قرض دے کر پھیری والے کو کباڑ بیچنے کا پابند کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پھیری والے کو اپنے پاس اسکریپ (کباڑ) بیچنے کی شرط پر قرض دینا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارےکہ میں اسکریپ (کباڑ )کا کاروبار کرتا ہوں۔ ہمارے ہاں یہ معمول ہے کہ ہم پھیری والوں کو قرض دیتے ہیں اور اس کے بدلے انہیں اس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ وہ پھیری لگا کر جو بھی کباڑ(لوہا، پلاسٹک، پیتل وغیرہ) اکٹھا کریں گے، وہ ہمیں ہی فروخت کریں گے، اگر کوئی پھیری والا اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کباڑ کسی اور شخص کو فروخت کر دے، تو ہم اس پر ناراضی کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے باز پرس کی جاتی ہے کہ تم نے ہماری دی ہوئی رقم کے باوجود کباڑ کسی اور کے ہاتھ کیوں بیچا؟ ہمارے ہاں یہی طریقہ رائج اور معروف ہے کہ پھیری والوں کو پیسے دے کر انہیں کباڑ کے کام کے لیے اپنے ساتھ وابستہ اور پابند کیا جاتا ہے۔ شرعی رہنمائی فرما دیجیے کہ پھیری والوں کو قرض دے کر قرض دار کا انہیں اپنی ہی دکان پر سامان بیچنے کا پابند کرنا کیسا؟اگر یہ جائز نہیں، تو اس کے جواز کی صورت بیان کردیجیے۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں اس طرح معاملہ کرنا ناجائز وحرام اور سود ہے۔ اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ آپ کا پھیری لگانے والوں کو اس شرط پر قرض دینا کہ وہ اپنا اسکریپ آپ ہی کو فروخت کریں، یہ سودی معاہدہ ہے۔ یونہی اگر قرض دیتے وقت صراحتاً (واضح لفظوں میں) یہ شرط نہ بھی رکھی جائے، لیکن دلالتہً یہ بات طے ہو، یعنی وہاں عرف و رواج یہ ہو کہ جس شخص سے قرض لیا جائے، مال لازماً اُسی کو بیچنا ہوگا، تو یہ معاملہ بھی سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائزو حرام اور گناہ ہے، اس لیے کہ شریعت میں سود صرف یہی نہیں کہ قرض کی واپسی پر متعین اضافی رقم لی جائے، بلکہ قرض کی بنیاد پر حاصل کیا جانے والا ہر مشروط نفع وفائدہ سود شمار ہوتا ہے۔ اب صورتِ مسئولہ میں پھیری والے قرض لینے کی وجہ سے ہی قرض دینے والے کو سامان فروخت کرنے کے پابند ہیں، اگر قرض نہ لیاہوتا، تو کوئی بھی اس طرح پابند نہ ہوتا، تو یہ درحقیقت قرض دینے والے کا نفع ہے اور قرض کی وجہ سے جو بھی نفع حاصل کیا جائے، حدیث کے حکم کے مطابق وہ سود ہے۔
سود کی حرمت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تبار ک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾
ترجمہ کنز العرفان: ’’اور اللہ نے خریدو فروخت کو حلال کیا اورسود کو حرام کیا۔‘‘ (پارہ 03، سورۃ البقر ہ، آیت 275)
دوسرے مقام پراللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ
ترجمہ: اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں کامیابی مل جائے۔ (پارہ 4، سورہ آل عمران، آیت 130)
سود لینے اور دینے والا ملعون ہے۔ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے:
’’لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اٰکل الربوا وموکلہ و کاتبہ و شاھدیہ قال وھم سواء‘‘
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے، سود دینے والے، اس کے لکھنے والےاوراس کے گواہوں پرلعنت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ تمام لوگ گناہ میں برابر ہیں۔ (صحیح المسلم ، حديث 1598، جلد 5، ص 50، الناشر: دار الطباعة العامرہ، تركيا)
قرض پر حاصل ہونے والے نفع کے سُود ہونے کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’کل قرض جر منفعۃ فھو ربوا‘‘
