logo logo
AI Search

پرائز بانڈ گفٹ میں لینا اور استعمال کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پرائز بانڈز گفٹ میں لینا اور کیش کروا کر استعمال کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی طور پر پرائز بانڈ خرید سکتے ہیں؟ اور اگر ہمیں کوئی شخص پرائز بانڈ گفٹ دے تو اسے لے کر کیش کروانا اور استعمال کرنا جائز ہوگا؟

جواب

پاکستان میں رائج عام پرائز بانڈ کی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے، اور قرعہ اندازی کے ذریعے اس پر ملنے والا انعام بھی حلال ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں؛ اس لیے کہ عمومی پرائز بانڈ شرعاً مال کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نہ تو قرض کی رسید ہے اور نہ لاٹری ٹکٹ، اور عرفِ عام میں نہ کوئی اسے ایسا سمجھتا ہے، اگر انعام نکلے فبہا ورنہ اس کی اصل مالیت محفوظ رہتی ہے۔ اسے ناجائز قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں؛ کیونکہ اس میں نہ سود کا کوئی پہلو ہے اور نہ جوئے کا کہ اس میں نہ نفع مشروط ہوتا ہے، نہ بلا وجہ نقصان کا کوئی امکان اور نہ ہی ہر بانڈ خریدنے والے کے لیے انعام ملنے کی کوئی ضمانت ہوتی ہے۔ اگر کسی کو یہ پرائز بانڈ تحفے میں ملے تو اسے بیچنا، کیش کروانا اور استعمال کرنا سب جائز ہے؛ کہ ملکیت کی وجہ سے اسے اس کا حق حاصل ہے۔

مذکورہ بالا حکم عمومی پرائز بانڈ کا تھا، البتہ پریمئیم پرائز بانڈ (Premium Prize Bond) کے نام سے چلنے والا بانڈ سراسر سودی ہے، کیونکہ یہ درحقیقت قرض کی رسید ہے اور اس پر ملنے والا سہ ماہی یا ششماہی نفع قرض پر مشروط نفع ہونے کی وجہ سے سود کے زمرے میں آتا ہے؛ اس لیے اس کا خریدنا، بیچنا اور اس سے نفع حاصل کرنا ناجائز و حرام ہے۔

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:

اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا

ترجمہ کنز العرفان: اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔(پارہ 3، سورۃ البقرۃ 2، آیت 275)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں:

و معلوم ان الشرع لم یحد فی ھذا حدا انما احل البیع و ھو مبادلۃ مال بمال الخ و المال کما مرما یمیل الیہ الطبع و یمکن ادخارہ لوقت الحاجۃ

ترجمہ: اور یہ بات معلوم ہے کہ شریعت نے اس باب میں کوئی حد مقرر نہیں کی، محض بیع کو حلال قرار دیا ہے، اور وہ مال کا مال سے تبادلہ کرنا ہے، اور مال جیسا کہ پہلے گزر چکا، وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت میلان کرے اور ضرورت کے وقت کے لیے اسے ذخیرہ کر رکھنا ممکن ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 421، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں: پچاس روپے، سو روپے، پانچ سو روپے یا ایک ہزار روپے کے پرائز بانڈز خریدنا اور ان پر انعام لینا جائز ہے۔ شریعت نے حرام مال کی کچھ صورتیں مقرر کی ہیں جو عمومی طور پر یہ ہیں: (۱) کسی کا مال چوری، غصب، ڈکیتی یا رشوت کے ذریعے لیا جائے، (۲) جوئے میں مال حاصل کیا جائے، (۳) سود میں لیا جائے، (۴) اور یہ کہ بیع باطل میں قیمت لی جائے۔ پرائز بانڈ میں ان میں کی ایک بھی صورت نہیں ہے؛ اس لیے کہ جوئے میں اپنا مال چلا جاتا ہے یا زائد مل جاتا ہے اور پرائز بانڈ میں یہ صورت نہیں ہوتی۔ سود کی تعریف یہ ہے: الزیادۃ المشروطۃ فی العقد“ یعنی قرض دیتے وقت یہ طے کر لیا جائے کہ زیادہ لوٹائے گا۔ ... جب دیتے وقت زیادہ دینا مشروط نہ کیا ہو اور لینے والا لوٹاتے وقت اپنی طرف سے زیادہ دے دے تو یہ سود نہیں ہے، بلکہ زیادہ دینا مستحب ہے۔... قرض دیتے وقت زیادہ واپس کرنے کی شرط لگانے سے سود ہوتا ہے، ورنہ نہیں ۔ بانڈ میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے، لہذا اس پر ملنے والے انعام کو سود کہنا غلط ہے۔... جوا ایسے کھیل کو کہتے ہیں جس میں اپنا مال خطرہ میں ڈال کر اس طرح بازی لگائی جاتی ہے کہ اپنا مال یا تو چلا جائے گا یا دوسرے سے کچھ لے کر آئے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انعامی بانڈ میں جوا بھی نہیں؛ اس لیے کہ بانڈ والے کا کچھ نقصان نہیں ہوتا، جتنی قیمت کا ہوتا ہے اتنی ہی قیمت کا باقی رہتا ہے۔ ... خلاصہ یہ ہے کہ انعامی بانڈ میں زیادت (اضافہ) مشروط نہیں، لہذا سود نہیں ہے اور اپنے پیسے میں کمی نہیں ہوتی، لہذا جوا نہیں ہے، اور لینے والا اپنی خوشی سے کچھ زیادہ دے دے، وہ جائز ہے، اور اس کے لیے قرعہ اندازی کرنا بھی جائز ہے، تو انعامی بانڈ کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 227-229 ملتقطاً، بزم وقار الدین، کراچی)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں:

ان اقرض نوط عشرۃ و شرط ان یرد المستقرض اثنتی عشرۃ ربیۃ او احدی عشرۃ او عشرۃ و قطعۃ مثلا حالا او مالا منجما او غیر منجم فھذاحرام و ربا قطعا لانہ قرض جرنفعا و قد قال سیدنا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کل قرض جر منفعۃ فھو ربا، رواہ الحارث بن ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ

ترجمہ: اگر کوئی شخص دس روپے قرض دے اور یہ شرط کر لے کہ قرض لینے والا بارہ روپے، یا گیارہ روپے، یا دس روپے کے ساتھ مثلاً کچھ آنے اوپر لوٹائے گا، خواہ ابھی یا کچھ مدت بعد، قسط بندی سے یا بلا قسط، تو یہ حرام اور قطعی سود ہے؛ کیونکہ یہ ایسا قرض ہے جس نے نفع کھینچا۔ حالانکہ بلاشبہ ہمارے سردار رسول مختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ قرض جو کوئی نفع کھینچ کر لائے تو وہ سود ہے۔ اس حدیث کو حارث بن ابی اسامہ نے امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کیا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 493 - 494، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: بر بنائے قرض کسی قسم کا نفع لینا مطلقاً سود و حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 223، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نوٹ: مذکورہ بالا تفصیل پاکستانی بانڈز کے متعلق تھی، اگر کہیں پرائز بانڈ کا کوئی اور طریقہ رائج ہو تو اس کی تفصیل بیان کر کے الگ سے شرعی رہنمائی حاصل کی جائے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1075
تاریخ اجراء: 05 شعبان المعظم 1447ھ / 25 جنوری 2026ء