
مسافر امام کے پیچھے مقیم مقتدی کی نماز کا طریقہ
سوال: امام صاحب شرعی مسافرتھے جس کی وجہ سےانہوں نے چاررکعت والی نمازمیں قصرکرنی تھی،ایک رکعت ہوچکی تھی کہ ایک مقیم شخص نے ان کی اقتدا کی، ایک رکعت امام صاحب کے ساتھ پڑھی ،قعدہ کیا،امام صاحب نے سلام پھیردیا،اب مقیم مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعداپنی بقیہ رکعتیں کیسے اداکرے گا،اس کاطریقہ وضاحت کے ساتھ بیان فرمائیں۔
کیا کسی بزرگ نےعشاء کہ وضو سے فجر پڑھی ہے؟
جواب: جماعت کا یہ طریقہ تھا کہ وہ عشاء کے وضوسے فجر کی نماز ادا فرماتے تھے ۔ ابو طالب مکی نے حکایت کیا کہ یہ واقعات تواتر کےساتھ منقول ہیں اور چالیس تابعین...
اکیلے نماز پڑھنے والے کے پیچھے کسی کا اقتداء کرنا کیسا؟
جواب: جماعت کا ثواب بھی حاصل ہوجائے،ورنہ اگر نیت نہ بھی کرے،تو جماعت بہر حال ہوجائے گی،بس جماعت کا ثواب نہیں ملے گا۔ ہاں اس میں یہ خیال رہے کہ اگرنمازجہ...
کیا تراویح کی جماعت میں عشاء کے فرض کی نیت سے شامل ہوسکتے ہیں؟
سوال: تراویح کی جماعت ہورہی ہو، تو کیا اس میں عشاء کے فرض کی نیت سے شامل ہوسکتے ہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔ سائل: محمد فیصل(via،میل)
جمعہ کا خطبہ کوئی اور دے، امامت کوئی اور کروائے تو کیا حکم ہے؟
جواب: جماعت کروانا افضل ہے، البتہ اگر ایک شخص خطبہ دے اور دوسرا جماعت کروا دے تو یہ بھی جائز ہے۔ ایک ہی شخص کا خطیب وامام ہونا افضل ہے، شرط نہیں، چنانچہ علا...
تحیۃ الوضو اور تہجد کی ایک ساتھ نیت کرنا
سوال: کیا تحیۃ الوضو اور تہجد کی ایک ساتھ نیت کر سکتے ہیں؟
نماز کے دوران پسینہ صاف کرنے کا حکم
سوال: اگر دورانِ نماز پیشانی یا چہرے پر پسینہ آئے، تو اپنے بازو کو منہ پر پھیر کر پسینہ صاف کر سکتے ہیں؟
سُترہ ایک انگل موٹا ہونا لازم ہے ؟نیزپردے یا باریک شیشے کے ذریعے سُترہ ہو جائےگا؟
سوال: نمازی کے آگے سے گزرنے کے لیے جو سترہ رکھتے ہیں، کیا اس کا ایک انگلی کے برابر موٹا ہونا ضروری ہے یا صرف مستحب ہے ؟یعنی اگر کسی نمازی کے سامنے ایک انگلی سے بھی باریک چھڑی نصب کی گئی ہویا اوپر سے زمین تک لٹکتا ہوا کپڑے کا پردہ ہو یا ایک انگلی سے باریک شیشہ ہو جیسا کہ عام طور پر مساجد وغیرہ میں ہوتا ہے،تو کیاان صورتوں میں سترہ ہو جائے گا؟اورنمازی کے آگے سے گزرنے والا گنہگار ہوگا یا نہیں ؟ بحرالرائق میں ہے: ’’اختلفوا فی مقدار غلظھا ففی الھدایۃ وینبغی أن تکون فی غلظ الاصبع لأن ما دونہ لا یبدو للناظر وکان مستندہ ما رواہ الحاکم مرفوعا استتروا فی صلاتکم ولو بسھم ویشکل علیہ ما رواہ الحاکم عن أبی ھریرۃ مرفوعا یجزیٔ من الستر قدر مؤخرۃ الرحل ولو بدقۃ شعرۃ ولھذا جعل بیان الغلظ فی البدائع قولا ضعیفا وأنہ لا اعتبار بالعرض وظاھرہ أنہ المذھب‘‘ ترجمہ:سترے کی موٹائی کی مقدار میں اختلاف ہے ،ہدایہ میں ہے کہ ایک انگلی کے برابر موٹا ہو، کیونکہ اس سے کم ہونے کی صورت میں دیکھنے والے کو ظا ہر نہیں ہوگا اور اور ان کا استناد اس مرفوع حدیث سے ہے جسے امام حاکم نے روایت کیا کہ نماز میں سترہ رکھو ،اگرچہ تیر کے ساتھ۔ اس پر اس روایت سے اشکال ہوتا ہے ،جو امام حاکم نے حضرت ابو ہریرہ سے مرفوعا روایت کی کہ سترے کے لیے کجاوے کی پچھلی لکڑی کافی ہے،اگرچہ وہ بال برابر باریک ہو ، اسی وجہ سے موٹائی کے بیان کو صاحب بدائع نے ضعیف قول قرار دیا اور کہا کہ چوڑائی کا اعتبار نہیں ہے ، اور بظاہر یہی مذہب ہے ۔(بحر، جلد2، صفحہ18)اس عبارت سے تو یہی لگتا ہے کہ موٹائی ہونا ضروری نہیں۔
کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا رکوع حقیقی ہوتا ہے یا رکوع کا اشارہ؟
جواب: ساتھ معمولی سا کمر میں بھی آگے کی جانب جھکاؤ پیدا کرنا، مگر اُس جھکاؤ کے نتیجے میں نمازی کی پیشانی اُس کے گھٹنوں کے مقابل نہ ہو۔ یہ حقیقی رکوع ہے، رک...
پائنچے فولڈ کر کے نماز پڑھناکیسا؟
جواب: ساتھ اداکی گئی ہو۔ جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔‘‘ملتقطاً(فتاویٰ رضویہ، جلد7،صفحہ309،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور) خلیلِ ملت ، مفتی محمد خلیل خان قاد...