ترجمہ: ہر وہ قرض جو نفع کھینچے وہ سود ہے۔ (کنز العمال، جلد 16، صفحہ 238 ، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
درِمختار میں ہے:
”و فی الاشباہ: کل قرض جر نفعاً حرام‘‘
ترجمہ: الاشباہ و النظائر میں ہے: ہر قرض جو نفع کھینچے وہ حرام ہے۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے:
’’قولہ: (کل قرض جر نفعاً حرام)أی: اذا کان مشروطاً‘‘
ترجمہ: شارح علیہ الرحمۃ کا قول (ہر وہ قرض جو نفع لائے حرام ہے) یعنی جب نفع قرض میں مشروط ہو۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، ج 7، ص 413، مطبوعہ کوئٹہ)
قرض کی بنا پر ہر قسم کا مشروط نفع سود ہے۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتےہیں: ’’بر بنائے قرض کسی قسم کانفع لینامطلقاً سودوحرام ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 25، ص 223، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
قرض کی بناء پر کسی بھی طرح کا مشروط نفع حاصل کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قرض لینے والے پر کسی ایسے کام کی شرط لگائی جائے جو قرض دینے والے کے معاملات میں معاون ہو۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابو الحسن على بن حسین سُغْدى حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سود کی قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’فأما في القروض فهو علی وجهین: أحدهما أن یقرض عشرة دراهم بأحد عشر درهماً أو باثني عشر ونحوها، والآخر أن یجر إلی نفسه منفعةً بذلک القرض، أو تجر إلیه وهو أن یضیفہ او یتصدق علیہ بصدقۃ اویعمل لہ عملا یعینہ علی امورہ …ولو لم یکن سبب ذلک (هذا)القرض لما کان(ذلک ) الفعل، فإن ذلک ربا‘‘
ترجمہ: رہا قرضوں میں سود، تو اس کی دو صورتیں ہیں، پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو دس درہم قرض اس طور پر دے کہ وہ گیارہ یا بارہ درہم لوٹائے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ قرض دینے والااس قرض کی وجہ سے خود کوئی منفعت حاصل کرے یا اسے کوئی منفعت دی جائے اور وہ یوں کہ قرض لینے والا قرض دینے والےکی مہمان نوازی کرے گایا اس پر کوئی چیز صدقہ کرےگا یا اس کے لیے کوئی ایسا کام کرے گا، جو اس کے معاملات میں معاون ثابت ہو۔ حالانکہ اگر اس قرض کا لین دین نہ ہوتا، تو اس طرح کا معاملہ نہ ہوتا، پس بیشک یہ تمام صورتیں سود کی ہیں۔ (ملخصاً، النتف فی الفتاویٰ، ص 296، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے: ”اگرعقد قرض پہلے ہواوریہ بیع اس میں نصاًیادلالۃ مشروط ہوتواس میں اختلاف ہے، بعض علماءاجازت دیتے ہیں کہ یہ بیع بشرط القرض نہیں، بلکہ قرض بشرط البیع ہےاورقرض شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتااور راجح یہ ہے کہ یہ بھی ممنوع ہے کہ اگرچہ شرط مفسدِ قرض نہیں، مگریہ وہ قرض ہے جس کے ذریعہ سے ایک منفعت قرض دینے والے نے حاصل کی اور یہ ناجائز ہے۔ نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’کل قرض جر منفعة فھو ربوا‘‘ جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 275، رضا فاونڈیشن، لاھور)
سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: ’’المعروف کالمشروط‘‘ قاعدہ کلیہ ہے مگر جب صراحۃً معروف کی نفی کردے، تو مشروط نہیں رہے گا۔
’’لان الصریح یفوق الدلالۃ کما فی الخانیۃوغیرھا‘‘
(اس لیے کہ صریح کا درجہ دلالت سے اوپر ہے، جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے۔ت)۔“ (فتاوی رضویہ، ج9، ص646، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0087
تاریخ اجراء: 06 رجب المرجب 1447ھ/27 دسمبر 2025ء