قرض کی ادائیگی کیلئے سودی قرض لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرض کی ادائیگی کے لئے سودی قرض لینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا قرض ادا کرنے کیلئے سودی قرض لے سکتے ہیں؟
جواب
سودی قرض لینا ناجائز و حرام ہے، سوائے اس شخص کے جسے شریعت مجبور قرار دے، کیونکہ جس طرح سود لينا حرام ہے، اسی طرح دینا بھی حرام ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر قرض کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں ہے، لیکن ضرورت سے زائد کوئی سامان وغیرہ ہے، کہ جسے بیچ کر قرض ادا کرسکتا ہے، تو اسے بیچ کر قرض ادا کرے، اور اگر ایسا کوئی سامان بھی نہیں، تو اب قرض خواہ پر لازم واجب ہے کہ وہ انتظار کرے اورجب تک اسے استطاعت نہ ہو مہلت دے، اور اگر وہ مہلت بھی نہیں دیتا، اور مقروض جانتا ہے کہ اب ادا نہ ہوا، تو قرض خواہ قید کرادے گا، جس وجہ سے بال بچوں کو نفقہ نہ پہنچ سکے گا، اور ذلت و خواری علاوہ، اور فی الحال سودی قرض لینے کے علاوہ کوئی اورصورت قرض ادا کرنے کی نہیں ہے، تو اس صورت میں بقدر ضرورت سودی قرض لینے کی اجازت ہوگی، کہ اب یہ مجبور ہے۔
صحیح مسلم شریف میں ہے "عن جابر، قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اٰکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ و قال ھم سواء" ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ و سلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور سود کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ وہ سب (گناہ میں) برابر ہے۔ (صحیح مسلم، جلد 3، صفحہ 1219، رقم الحدیث: 1598، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے بغیر سخت مجبوری کے جسے شرع بھی مجبور کہے، سودی قرض لینا حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 304، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے رہا ادائے قرض کی نیت سے سودی قرض لینا، اگر جانتا ہے کہ اب ادا نہ ہوا تو قرض خواہ قید کرائے گا جس کے باعث بال بچوں کو نفقہ نہ پہنچ سکے گا اور ذلت و خواری علاوہ، اور فی الحال اس کے سوا کوئی شکل ادا نہیں تو رخصت دی جائے گی کہ ضرورت متحقق ہولی حفظ نفس و تحصیل قوت کی ضرورت تو خود ظاہر اور ذلت و مطعونی سے بچنا بھی ایسا امر ہے جسے شرع نے بہت مہم سمجھا اور اس کے لیے بعض محظورات کو جائز فرمایا ۔۔۔ اور اگراس مفلس قرضدار کی قرضخواہ کی طرف سے اس قسم کے اندیشے نہیں بلکہ صرف حساب آخرت پاک کرنا چاہتا ہے تو ایسی حالت میں سودی قرض لینے کی اجازت مقاصد شرع سے سخت بعید ہے قرضدار جب مفلس ہو تو شرع قرضخواہ پر واجب کرتی ہے کہ انتظارکرے اور جب تک اسے استطاعت نہ ہو مہلت دے۔ (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 300، 301، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4941
تاریخ اجراء: 19 شوال المکرم 1447ھ / 08 اپریل 2026ء