دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جس شخص کے پاس کمیٹی کی رقم جمع ہو، کیا وہ کمیٹی کی رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لاسکتا ہے؟ جبکہ کمیٹی نکلنے کے وقت تمام استعمال کی ہوئی رقم کمیٹی کی رقم میں شامل کردے گا۔ اس بارے میں تفصیلاً رہنمائی فرما دیں۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
سوال کا جواب جاننے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کمیٹی ایڈمن یعنی رقم جمع کرنے والے کے پاس کمیٹی کی جمع شدہ رقم کی حیثیت کیا ہے؟ یہ حیثیت دو صورتوں میں متعین ہوتی ہے:
(1) قرض (2) امانت
رقم کی حیثیت کی وضاحت:
قرض کی صورت: اگر کمیٹی ممبران کی طرف سے ایڈمن کو صراحتاً یا دلالتاً یہ اجازت دی گئی ہو کہ وہ جمع شدہ رقم کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے، تو ایسی صورت میں یہ رقم قرض شمارہوگی۔
امانت کی صورت: اگر صراحتاً یہ طے ہو کہ جمع شدہ رقم بعینہ محفوظ رکھی جائے گی اور ایڈمن اسے اپنے استعمال میں نہیں لائے گا، تو یہ رقم امانت شمار ہوگی۔
عرف کا اعتبار: اگر امانت یا قرض ہونے کی صراحت نہ کی گئی ہو تو شریعتِ مطہرہ کا اصول یہ ہے کہ پھرعرف کو دیکھا جائے گا۔
· اگرعرف یہ ہو کہ لوگ رقم کو استعمال کی اجازت کے ساتھ جمع کرواتے ہیں، تو رقم قرض شمار ہوگی، جیسا کہ عام طور پر مارکیٹوں میں چلنے والی کمیٹیاں۔
· اگرعرف یہ ہو کہ رقم بعینہٖ محفوظ رکھی جاتی ہے، جیسا کہ گھروں میں چلنے والی بعض چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں، تو ایسی صورت میں یہ رقم امانت ہوگی۔
تمہیدی گفتگو سمجھنے کے بعد نفسِ مسئلہ کا جواب یہ ہے کہ:
اگر ایڈمن کے پاس کمیٹی کی جمع شدہ رقم کی حیثیت قرض کی ہو یا وہاں کاعرف یہ ہو کہ لوگ استعمال کی اجازت کے ساتھ جمع کرواتے ہوں توایسی صورت میں ایڈمن کمیٹی کی رقم ذاتی استعمال میں خرچ کرسکتا ہے اور قرض خواہ اس سے مطالبہ کا پورا حق رکھتا ہے اور قرض میں مطالبہ کے وقت مثلی چیز کو ادا کرنا لازم ہوتا ہے، لہٰذا ممبران کے مطالبہ کی صورت میں ایڈمن پراتنی رقم واپس کرنا لازم ہوگا۔
اور اگر ایڈمن کے پاس کمیٹی کی رقم بطورِ امانت ہو یا وہاں کا عرف یہ ہو کہ لوگ بعینہٖ وہی رقم محفوظ رکھنے کے لیے جمع کرواتے ہوں، جیسا کہ بعض گھروں میں ڈالی جانے والی کمیٹیوں میں ایسا ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں ایڈمن کو کمیٹی کی رقم خرچ کرنے کی اجازت نہیں، اگر خرچ کرے گا، تو امانت میں خیانت کرنے کی وجہ سے اس پر تاوان لازم ہوگا۔
قرض کی تعریف کے متعلق تنویر الابصار، در مختار اور رد المحتار میں ہے:
ما تعطیہ من مثلی لتتقاضاہ (کان علیہ أن یقول لتتقاضی مثلہ) خرج نحو ودیعۃ و ھبۃ أی خرج ودیعۃ و ھبۃ(و نحوھما کعاریۃ و صدقۃ، لأنہ یجب رد عین الودیعۃ و العاریۃ و لا یجب رد شیء فی الھبۃ و الصدقۃ)
