شہید کے لواحقین کو ملنے والی امدادی رقم کس کی ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حادثے میں فوت ہونے والے کے لواحقین کو حکومت کی طرف سے ملنے والی رقم کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حالیہ کراچی میں گل پلازہ مارکیٹ میں آگے لگنے کا حادثہ پیش آیا ہے۔ اس حادثے میں میرے شوہر بھی شہید ہوگئے۔ اب گورنمنٹ نے شہید ہونے والوں کیلئے ایک کروڑ دینے کا اعلان کیا ہے۔ میرے شوہر کے آٹھ بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اب اگر حکومت کی طرف سے یہ پیسے ملتے ہیں تو اس پر کیا صرف میرا حق ہوگا یا میرے شوہر کے بھائیوں اور بہنوں کا بھی حق ہوگا۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جواب
اللہ عزوجل آپ کے شوہر کی بے حساب مغفرت فرمائے۔ اس عظیم سانحے پر آپ سمیت سب لواحقین کو صبر اور صبر پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ سوال کا جواب یہ ہے کہ میت کے ورثاء کا حق صرف اس مال سے متعلق ہوتا ہے جو مرنے والا اپنے پیچھے چھوڑ جائے جسے’’ ترکہ‘‘ یا ’’میراث‘‘ کہا جاتا ہے۔ حادثے میں انتقال کر جانے والے افراد کو حکومت یا کسی متعلقہ ادارے کی طرف سے جو رقم دی جاتی ہے، وہ شرعی اعتبار سے میت کا ترکہ و میراث نہیں ہوتی، بلکہ یہ حکومت کی طرف سے میت کے لواحقین کے لیے امداد، عطیہ اور تبرع ہوتی ہے۔ حکومتی قواعد کے مطابق یہ رقم جس خاص شخص کے نام کردی جائے تو شرعاً وہی اس کا مکمل حق دار اور مالک ہوگا، دیگر ورثاء کااس میں کوئی حق نہیں ہوگا۔ اگر حکومت کسی خاص فرد کو نامزد کیے بغیر مرحوم کے گھر والوں کے لیے عمومی طور پر یہ رقم دیدے، تو اگر یہ کہہ کر دے کہ وراثت کے اصولوں کے مطابق تقسیم کردیں تو پھر وراثت کے انداز میں سب ورثاء کو یہ رقم دی جائے گی اگرچہ حقیقت میں یہ وراثت نہیں ہے اور اگر فوت ہونے والے کے بیوی بچوں کے نام پر دی گئی تو صرف وہی حصے دار ہوں گے اور برابر کے حصے دار ہوں گے اور اگر بیوی بچے اور والدین کے لئے دینے کا کہا تو یہ سب برابر کے شریک ہوں، الغرض دار و مدار حکومت کی صراحت پر ہے۔
ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو مرنے والا اپنے پیچھے چھوڑ جائے، چنانچہ رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے:
’’الترکۃ فی الاصطلاح ما ترکہ المیت من الاموال صافیا عن تعلق حق الغیر‘‘
ترجمہ: ترکہ اصطلاح میں اس مال کو کہتے ہیں جو میت چھوڑ جائے، اس حال میں کہ وہ غیر کے حق کی وابستگی سے صاف ہو (یعنی اس سے غیر کا حق متعلق نہ ہو)۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، جلد 10، صفحہ 528، دارالمعرفہ، بیروت)
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
’’الترکۃ فی اللغۃ بمعنی المتروک کالطلبۃ بمعنی المطلوب وفی الاصطلاح ھو ما ترکہ المیت من الاموال“
ترجمہ: ’’ترکہ‘‘ لغت میں متروک چھوڑے ہوئے مال کے معنی میں ہے جیسے طلبہ، مطلوب کے معنی میں اور اصطلاح میں ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو میت اپنے پیچھے چھوڑ جائے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، جلد 4، صفحہ 365، دارلکتب العلمیہ، بیروت)
عطیے میں وراثت جاری نہیں ہوتی، چنانچہ الاشباه والنظائر میں ہے:
’’العطاء لا يورث كذا في صلح البزازية‘‘
ترجمہ: عطا میں وارث نہیں بنایا جاتا۔ اسی طرح بزازیہ کے صلح کے بیان میں ہے۔ (الاشباہ و النظائر، صفحہ 256، دار الكتب العلمية، بيروت)
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:
’’من مات وله حق في بيت المال عن طريق الاستحقاق والمنح كالعطاء، فإن هذا الحق لا يورث عنه ‘‘
ترجمہ: جو شخص انتقال کرجائے اور اس کیلئے بیت المال میں استحقاق اور عطیہ کے طور پر کوئی حق ہو، جیسے عطا، تو یہ حق اس کی میراث میں منتقل نہیں ہوتا۔ (موسوعہ فقھیہ کویتیہ، جلد 18، صفحہ 37، دار السلاسل، الكويت)
جن کے نام حکومت یہ رقم نامزد کرے گی وہی اس کا حقدار و مالک ہوگا۔ نامزد نہ کرنے کی صورت میں عام طور پر جن کیلئے یہ رقم ہوتی ہے، وہی اس کے حقدار ہوں گے، چنانچہ الاشباہ و النظائر ہی میں ہے:
’’و العطاء للذي جعل الإمام العطاء له؛ لأن الاستحقاق للعطاء بإثبات الإمام لا دخل له لرضاء الغير‘‘
ترجمہ: عطا اس شخص کے لیے ہے جس کے لیے امام نے یہ عطا مقرر کی ہو، کیونکہ عطا کا حق امام کے فیصلے سے ہوتا ہے، دوسرے لوگوں کی رضا کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ (الاشباہ و النظائر، الفن الاول، القاعدۃ الخامسۃ، صفحہ 106، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: ”بتصریح علماء منصب و پنشن بھی موروث نہیں، بعد فوت منصب دار، رئیس جس کا نام مقرر کر دے، وہی مستحق ہے، باقی ورثہ کا کچھ حق نہیں۔ فتح القدیر و رد المحتار میں ہے: ’’العطاء صلۃ فلایورث‘‘ ترجمہ: عطیہ ایک صلہ ہے، اس میں وراثت جاری نہیں ہو گی‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 393، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1084
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم 1447ھ/ 30 جنوری 2026ء