مقروض کی دعا قبول ہوتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مقروض کی دعا کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مفتی صاحب! میں قرض میں مبتلا ہوں، میں روزانہ دعائیں کرتا ہوں... کیا رب میری دعا قبول کرتا ہے؟ تو پھر ابھی تک میرا قرض ذرا بھی کم نہیں ہوا؟ معاف کرنا، میں گلے شکوے نہیں کر رہا ہوں... میری رہنمائی فرمائیں۔
جواب
اللہ تعالی جلد از جلد عافیت کے ساتھ آپ کے لیے قرض کی ادائیگی کے اسباب پیدا فرمائے ، اٰمین بجاہ خاتم النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔ یاد رہے کہ! دعا کی قبولیت کی مختلف صورتیں ہیں: یا جو مانگا ہے، وہ حاصل ہو جاتا ہے، یا پھر اس سے گناہ معاف ہو جاتا ہے، اور یا پھر آخرت میں اس کے لیے ثواب جمع کیا جاتا ہے، اور جب کل قیامت میں انسان اپنی ایسی دعاؤں کا ثواب دیکھے گا، تو وہ تمنا کرے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی اور سب یہیں کے لیے جمع رہتیں۔
لہذا اگر آپ کو دعا کا ثمرہ بظاہر نظر نہیں آ رہا، تو آپ کو پریشا ن اور مایوس نہیں ہونا چاہیے، دنیاوی حکام، عہدہ داران کے پاس لوگ کئی کئی چکر لگاتے ہیں، پھر بھی امید لگائے ہوئے ہوتے ہیں، وہ ذات تو پھر بے نیاز ہے، ہمارا رب تعالی ہے، اس سے ناامیدی کس بات کی؟ لہذا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آپ دعا کرتے رہیں، اور دعا کی قبولیت کے اسباب (مثلاً فرائض و واجبات کی پابندی، گناہوں سے بچنا وغیرہ) اور اس کے آداب (مثلاً دعا کے اول و آخر درود شریف پڑھنا، پوری یکسوئی، دلی توجہ، اور قبولیت کی امید کے ساتھ دعا مانگنا وغیرہ آداب)کی رعایت رکھیں، اور اس پاک بارگاہ سے ہمیشہ امید رکھنی چاہئے کہ بظاہر دنیا میں دعا کی قبولیت نہ بھی ظاہر ہوئی، تو بحکمِ حدیث آخرت میں کثیر اجر وثواب حاصل ہوگا۔
حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ”ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم ولا قطيعة رحم إلا أعطاه الله بها إحدى ثلاث: إما أن يعجل له دعوته وإما أن يدخرها له في الآخرة وإما أن يصرف عنه من السوء مثلها۔ قالوا: إذن نكثر قال: الله أكثر“ یعنی جو بھی مسلمان دعا کرتا ہے جس میں گناہ یا قطعِ رحمی نہ ہو، تو اللہ پاک اسے تین باتوں میں سے کوئی ایک عطا فرماتا ہے۔ یا تو اس کی مانگی ہوئی چیز جلد ی عطا کر دیتا ہے یا اس کی دعا کو اس کے لئے آخرت میں ذخیرہ کر دیتا ہے یا اس سے اسی کی مثل کوئی برائی دور فرما دیتا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: تب تو ہم دعا میں کثرت کریں گے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک اس سے زیادہ عطا فرمائے گا۔ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 697، المکتب الاسلامی، بیروت)
مستدرک للحاکم میں ہے ”قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: فلا يدع الله دعوة دعا بها عبده المؤمن إلا بين له إما أن يكون عجل له في الدنيا و إما أن يكون ادخر له في الآخرة قال: فيقول المؤمن في ذلك المقام: يا ليته لم يكن عجل له في شيء من دعائه“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک اس دعا کو نہیں چھوڑتا جو بندۂ مؤمن کرتا ہے مگر یہ کہ اس کے لئے ظاہر فرما دیتا ہے یا تو اس کو دنیا میں عطا کر دیتا ہے یا اس کی دعا کو آخرت کے لئے ذخیرہ فرما دیتا ہے، فرمایا: مؤمن اس مقام (آخرت میں دعا کے اجر کو دیکھ کر)یہ کہے گا: اے کاش دنیا میں اس کی کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی۔ (المستدرک علی الصحیحین، حدیث 1819، جلد 1، صفحہ 671، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
حدیث پاک میں ہے "ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة، واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل" ترجمہ: اللہ تعالیٰ سے اس حال ميں دعا کرو کہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غافل دل والے کی دعا قبول نہیں فرماتا۔ (سنن الترمذي، جلد 5، صفحہ 517، رقم الحدیث: 3479، مطبوعہ: مصر)
دعا مانگتے وقت درود پاک پڑھنے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی گئی ہے، چنانچہ فضالۃ بن عبيد روایت کرتے ہیں: "بينا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قاعد إذ دخل رجل فصلى فقال: اللهم اغفر لي وارحمني، فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: «عجلت أيها المصلي، إذا صليت فقعدت فاحمد الله بما هو أهله، وصل علي ثم ادعه». قال: ثم صلى رجل آخر بعد ذلك فحمد الله وصلى على النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال له النبي صلی اللہ علیہ وسلم: «أيها المصلي ادع تجب»" ترجمہ: ایک مرتبہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص حاضر ہوا، اس نے نماز ادا کی، پھر دعا کرتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ! میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے نمازی! تم نے جلد ی کی۔ جب تم نماز ادا کرکے بیٹھو تو پہلے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد بیان کرو، اور مجھ پر درود بھیجو، پھر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر ایک دوسرے شخص نے نماز پڑھی۔ اس نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے نمازی! دعا کرو، تمہاری دعا قبول کی جائے گی۔ (سنن الترمذی، جلد 5، صفحہ 516، رقم الحدیث 3476، مطبوعہ: مصر)
نوٹ: قبولیت دعا کے اسباب اور آداب کی تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’فضائلِ دعا‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ یہ کتاب دعوت اسلامی کی ویب سائٹ سے ڈاؤنلوڈ بھی کی جا سکتی ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5003
تاریخ اجراء: 25 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 13 مئی 2026ء