سونا کرائے پر دینا جائز ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سونا کرائے پر دینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا ہم سونے کا 10 تولے کا پیس خرید کر سنار کو کرائے پے دے سکتے ہیں؟ جس کے بدلے وہ ہر مہینے 60 ہزار روپے ہمیں دے گا اور سونا بھی ہماری ملکیت ہی رہے گا۔
جواب
سنار سونے کا پیس یا ڈلی اس لیے لیتا ہے کہ اسے فروخت کرے یا اس سے زیورات بنا کر بیچے، اور نفع کمائے؛ ڈلی کو بعینہٖ باقی رکھ کر اسے نفع نہیں اٹھایا جاسکتا، تو یہ عین کے استہلاک (ختم کرنے) پر اجارہ ہوگا، اور عین کے استہلاک پر اجارہ باطل ہے۔ لہٰذا یہ معاملہ اجارہ نہیں ہے، بلکہ حقیقت میں قرض ہے؛ کیونکہ سنار سونا لے کر اسے اپنے استعمال میں لا کر اس کا بدل ادا کرے گا، اور یہ صورت قرض کی ہے، اور قرض پر اجرت یا کوئی نفع طے کر کے لینا سود، ناجائز اور حرام ہے۔
سود کو اللہ تعالی نے حرام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود۔ (پارہ 3، سورۃ البقرۃ، آیت 275)
قرض پر مشروط نفع لینا سود ہے اس متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
”کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو۱“
ترجمہ: قرض کے ذریعہ سے جو منفعت حاصل کی جائے وہ سود ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب البیوع، جلد 5، صفحہ 80، مطبوعہ: ملتان)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
’’لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا، وموکلہ، وشاھدیہ، وکاتبہ‘‘
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے گواہ اور سودی دستاویزات لکھنے والے پر لعنت کی۔ (جامع ترمذی، ابواب البیوع، باب ماجاء فی اکل الربا، جلد 1، صفحہ 360، مطبوعہ: لاہور)
قرض کی تعریف کے متعلق درمختار میں ہے
"القرض شرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه"
ترجمہ: شرعا قرض یہ ہے کہ کسی کو مثلی مال یوں دے کہ اسے پھر واپس لے گا۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 05، صفحہ 160، دار الفکر، بیروت)
قرض ہونے کے لیے لفظ قرض استعمال کرنا ضروری نہیں ہوتا، اگر مقصود وہی ہو جو قرض سے ہوتا ہے تو شرعا قرض ہوگا، کہ عقود میں معانی کا اعتبار ہوتا ہے، الفاظ کا نہیں۔ جیساکہ ’’مجلۃ الاحکام العدلیۃ ‘‘میں ہے
"العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني"
ترجمہ: عقود میں مقاصد اور معانی کا اعتبار ہوتا ہے، الفاظ اور مبانی کا نہیں۔ (مجلۃ الاحکام العدلیہ، ص 16، ناشر: نور محمد، آرام باغ)
سونے کی ڈلی کا اجارہ درست نہیں، اس حوالے سے بدائع الصنائع اور فتاوی عالمگیر ی میں ہے
"ولا تجوز إجارة الدراهم والدنانير ولا تبرهما وكذا تبر النحاس والرصاص۔۔لأنه لا يمكن الانتفاع بالعين إلا بعد استهلاك أعيانها، والداخل تحت الإجارة المنفعة لا العين"
ترجمہ: درہم و دینار اور ان کی ڈلی کو اجرت پر دینا جائز نہیں ہے، اسی طرح تانبے اور سیسے کی ڈلی کو بھی اجارہ پر دینا درست نہیں۔ اسی طرح ناپ تول سے فروخت ہونے والی اشیاء (مکیلات و موزونات) کو اجرت پر دینا جائز نہیں؛ کیونکہ ان سے فائدہ اٹھانا ان کی عین (اصل مادہ) کو ہلاک کیے بغیر ممکن نہیں۔ اور اجارہ میں دراصل منفعت داخل ہوتی ہے، عین نہیں۔ (بدائع الصنائع، ج 4، ص 175، دار الکتب العلمیۃ، فتاوی ہندیہ، ج 4، ص 175، دار الفکر)
فتاوی رضویہ میں ہے "بالجملہ اس عقد مخترعہ کو شرکت شرعیہ سے کوئی علاقہ نہیں، اب نہ رہے مگر عاریت یا قرض، عاریت ہے جب بھی قرض ہے کہ روپیہ صرف کرنے کو دیا او ر عاریت میں شے بعینہٖ قائم رہتی ہے۔۔۔بہر حال یہاں نہیں مگر صورتِ قرض، اور اس پر نفع مقرر کیا گیا‘یہی سود ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 371-73، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4738
تاریخ اجراء: 25 شعبان المعظم1447ھ/14 فروری 2026ء