
مُستحاضہ کا قرآن کو ٹچ کرنا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ کیا اسلامی بہن حالتِ استحاضہ میں وضو کر کے قرآن حکیم کو چھو سکتی ہے؟
وطن اقامت میں سامان رکھا ہو، تو پھر بھی سفرِ شرعی سے باطل ہوجائے گا؟
سوال: علمائے کرام سے سُن رکھا تھا کہ کسی کی وطن اقامت میں پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت ہے، تواس کے لئے وہاں قصر نماز ہوگی۔ اب ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ وطن اقامت میں اگر اس کا ایک کمرہ ہے ، جس میں اس کاضروریات کاسامان ہے اور اس کی چابی بھی اس کے پاس ہے، تو اگر کسی بھی وقت اس نے وہاں پندرہ دن رہنے کی نیت کرلی تو مقیم ہو جائے گا۔ وطنِ اقامت،وطنِ اصلی میں آنے جانے کی وجہ سے باطل نہ ہوگا۔ وطن اصلی سے وطن اقامت میں آتے ہی وہ مقیم ہوجائے گا،اگرچہ وطن اقامت میں اس نے پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت کی ہو۔ ان کی دلیل بحرکایہ جزئیہ ہے : ”وفی المحیط: ولوکان لہ اھل بالکوفة واھل بالبصرة، فمات اھلہ بالبصرة لاتبقی وطنا لہ، وقیل: تبقی وطنا،لانھا کانت وطنا لہ بالاھل والدار جمیعا فبزوال احدھما لایرتفع الوطن، کوطن الاقامة یبقی ببقاء الثقل وان اقام بموضع آخر۔ ملخصا“ ترجمہ:اورمحیط میں ہے: اگرکسی کی ایک بیوی کوفہ میں اور ایک بیوی بصرہ میں ہو،پھر بصرہ والی بیوی فوت ہوجائے ،تو بصرہ اس کا وطن باقی نہ رہے گا اور کہا گیا ہے کہ بصرہ وطن باقی رہے گا،کیونکہ وہ اس کی بیوی اورگھردونوں کی وجہ سےاس کاوطن تھا،توان میں سے ایک کے ختم ہونے سے وطن ختم نہیں ہوگا۔جیسے وطن اقامت سامان کے باقی رہنے سے باقی رہتاہے، اگرچہ دوسرے مقام پراقامت اختیار کی ہو۔ )بحرالرائق، جلد 2، صفحہ 239،مطبوعہ کوئٹہ( اس سے دلیل یوں لی گئی ہے کہ : صاحبِ بحر نے تصریح کی ہے کہ بقاء ثقل یعنی سامانِ رہائش وغیرہ کے باقی رہنے سے وطن اقامت باقی رہتا ہے، اگرچہ دوسری جگہ سفر اختیار کرلے۔ اور دوسری دلیل بدائع کا یہ جزئیہ ہے :”وینقض بالسفر ایضا، لان توطنہ فی ھذا المقام لیس للقرار، ولکن لحاجة، فاذا سافر منہ یستدل بہ علی قضاء حاجتہ فصار معرضا عن التوطن بہ فصار ناقضاً لہ دلالة“ترجمہ:اور وطن اقامت ،سفرسے بھی ختم ہوجاتاہے، کیونکہ اس کا اس مقام پر وطن بنانا ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں ہے ،بلکہ حاجت کے لیے ہے پس جب وہ اس مقام سے سفرکرے گا،تو اس سے اس کی حاجت پوری ہونے پر دلیل پکڑی جائے گی، تو وہ اس جگہ کو وطن بنانے سے اعراض کرنے والا ہوجائےگا اور اس وطن کو دلالۃً ختم کرنے والا ہوجائے گا۔ (بدائع الصنائع ،جلد 1، صفحہ 498،مطبوعہ کوئٹہ) اس سے دلیل یوں لی گئی ہے کہ:امام کاسانی رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ تعلیل سے یہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ وطن اقامت کو باطل کرنے والے سفر سے مراد یہ ہے کہ اب یہاں رہائش کی حاجت نہ رہے اور جانے والا اس مقام کی وطنیت کو ختم کردے اور یہ اس سفر میں ہوتا ہے جو کہ بصورت ارتحال ہوتا ہے اور وطن اقامت میں کچھ بھی نہ رہے۔ اس کے برخلاف جس شہر یا جگہ میں کامل رہائش ہے، رہائش کی نیت بھی ہے اور رہائش کا سامان بھی وہیں ہے، اگرچہ وہ اس کا وطن اصلی نہیں ہے، تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس شخص نے اپنا وطن اقامت ختم نہیں کیا۔ اس پس منظرمیں چندسوالات کے جوابات درکارہیں : (1)کیاایساہے کہ سامان کی وجہ سے وطن اقامت باقی رہتاہے،باطل نہیں ہوتا،اگرچہ وہ وہاں سے سفرشرعی کی مسافت پرچلاجائےیاوطن اصلی میں بھی چلاجائے ؟ (2)اگرایسانہیں ہے توپھرجوجزئیات اوپرمذکورہوئے ان کاکیاجواب ہوگا؟ (3)ایک دینی طالب علم جوکم ازکم ایک سال تک کسی مدرسہ میں قیام کا ارادہ رکھتا ہو، اور وہ ایک بار پندرہ دن سے زائد کی نیت سے مذکورہ مدرسہ میں قیام کرچکا ہے ۔