میت کا قرض معاف ہو تو وارث پھر بھی ادا کریگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میت کا قرض معاف کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میری بیوی نے اپنی کزن سے قرض لیا تھا، جس میں سے آدھا قرض واپس ادا کر دیا گیا تھا، لیکن میری بیوی کے انتقال کے بعد اس کی کزن نے مجھ سے کہا ہے کہ میں نے اپنا سارا قرض دل سے معاف کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ قرض میری بیوی کے ذمے سے معاف ہو گیا ہے یا پھر مجھے وہ قرض ادا کرنا ہوگا؟
جواب
اگر حقیقت حال ویسے ہی ہے جیسےسوال میں بیان کی گئی تو پوچھی گئی صورت میں آپ کی بیوی کا قرض معاف ہوگیا؛ اس لیےکہ جب قرض خواہ مقروض کو قرض معاف کردے، تو شرعا قرض معاف ہوجاتا ہے، اس کے نفاذ میں مقروض کے قبول کی حاجت بھی نہیں ہوتی، بس اتنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ رد نہ کرے۔ فتاوی ہندیہ میں ہےهبة الدين ممن عليه الدين و إبراءه يتم من غير قبول من المديون و يرتد برده ذكره عامة المشايخ رحمهم اللہ تعالى، و هو المختار، كذا في جواهر الأخلاطي“ترجمہ: جس پر دین ہو، اسے دین ہبہ کرنا، یونہی دین معاف کردینا مقروض کے قبول کے بغیر مکمل ہوجاتا ہے،تاہم اگر مقروض رد کرے، تو رد ہوجاتا ہے، اسے عامہ مشائخ نے ذکر کیا ہے، یہی مختار ہے، اسی طرح جواہر الاخلاطی میں ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 4، صفحہ 384،دار الفكر، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4698
تاریخ اجراء: 10شعبان المعظم1447ھ / 30 جنوری2026ء