قرض دینے کے بعد معاف کرنا کیا قرضِ حسنہ شمار ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قرض دینے کے بعد معاف کردیا، تو کیا یہ قرضِ حسنہ کہلائے گا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ماموں نے قرض دیا اور تقریباً دو دن میں ہی معاف کردیا تو کیا یہ قرضِ حسنہ کہلائےگا؟
جواب
ہمارے عرف میں بلا میعاد اور غیر سودی قرض کو بھی قرضِ حسن یا قرضِ حسنہ کہتے ہیں جو ایک آسان اور نرم قرض ہوتا ہے کہ جس میں قرض دینے والا یہ سہولت دیتا ہے کہ جب آسانی ہو یا جب چاہے دے دینا۔ ماموں نے آپ کو بلا میعاد غیر سودی قرض دیا تو واقعی عرفاً قرضِ حسن ہے اور پھر جب انہوں نے مزید مہربانی کرتے ہوئے اسے معاف کردیا تو اس کا انہیں مزید بھی ثواب ملے گا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا عابد عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-2334
تاریخ اجراء:17ذوالحجۃالحرام1446ھ/14جون2025ء