یعنی شرعاً قرض یہ ہے کہ آپ کسی کو مثلی مال (رقم، غلہ، وغیرہ) اس طور پر دیں کہ بعد میں آپ اسی کی مثل واپس لیں گے، اس تعریف سے ودیعت (امانت)، ہبہ (گفٹ)، عاریت اورصدقہ نکل گئے، کیونکہ ودیعت اورعاریت میں تو بعینہ چیز کو لوٹانا واجب ہوتا ہے اور ہبہ و صدقہ میں کچھ بھی لوٹانا واجب نہیں ہوتا۔ (رد المحتار علی الدر مختار، کتاب البیوع، فصل فی القرض، جلد 7، صفحہ 406 - 407، مطبوعہ کوئٹہ)
امانت کی تعریف در مختار میں یوں بیان کی گئی ہے:
”تسلیط الغیر علی حفظ مالہ صریحا أو دلالۃ۔۔۔ (و رکنھا الإیجاب صریحا) کأودعتک۔۔۔ (أو فعلا) کما لو وضع ثوبہ بین یدی رجل ولم یقل شیئا فھو إیداع (و القبول من المودع صریحا) کقبلت (أو دلالۃ) کما لو سکت عند وضعہ فإنہ قبول دلالۃ کوضع ثیابہ فی حمام بمرأی من الثیابی‘‘ ملتقطاً
ترجمہ: کسی کو صراحتا یا دلالۃً اپنے مال کی حفاظت پر مسلط کرنا ودیعت کہلاتا ہے۔ اس کا رکن ایجاب ہے، خواہ وہ صراحتا ہو، جیسے یوں کہا کہ میں نے تمہیں ودیعت دی یاعمل سے ہو، جیسے کسی نے اپنا کپڑا دوسرے کے سامنے رکھ دیا اور کچھ نہ کہا، تو یہ ودیعت رکھنا ہے اور ودیعت کا دوسرا رکن مودع (جس کی حفاظت میں چیزدی گئی) کی طرف سے قبول کرنا ہے، خواہ قبول کرنا صراحتاً ہو، جیسے میں نے قبول کیا یا دلالۃً ہو، جیسے کسی نے اس کے سامنے چیز رکھی اوریہ خاموش رہا، تویہ خاموش رہنا دلالۃً قبول ہے، جیسے حمام میں جامہ دار (لباس کے ایڈمن) کے سامنے کپڑے رکھنا۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الایداع، جلد 8، صفحہ 526، مطبوعہ کوئٹہ)
امانت میں خیانت کرنا، منافقت کی علامت ہے چنانچہ حدیث پاک میں ہے:
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: آیۃ المنافق ثلاث اذا حدث کذب و اذا وعد اخلف و اذا ائتمن خان
ترجمہ: بیشک نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں: (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (2) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (3) جب امانت اس کے سپر د کی جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 01، صفحہ 56، مطبوعہ کراچی)
اور امانت امین کی تعدی سے ہلاک ہوجائے یا امین خود ہی امانت کو ہلاک کردے، تو وہ غاصب ہے اور اس پر تاوان لازم ہوجاتا ہے، جیساکہ فتاوی رضویہ میں ہے: ”اگر دعوٰی استہلاک کا تھا یعنی اتنا زیور اسے عاریۃً دیا تھا اس نے تلف کردیا تو اب یہ بعینہٖ دعوی غصب ہے اور اس کا حکم وہ ہے جو اوپر مذکور ہوا:
و ذٰلک لان الامانات تنقلب مضمونات بالتعدی و الامین یعود بہ غاصبا
یعنی یہ تاوان اس لئے ہےکہ امانتیں تعدی کی وجہ سےمضمون ہوجاتی ہیں اور امین اس تعدی کی وجہ سے غاصب ہوجاتا ہے۔“(فتاوی رضویہ، جلد 18، صفحہ 411، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:ابوالفیضان عرفان احمدمدنی
مصدق:مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر:FSD-9184
تاریخ اجراء:23جمادی الاولیٰ 1446ھ/26نومبر 2024ء