
کمیٹی رمضان کے بعد نکلنی ہے، تو اس پر زکوۃ ہوگی یا نہیں ؟
سوال: زید نے کمیٹی ڈالی ہوئی ہے جو رمضان شریف کے بعد نکلنی ہے کیا اس پر بھی زکوۃ واجب ہے؟
صاحبِ نصاب کے تین کمیٹیاں جمع کروانے کے بعد ہی کمیٹی نکل آئی، تو زکوۃ کا حکم
سوال: میں پہلے سے صاحبِ نصاب ہوں اور نصاب کا سال رجب کی پہلی تاریخ کو پورا ہوتا ہے ، میں نے ایک کمیٹی ڈالی ہوئی ہے ، جس کی دو قسطیں یعنی تیس ہزار روپے ادا کرچکا ہوں ، تیسرے مہینے میری 285000 روپے کی کمیٹی نکل آئی ۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ مجھے اس ملنے والی پوری رقم پر زکوٰۃ دینی ہوگی یا صرف تیس ہزار پر زکوٰۃ ہوگی؟
کمیٹی کی قسطیں نصاب سے مائنس کرنا
سوال: میں نے کمیٹی ڈالی تھی جس کی آدھی ادائیگی میں کرچکا ہوں اور بی سی کی مکمل رقم لے چکا ہوں، ہاں مجھ پر آدھی کی ادائیگی ابھی باقی ہے، اب زکاۃ کے معاملے میں جو مجھ پر باقی ادائیگی ہے، اس کو مائنس کیا جائے گا یا نہیں؟ باقی ادائیگی کی کل رقم 75 ہزار ہے۔
مسجد کے چندے سے کمیٹی ڈالنے کا حکم
سوال: کہ مسجد کی انتظامیہ نے مسجد کی توسیع و تعمیر کے لیے مسجدسے متصل ہی ایک پلاٹ خریدنے کے لیے کئی لوگوں سے چندہ کیا ،پلاٹ خریدنے کے بعد کچھ رقم کی ادئیگی باقی ہے، کوئی ایسے ذرائع نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی فنڈ جمع ہے جس سے مسجد کے پلاٹ کی قیمت مکمل ادا کی جا سکے ۔پلاٹ کی بقیہ قیمت کی ادائیگی اور اس پلاٹ پر تعمیر کرنے کےلیے جو رقم کی حاجت ہے، اس کے متعلق مسجد کی کمیٹی کے افراد میں سے کسی نے مشورہ دیا کہ ایک کمیٹی ڈالی جائے اور پہلی کمیٹی مسجد کو مل جائے، اس میں مسجد کو ایڈوانس کوئی کمیٹی نہیں دینی پڑے گی، بلکہ پہلی بار ہی کمیٹی کی کل رقم مسجد کو مل جائے گی اور پہلی کمیٹی ملنے کے بعد بقیہ کمیٹیوں کی ادائیگی چندے کی مد سے ہر ماہ کر دی جائے گی ۔ اس طرح پلاٹ کی قیمت کی ادائیگی اور اس پر تعمیر کے لیے اخراجات کی رقم حاصل ہو جائے گی۔پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح چندے سے کمیٹی ڈال سکتے ہیں یا نہیں؟شرعی رہنمائی فرما دیں۔ نوٹ!سوال میں بیان کردہ کمیٹی کا طریقہ کار جب معلوم کیا، تو وہ درست تھا، جیسا کہ عام طور پر کمیٹی اس طرح ڈالی جاتی ہے کہ ہرمہینے کچھ افرادمقررہ مقدار میں پیسےجمع کرواتےہیں اور کسی ایک کا نام منتخب کرکے جمع شدہ پیسے اسے دے دیتےہیں ، یوں آگے پیچھے تمام افراد کوایک ایک کرکے اپنے جمع کروائےہوئے پیسے مل جاتےہیں۔
سوال: بولی والی کمیٹی کا شرعی حکم کیا ہے؟ہمارے ہاں اس کا طریقہ یہ ہے کہ کمیٹی میں شامل ہونے والے افراد ہر ماہ ایک جگہ جمع ہوکر کمیٹی ہولڈر کو رقم جمع کرواتے ہیں،پھر اسی جگہ بولی لگتی ہے،جو ممبر سب سے کم بولی لگاتا ہے،اسے اتنی کمیٹی دے کر بقیہ رقم دیگر ممبران میں تقسیم کر دی جاتی ہے،مثلاً 10 لاکھ کی کمیٹی ہے اور 9لاکھ بولی لگی،تو 9لاکھ بولی لگانے والے کو دے کر 1لاکھ ممبران میں تقسیم کر دیا جاتا ہے، لیکن کمیٹی لینے والے کو ہر ماہ کمیٹی جمع کروا کر 10لاکھ پورے کرنے ہوتے ہیں،یعنی رقم وہ کم لیتا ہے،لیکن ادائیگی زیادہ کرتا ہے۔البتہ کمیٹی ہولڈر اور آخر میں لینے والے دونوں کو بغیر بولی کے پوری کمیٹی ملتی ہے، ہاں ان کو بھی بقیہ ممبران کی کمیٹی سے اضافی رقم ملتی رہتی ہے۔بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہر ممبر اپنی مرضی سے کم بولی لگا کر بقیہ رقم چھوڑتا ہے،لہذا بقیہ ممبران کیلئے وہ رقم جائز ہے۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ایسی کمیٹی شروع کرنا کیسا ،اگر کسی نے کر لی ہو اور اضافی رقم بھی لے چکا ہو،تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
