادل یا جن پر حد قذف لگ چکی ہو۔ امام برہان الدین علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: جان لے کہ گواہی بابِ نکاح میں شرط ہے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے اس فرمان کے سبب گواہوں کے بغیرنکاح نہیں۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب النکاح، ج 1، ص 185، دار احياء التراث العربي، بيروت)
علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمہ اللہ القوی فرماتے ہیں: یجب مھرالمثل فی نکاح فاسد وھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃکشھود … … و لم یزد علی المسمی و لو کان دون المسمی لزم مھرالمثل الخ“ یعنی نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے اور نکاح فاسد اس نکاح کو کہتے ہیں جس میں صحت نکاح کی شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہو مثلاً بغیر گواہوں کے نکاح اوریہ مہر مثل مہر مسمی سے زائد نہ ہوگا اور اگر مسمی سے کم ہو تو مہر مثل لازم ہوگا الخ۔ (دُرمختار، ج 4، ص 274، دار الفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: نکاح بغیر دوگواہوں کے نہیں ہوسکتا، دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں عاقل بالغ آزاد اور مسلمان۔ ۔ وہ ایجاب وقبول کو ایک سلسلے میں سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہو رہا ہے بغیر اس کے نکاح نہیں ہوسکتا۔ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 317، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پر اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: بے حضور دو گواہ نکاح فاسد ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 219، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نکاح فاسد ختم کرنے اور عدت کے متعلق درمختار میں ہے: و یثبت لکل واحدمنھمافسخہ و لو بغیر محضر عن صاحبہ خروجا عن المعصیۃ فلا ینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما و تجب العدۃبعدالوطء من وقت التفریق أو متارکۃ'' ملتقطاً ترجمہ: اور نکاح فاسد کو فسخ کرنے کا اختیار مردوعورت میں سے ہرایک کو ہوتا ہے اگرچہ وہ دوسرے کی غیر موجودگی میں فسخ کرے یہ اختیار گناہ سے بچنے کی خاطر ہے لہٰذا لکل واحد کہنا وجوبِ فسخ کے منافی نہیں بلکہ قاضی پر لازم ہوگا کہ وہ ان دونوں میں تفریق کر دے۔ اور نکاح فاسد میں وطی کے بعد عدت واجب ہو جاتی ہے جو تفریق یا متارکہ کے بعد شروع ہوگی۔ (درمختار مع ردالمحتار، کتاب النکاح، مطلب فی النکاح الفاسد، ج 3، صفحہ 132 - 3، دار الفکر، بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے: ان فرق قبل الدخول لاتجب العدۃوکذالو فرق بعدالخلوۃ، و ان فرق بعد الدخول کان علیہا الاعتداد من وقت التفریق: ترجمہ: اگر دخول سے قبل تفریق ہوگئی توعدت واجب نہیں ہوگی اور اسی طرح صرف خلوت کے بعدبھی عدت واجب نہیں ہے اور اگر دخول کے بعد تفریق ہوئی توعورت پرعدت ہے اور عدت وقت تفریق سے ہوگی۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر فی العدۃ، ج 1، ص 526، دار الفکر، بیروت)
جدالممتار میں ہے: في الدرّ: (يثبت لكلّ واحد منهما فسخُه ولو بغير مَحضَر من صاحبه دخل بها أو لا في الأصحّ خروجاً عن المعصية، ۔۔۔فأقول: يتراءي لي - و اللہ تعالى أعلم- أنّ هذا فيما إذا وقع فاسداً كما إذا أنكحها( بلا شهود أو بعد ما مسّ أمّها، وذلك لأنّه لَم يثبت له اليد الشرعية عليها أصلاً و كان لكلّ منهما فسخه إزالة للمعصية“ ترجمہ: در میں ہے: میاں بیوی میں سے ہر ایک کونکاح کے فسخ کرنے کا اختیار ہے اگرچہ دوسرے کی غیر موجودگی میں ہو، دخول کیا ہو یا نہیں اصح قول کے مطابق معصیت سے نکلنے کے لیے، پس میں کہتا ہوں کہ میری رائے یہ ہے اور اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جبکہ شروع سے ہی نکاح فاسد واقع ہوا ہو جیسا کہ جب وہ دونوں بغیر گواہوں کے نکاح کریں یا عورت کی ماں کوچھونے کے بعد نکاح کرے اوریہ اس وجہ سے ہے کہ مردکے لیے عورت پر اصلا شرعی قبضہ ثابت ہی نہیں ہوا اور ان میں سے ہر ایک کو اختیار ہوگا کہ معصیت زائل کرنے کے لیے نکاح فسخ کردے۔ (جد الممتار، کتاب النکاح، جلد 04، صفحہ 591، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے: نکاح فاسد میں تفریق یامتارکہ کے وقت سے عدت ہے۔ اگرچہ عورت کو اس کی خبر نہ ہو۔ متارکہ یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے، مثلاً یہ کہے میں نے اسے چھوڑا یا چلی جا، نکاح کر لے یا کوئی اور لفظ اسی کے مثل کہے، اور فقط جانا آنا چھوڑنے سے متارکہ نہ ہو گا، جب تک زبان سے نہ کہے۔ (بھار شریعت، ج 2، حصہ 7، ص 73، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نکاح فاسد میں وطی کرنے کے متعلق المبسوط للسرخسی میں ہے ”و الوطء بالنکاح الفاسد حرام“ ترجمہ: اور نکاح فاسدمیں وطی کرنا حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی، ج 5، ص 151،دار المعرفۃ،بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11573
تاریخ اجراء: 17 محرم الحرام 1444ھ / 16 اگست 2022ء