جلنے کے زخم پر پانی نقصان دے تو فرض غسل کیسے کریں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ٹانگ جل جانے کی وجہ سے اس پر پانی بہانا نقصان دہ ہو تو فرض غسل کرنے کا طریقہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میری طبیعت ٹھیک نہیں،میں جل گئی ہوں، پوری ایک ٹانگ جلی ہوئی ہے،پاؤں بھی انگلی بھی اور جلے ہوئے دو ہفتے ہو چکے ہیں۔ کل مجھ پر نفاس کا غسل فرض ہو چکا ہے، تو اگر میں غسل کرتی ہوں، تومیرے زخم خراب ہونے کا ڈر ہے، زخم پر ساری پٹیاں کی ہوئی ہیں، اب زخم تھوڑا بہتری کی طرف ہے، زخم پر پانی نہیں لگانا،میں پریشان ہوں، میں کیا کروں، پاکی بھی حاصل کرنا چاہتی ہوں اور زخم خراب ہونے سے بھی ڈرتی ہوں، پٹیاں کھلنے میں ایک ہفتہ باقی ہے، اگلے سوموار کو میری پٹیاں کھلیں گی، اور مزید دو پٹیاں ہوں گی جس سے زخم کافی حد تک بہتر ہو جائے گا، تو اگر اس صورت میں میں نہا لیتی ہوں، تو مزید خرابی نہ ہو جائے، اگر نہیں نہاتی، تو پاکی کیسے حاصل ہوگی، پلیز میری رہنمائی فرمائیں، میں بہت پریشان ہوں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں زخم والی ٹانگ کے علاوہ بقیہ تمام بدن پر پانی بہانا ضروری ہے، اور ٹانگ کے جس حصے پرزخم ہے، اگر اسے پانی سے دھونے سے نقصان نہ ہوگا، تو اسے پانی سے دھوناضروری ہے، اور اگر ایسا ہو کہ ٹھنڈے پانی سےدھونا نقصان دہ ہوگا، لیکن گرم پانی سے دھونانقصان دہ نہیں ہوگا، تو ایسی صورت میں گرم پانی سے دھونا ضروری ہوگا، اور اگر اس پر ہر طرح کا پانی بہانے سےنقصان ہوگا(مثلازخم بڑھ جائے گا، یادیر میں ٹھیک ہوگاوغیرہ) تو اتنے حصے پرپانی بہانامعاف ہے، ایسی صورت میں اگر پٹی اتار کر اس حصے کا مسح کرسکتی ہوں، تو پٹی اتار کر مسح کرنا ضروری ہے، اور اگر پٹی اتار کر مسح کرنا ممکن نہیں، مثلا اگر پٹی اتاری تودوبارہ ویسی نہیں ہوسکے گی، اور کھلے رہنے میں زخم کو نقصان ہوگا، یا پٹی تو دوبارہ بندھ جائے گی، لیکن زخم والے حصے پر مسح کرنے سے اسے نقصان ہوگا، تو ایسی صورت میں پٹی پر مسح کرنا کافی ہوگا۔ اور ٹانگ کا جو حصہ ٹھیک ہے، تو اگر اس پر پانی بہانے سے زخم کی طرف پانی نہیں جائے گا، تو اس پر بھی پانی بہانا ضروری ہے، اور اگر ٹانگ کا کوئی حصہ ٹھیک نہ ہو، یا کچھ حصہ ٹھیک ہو، لیکن اس پر پانی بہانے سے زخم پر پانی جائے گا، جو اس کے لیے نقصان دہ ہوگا، تو ایسی صورت میں اس ٹھیک حصے پر بھی مسح کرنا کافی ہوگا۔ نیز اس کے ساتھ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اگر زخم ٹانگ کی ایک طرف ہے، اور بالمقابل حصہ سلامت ہے، تو اگر پٹی کھول کر اس پر پانی بہانا ممکن ہو، تو اس سلامت حصے پر پانی بہانا ضروری رہے گا، لیکن اگرپٹی اتارنے میں ضرر ہو، یا پٹی اتر تو سکتی ہے، لیکن پھر دوبارہ ویسے باندھی نہیں جاسکتی، اور دوبارہ ویسے نہ باندھنے میں ضرر ہوگا،تو ایسی صورت میں ساری پٹی پر مسح کافی ہوگا، یعنی زخم والے حصے کے بالمقابل جوسلامت حصہ ہے، اس پر بھی پٹی کے اوپر سے مسح کرناکافی ہوگا۔
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے (فمن كان به جراحة) يضرها الماء و وجب عليه الغسل (غسل بدنه إلا موضعها و لا يتيمم لها) و كذلك إن كانت الجراحة فی شئ من أعضاء الوضوء غسل الباقی إلا موضعها و لا يتيمم لها" ترجمہ: جسے ایسا زخم ہو، جس پر پانی بہانا نقصا ن دے، اور اس پر غسل لازم ہوجائے تو زخم والی جگہ کے علاوہ باقی بدن پر پانی بہائے، اور وہ اس زخم کی وجہ سے تیمم نہیں کرے گا۔ اور اسی طرح اگر اعضائے وضو میں سے کسی عضو پر زخم ہوجائے، تو زخم والی جگہ کے علاوہ باقی اعضا پر پانی بہائے، اور وہ اس زخم کی وجہ سے تیمم نہیں کرے گا۔ (الاختیار لتعلیل المختار، جلد 1، صفحہ 23، مطبوعہ: قاہرہ)
درمختار میں ہے "لزوم غسل المحل ولو بماء حار ،فإن ضر مسحه، فإن ضر مسحها،فإن ضر سقط أصلا'' ترجمہ: زخم کی جگہ کو دھونا لازم ہے، اگرچہ گرم پانی کے ساتھ، اور اگردھونے سے ضَرر (یعنی نقصان) ہو تو زخم پر مسح کرے، اگر زخم پر مسح کرنے سے بھی ضَرر ہو تو پٹی پر مسح کرے اور اگر اس سے بھی ضَرر ہو تو (مسح یا دھونا) اصلاً معاف ہوجائے گا (جب تک ایسی حالت رہے)۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 1، صفحہ 517، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: کسی زخم پر پٹی وغیرہ بندھی ہو کہ اس کے کھولنے میں ضرر یا حَرَج ہو۔ ۔ ۔ تو اس پورے عُضْوْ کو مسح کریں اور نہ ہو سکے، تو پٹی پر مسح کافی ہے اور پٹی مَوضَعِ حاجت سے زِیادہ نہ رکھی جائے، ورنہ مسح کافی نہ ہوگا اور اگر پٹی مَوضَعِ حاجت ہی پر بندھی ہے، مثلاً بازو پر ایک طرف زخم ہے اور پٹی باندھنے کے لیے بازو کی اتنی ساری گولائی پر ہونا اس کا ضرور ہے، تو اس کے نیچے بدن کا وہ حصہ بھی آئے گا، جسے پانی ضرر نہیں کرتا، تو اگر کھولنا ممکن ہو کھول کر اس حصہ کا دھونا فرض ہے اور اگر ناممکن ہو، اگرچہ یوہیں کہ کھول کر پھرو یسی نہ باندھ سکے گا اور اس میں ضرر کا اندیشہ ہے،تو ساری پٹی پر مسح کر لے کافی ہے، بدن کا وہ اچھا حصہ بھی دھونے سے معاف ہو جائے گا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 318، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5158
تاریخ اجراء: 21 محرم الحرام 1448ھ / 07 جولائی 2026ء