کمیٹی (B.C)جمع کرنے والے سے کمیٹی کی رقم چوری ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
سوال: کمیٹی جمع کرنے والے سے اگرکمیٹی کی رقم چوری ہوجائے، توکیا حکم ہوگا، کیا دیگرممبران، ایڈمن یعنی کمیٹی جمع کرنے والے سے اپنی رقم کامطالبہ کرسکتے ہیں یانہیں؟
ایڈوانس زکوۃ کی مد میں دی ہوئی رقم پر زکوۃ لازم ہوگی ؟
سوال: ایک شخص نے اپنے مالِ زکوۃ پر نصاب کا سال پورا ہونے سے پہلے ہی ایڈوانس زکوۃ ادا کر دی، جب نصاب کا سال پورا ہوگا، تو جو رقم ایڈوانس زکوۃ کی مد میں دے چکا تھا، کیا اس رقم کی بھی زکوۃ ادا کرے گا؟ کیونکہ وہ رقم ایڈوانس زکوۃ میں دینا اس پر لازم نہیں تھا، اگر وہ ایڈوانس زکوۃ کی مد میں نہ دیتا تو آج وہ رقم اس کے پاس ہوتی، تو اس کی زکوۃ بھی یہ نکالتا۔مثلاً: ایک شخص کے پاس ایک کروڑ کی مالیت کا مالِ زکوۃ موجود ہے، جس کی وہ ہر سال زکوۃ ادا کرتا آرہا ہے اور اس کے نصاب کا سال یکم ذو الحجہ کو مکمل ہوتا ہے۔ اب اس شخص نے اپنے اوپر بننے والی اڑھائی لاکھ زکوۃ یکم ذو الحجہ سے پہلے رمضان شریف میں ہی ادا کر دی، تو جب یکم ذو الحجہ کو اس کا سال پورا ہوگا، اس وقت اس اڑھائی لاکھ کی بھی زکوۃ ادا کرے گا، جو ایڈوانس زکوۃ کی مد میں دے چکا ہے؟
کمیٹی ایڈمن کمیٹی کی رقم اپنے استعمال میں لاسکتا ہے؟
سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلےکےبارے میں کہ جس شخص کے پاس کمیٹی کی رقم جمع ہو،کیاوہ کمیٹی کی رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لاسکتاہے؟جبکہ کمیٹی نکلنے کے وقت تمام استعمال کی ہوئی رقم کمیٹی کی رقم میں شامل کردے گا۔اس بارے میں تفصیلاً رہنمائی فرما دیں۔
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بینکوں کی جانب سے مختلف اسکیمیں سامنے آتی رہتی ہیں، فی الحال ایک بینک کی جانب سے ایک اسکیم،کمیٹی کے نام کے ساتھ منظر عام پر آئی ہے ،کہ بینک کے ساتھ کمیٹی ڈالئے،نہ کمیٹی ڈوبنےکی فکراور دیگر پریشانیوں سے بھی نجات ۔ 12یا18 یا 24 ماہ کی بینک کے ساتھ کمیٹی ڈالی جاسکتی ہے ،جس میں منتخب شدہ مدت کے مکمل ہونے اور تمام اقساط کی ادائیگی پرکسٹمر کو Bank Contribution بھی حاصل ہوگا، جبکہ مکمل منتخب شدہ مدت مکمل ہونے سے قبل اگرکسٹمر اپنی جمع شدہ رقم لینا چاہے تو بغیر کسی Penaltyکے لے سکتاہے،البتہ ایسی صورت میں Bank Contributionنہیں ملےگا۔بینک،Bank Contribution کے نام پر 24 لاکھ کی کمیٹی پر 1 لاکھ ،18 لاکھ کی کمیٹی پر 50 ہزار اور 12لاکھ کی کمیٹی پر 25 ہزار دے رہا ہے ۔ مذکورہ تفصیل کی روشنی میں یہ معلوم کرنا ہے کہ بینک کے ساتھ اس طرح کی کمیٹی ڈالنا جائز ہے یا نہیں؟
قرض معاف کر دیا، تو اس کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی ؟
سوال: زید نے2017میں بکراورخالد کو3سال کے لیےایک ایک لاکھ روپیہ قرض دیا تھا۔تین سال گزر گئے ،مگر وہ دونوں مالی اسباب نہ ہونے کے سبب قرض ادا نہیں کرسکے۔ اس کو اب 6 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔بکراب بھی قرض ادا کرنے پر قادر نہیں اوربکر شرعی فقیر ہے،جبکہ خالدادائیگی کی قدرت رکھتا ہےاورغنی بھی ہے،لیکن زید نے دونوں کو قرض معاف کردیا ہے،بکر کواس کی ناداری کے سبب اور خالد کو اس سبب کہ خالد اس کا بہنوئی ہے۔زید نے6 سالوں میں ان دو لاکھ روپے کی زکوۃ بھی نہیں نکالی۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا زید پر اس رقم کی گزشتہ 6 سالوں کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہے؟اگر لازم ہے،تو پچھلے سالوں کی زکوۃ نکالنے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟واضح رہے کہ زیدکئی سالوں سےصاحبِ نصاب ہے اورہر سال زکوۃ نکالتا رہتا ہے۔