logo logo
AI Search

مقروض کا قرض خواہ کے مکان کا کرایہ ادا کرنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مقروض کا قرض خواہ کے مکان کا کرایہ ادا کرنا سود ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کرائے کے مکان میں  رہتا ہے، بکر زید سے قرض کا مطالبہ کرتا ہے تو زید بکر کو اس شرط پر قرض دینے کو تیار ہے کہ جب تک آپ میرا قرض مجھے نہیں لوٹاؤ گے، اُس وقت تک میرے مکان کا کرایہ آپ دیتے رہو گے؟ کیا اس شرط پر زید کا بکر کو قرض دینا شرعاً جائز ہے؟ 

جواب

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ہر وہ قرض جس پر مشروط نفع حاصل ہو، سود ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں زید و بکر کے مابین ہونے والا یہ معاملہ خالصتاً سودی معاملہ ہے، فریقین پر لازم ہے کہ وہ ہرگز یہ سودی معاملہ نہ کریں کہ اسلام میں سود کا لین دین کرنا سخت ناجائز و حرام ہے۔

سود کی مذمت کے متعلق مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ اسے روایت فرماتے ہیں:

 ”لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله ‘‘

ترجمہ: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سودکھانے والے اور سود کھلانے والے پر لعنت فرمائی۔ “ (صحیح مسلم، کتاب البیوع،ج03، ص1219،حدیث:1598، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

جس قرض پر مشروط نفع حاصل ہو وہ سود ہے۔ جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ اور کنز العمال وغیرہ کتبِ احادیث میں یہ حدیثِ مبارک مروی ہے:

”و النظؐم للاول“ کل قرض جرمنفعۃ فھوربا

یعنی ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب البیوع ،من کرہ کل قرض جر منفعۃ،ج04،ص327،مکتبۃ الرشد) (کنز العمال ،ج16،ص238،مطبوعہ بیروت(

قرض پر مشروط نفع لینا سود اور حرام ہونے سے متعلق بدائع الصنائع میں ہے:

”وأما الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا ۔۔۔۔۔ أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا“

ترجمہ: ”بہر حال وہ شرائط جو نفس قرض کی طرف لوٹتی ہیں وہ یہ ہیں کہ اُس قرض میں ایسی کوئی شرط نہ ہو جو نفع کھینچ کر لائے، اگر قرض کوئی نفع کھینچ لائے تو یہ جائز نہ ہوگا۔ جیسا کہ کسی شخص نے قرض دیا اور اس میں ایسی شرط رکھی کہ جس میں اس کی منفعت تھی، اس کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے ہر ایسے قرض سے منع فرمایا جس سے نفع حاصل ہو۔(بدائع الصنائع ،کتاب القرض ،ج10 ،ص656 ، دار الحدیث، ملتقطاً)

فتاوٰی شامی میں ہے:

’’(كل قرض جرّ نفعا حرام) أي إذا كان مشروطًا“

ترجمہ: ”ہر وہ قرض جونفع کھینچےحرام ہے یعنی جبکہ نفع قرض میں مشروط ہو۔“ (ردالمحتارعلی الدرالمختار،ج05،ص166، دارالفکر، بیروت)

دس روپے کا نوٹ قرض دے کر بارہ روپے نقد ادا کرنے سے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا، تو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں:” اگر قرض دینے میں یہ شرط ہوئی تھی تو بے شک سود و حرامِ قطعی و گناہِ کبیرہ ہے ۔ ایسا قرض دینے والا ملعون اور لینے والا بھی اسی کے مثل ملعون ہے اگر بے ضرورت شرعیہ قرض لیا ہو۔ “ (فتاوٰی رضویہ، ج 17، ص 278، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

دوسرے مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:”اگر یہ روپے زید نے بکر کو قرض دئیے تھے اور شرط یہ کی کہ آیندہ فصل میں فی روپیہ بیس سیر گیہوں لیں گے تو یہ ناجائز اورحرام ہے ۔(فتاوٰی رضویہ،ج 17،ص 578، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:NOR-13757

تاریخ اجراء:26رمضان المبارک1446ھ/27مارچ2025ء