سورہ ملک کے بعد سورہ یاسین پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرآنِ پاک پڑھتے ہوئے پہلے سورہ ملک پھر سورۂ یاسین پڑھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
قران پاک کی تلاوت اس انداز سے کر سکتے ہیں کہ مثلا پہلے سورہ ملک پڑھیں، پھر سورہ یٰسین پڑھیں؟
جواب
نماز کے علاوہ بھی اگر معروف طریقے سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنی ہو تو اس میں ترتیب رکھنا واجب ہے، اگر خلافِ ترتیب پڑھے گا تو گنہگار ہوگا۔
البتہ چند مقامات پر خلاف ترتیب پڑھنے میں حرج نہیں مثلاً ایک سورت پڑھ لی اس کےبعد خیال آیا کہ دوسری سورت پڑھوں اور وہ پیچھے کی ہے تو حرج نہیں یا پھر احادیث میں بیان کردہ مخصوص سورتوں کے فضائل حاصل کرنے کے لیے اگر خلافِ ترتیب پڑھ لی تو گناہ نہیں کیونکہ یہاں ہرسورت مستقل الگ سےجدا عمل ہوتی ہے اس لیے ترتیب قائم کرنا ضروری نہیں۔
فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے: نماز ہو یا تلاوت بطریق معہود ہو دونوں میں لحاظ ترتیب واجب ہے اگر عکس کرے گا گنہگار ہوگا۔ سیّدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص خوف نہیں کرتا کہ اللہ عزوجل اس کا دل اُلٹ دے۔ ہاں اگر خارج نماز ہے کہ ایک سورت پڑھ لی پھر خیال آیا کہ دوسری سورت پڑھوں وُہ پڑھ لی اوراس سے اُوپر کی تھی تو اس میں حرج نہیں ۔ یا مثلاً حدیث میں شب کے وقت چار سورتیں پڑھنے کا ارشاد ہوا ہے۔ یٰسین شریف کہ جو رات میں پڑھے گا صبح کو بخشا ہوا اُٹھے گا۔ سورہ دخان شریف پڑھنے کا ارشاد ہوا ہے کہ جو اسے رات میں پڑھے گا صبح اس حالت میں اُٹھے گا کہ ستّر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کر تے ہوں گے۔ سورہ واقعہ شریف کہ جو اسے رات پڑھے گا محتاجی اس کے پاس نہ آئے گی۔ سورہ تبارک الذی شریف کہ جو اسے ہر رات پڑھے گا عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔ ان سورتوں کی ترتیب یہی ہے مگراس غرض کے لئے پڑھنے والا چار سورتیں متفرق پڑھنا چاہتا ہے کہ ہر ایک مستقل جُدا عمل ہے اسے اختیار ہے کہ جس کو چاہے پہلے پڑھے جسے چاہے پیچھے پڑھے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 6، صفحہ 237، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2509
تاریخ اجراء: 13 ربیع الآخر 1447ھ / 07 اکتوبر 2025ء