اور وہ مدرسہ اس کے وطن سے شرعی مسافت پرہو، اب اگر وہ مدرسہ میں پندرہ دن سے کم کی نیت سے آئے، تو کیا مدرسہ میں قصر نماز پڑھے یا پوری ؟ جبکہ وہ مدرسہ کے جس کمرہ میں رہتا ہے اس کے مشترکہ تالے کی ایک چابی اس کے پاس ہے، اس کا ذاتی بستر، چار پائی،پیٹی اور کپڑوں کا بیگ وغیرہ مدرسہ میں ہوتا ہے۔یہی معاملہ اگرکسی ملازم کے ساتھ پیش آئے کہ وہ سفرشرعی کی مسافت پر موجود اپنی جائے ملازمت پرمالک کی طرف سے ملنے والاایک عارضی کمرہ رکھتاہے ،جس میں اس کاسامان وغیرہ ہے اوروہاں ایک مرتبہ وہ وطن اقامت اختیارکرلیتاہے،تواب وہاں سے اپنے وطن اصلی مسافت شرعی کی مدت پرجانے کی صورت میں اس کاوطن اقامت باطل ہوگایانہیں ؟ (4)اب تک اگر وہ طالب علم شرعی مسافت طے کرکے، پندرہ دن سے کم رہنے کی صورت میں قصر نمازیں پڑھتا اور پڑھاتا رہا، تو اس کی ان گزشتہ نمازوں کا کیا حکم ہوگا؟
مغرب کی اذان کے دوران روزے دار کھانے پینے سے گنہگار ہوگا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رمضان یا نفل روزے میں روزہ کھولتے وقت اذان ہوتی ہے، تو لوگ افطار کرتے رہتے ہیں، اذان کا جواب دینے کے لیے رُکتے نہیں ہیں، تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اذان ہوتے وقت افطار کرتے رہنے والے لوگ گنہگار ہوں گے یا نہیں؟
بچے کو ناپاک کپڑا سکھا کر واپس پہنانا کیسا؟
جواب: باندھ دو، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھک دو اگرچہ اس پر کوئی چیز ہی کھڑی کردو۔“ (صحیح البخاری، باب صفۃ ابلیس و جنودہ، ج 03، ص 1195، دار ابن كث...
نابالغ بچوں کا بڑوں کی صف میں کھڑا ہونے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ سمجھدار اورناسمجھ بچےبالغوں کی صف میں کھڑےہوجائیں اورنمازشروع کردیں ، توبعد میں آنے والےنمازی کاان کو صف سےپیچھےکرناکیساہے؟ سائل:غلام سرور(خداکی بستی،سرجانی ٹاؤن،کراچی)
حج تمتع میں حج کا احرام باندھنے سے پہلے کی گئی سعی کا حکم
سوال: حج تمتع کرنے والے نے عمرہ کے بعد احرام کھول دیا، اب وہ حج کا احرام باندھنے سے پہلے اگر نفلی طواف کرے اور اُس کے بعد حج کی سَعی کر لے، تو کیا یہ سَعی کفایت کرے گی؟
جس کا دایاں ہاتھ نہ ہو، اس کے لیے تشہد میں انگلی سے اشارے کا کیا حکم ہے؟
سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا سیدھا ہاتھ پیدائشی شَل ہوا ہے یعنی مرجھایا ہوا ہے، جس وجہ سے یہ ہاتھ بالکل بے جان ہے اور کام نہیں کرتا۔ سارے کام بائیں ہاتھ سے کرتا ہوں۔نماز سے متعلق پوچھنا ہے کہ نماز میں تشہد میں جب انگلی اٹھاتے ہیں، تو اس وقت میرے لیے کیا حکم ہے؟ کیا میں بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی اٹھاؤں یا بالکل نہیں اٹھاؤں گا؟ شرعی رہنمائی فرما دیں۔
ہائی نیک ،سویٹر، دوپٹہ وغیرہ فولڈ کر کے نماز پڑھنے کا حکم
سوال: نماز میں کپڑے فولڈ کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ ہائی نیک کو گردن سے فولڈ کیا جاتا ہے ، اِسی طرح شلوار کے نیچے گرم پاجامے کو بھی پائنچوں سے فولڈ کرنا ، سویٹر وغیرہ کو نیچے سے فولڈ کرنا اور اسی طرح آج کل لڑکیاں حجاب بناتے ہوئے آگے سے دوپٹے کو فولڈ کرتی ہیں، تاکہ اچھا دِکھے، کیا یہ سب اُس فولڈنگ میں آئے گا، جو نماز میں منع ہے؟
حیض کی وجہ سے روزے رہ جائیں تو کیا ان کی قضا ضروری ہے؟ نیز قضا کا وقت کب تک ہے؟
جواب: باندھنا ہے جوکہ سخت ناجائز وحرام ہےاور قرآن و حدیث میں اس کی شدید مذمت بیان ہوئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَ...
گوشت، جگر، تلی اور دل کے خون کا حکم
سوال: حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں ۔۔۔۔۔ (10)جگر (یعنی کلیجی)کا خون (11)تلی کا خون (12)گوشت کا خون کہ بعدِ ذبح گوشت میں سے نکلتا ہے (13)دل کا خون ۔۔ الخ“ (فتاویٰ رضویہ ج۲۰ ص ۲۴۰ ، ۲۴۱) یہاں چار طرح کے خون کا تذکرہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مکروہ تحریمی ہیں یا تنزیہی؟