قرض پر نفع کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرض پر نفع کا حکمِ شرعی
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہمارے بڑے بھائی کی مشاورت سے ہمارے والد صاحب نے ہم بھائیوں کو تقریباً 15 لاکھ رقم دے دی اور طے یہ پایا کہ والد صاحب کی یہ رقم ہم بھائی اپنے ذاتی ضروری کاموں میں استعمال کریں گے اور جس بھائی نے جتنی رقم لی ہے وہ اس حساب سے والد صاحب کو نفع دیتا رہے گا، پھر جب والد صاحب کو اس رقم کی ضرورت ہوگی تو انہیں یہ رقم مکمل لوٹادیں گے۔ شرعی رہنمائی فرما دیں کہ کیا گیا یہ معاہدہ درست ہے؟ اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ نیز ابھی تک جو نفع ہم بھائی اپنے والد صاحب کو دے چکے ہیں، اس سے متعلق کیا حکمِ شرعی ہے؟ یہ نفع اس ماہانہ خرچ کے علاوہ ہے جو ہم بھائی اپنے والد صاحب کو پہلے سے دیتے آرہے ہیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کے والد صاحب اور آپ بھائیوں کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ، خالص سودی معاہدہ ہے۔کیونکہ والد صاحب نے جو رقم آپ بھائیوں کو دی ہے، اس کی شرعی حیثیت قرض کی ہے اور قرض کا اصول یہ ہے کہ جتنی رقم قرض دی ہوتی ہے، اُتنی ہی واپس لی جاتی ہے۔ اور قرض سے زیادہ لینا طے کیا جائے، تو یہ سود ہوتا ہے، جس کا لینا دینا ناجائز و حرام اور رحمت الہٰی سے دور لیجانے والا باعثِ لعنت کام ہے۔ لہٰذا آپ سب پر لازم ہے کہ فوراً یہ معاہدہ ختم کریں اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں صدقِ دل سے توبہ کریں۔ نیز آپ کے والد صاحب اس رقم کے عوض جتنی اضافی رقم لے چکے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ یہ اضافی رقم آپ بھائیوں کو واپس کر دیں یا ثواب کی نیت کے بغیر شرعی فقیر پر صدقہ کر دیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2026ء