logo logo
AI Search

منگنی کی انگوٹھی بطور قرض پہنانا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منگنی میں بطور قرض انگوٹھی پہنانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جو قریبی رشتہ داروں (تایا، خالہ، پھوپھی وغیرہ) کی طرف سے، دولہے کو انگوٹھیاں پہنائی جاتی ہیں، پھر دولہا شادی کے بعد وہی انگوٹھیاں اپنے والد صاحب کو، یا اپنی والدہ کو دے دیتا ہے، پھر ان انگوٹھیوں کو رکھ دیا جاتا ہے، کہ جب خالہ یا پھوپھو وغیرہ کے بیٹے کی شادی ہو گی، تو وہی انگوٹھی ان کو واپس کر دی جائے گی، ان انگوٹھیوں کو ضرورت کے وقت ہم استعمال بھی کر سکتے ہیں، لیکن بعد میں جب خالہ وغیرہ کے بیٹے کی شادی ہوگی، تو ان کو اپنی طرف سے کوئی انگوٹھی پہنانی ہوگی، تو کیا یہ قرض کہلائے گا؟

جواب

جی، پوچھی گئی صورت میں جب آپ کے یہاں برادری نظام میں یہ بات طے شدہ اور معروف ہے، کہ انگوٹھی دینے والے کے بیٹے کی شادی پر، اسے بھی انگوٹھی پہنانی ہوتی ہے، جو انگوٹھی آپ کو ملی تھی، وہی دینا ضروری نہیں، بلکہ اس کے بدلے میں دوسری بھی دی جا سکتی ہے، تو ایسی صورت میں وہ انگوٹھی قرض ہے، اب اگر بعینہ وہی انگوٹھی لوٹادی، تب تو ٹھیک ہے، اور اگر وہ نہیں دینا چاہتے، تو اب اگر اسی کی مثل (یعنی اس کے جیسی، اسی ڈیزائن والی، اسی کی قیمت والی) انگوٹھی بازار میں ملتی ہو، تو پھر ویسی ہی انگوٹھی دینا لازم ہوگا، اور اگر ویسی ہی انگوٹھی نہیں ملتی، تو پھر جو انگوٹھی دی گئی ہے، اس کی قیمت لازم ہوگی، اب چاہیں تو قیمت دے دیں، یا سامنے والوں کی رضا مندی سے اس کی قیمت برابر کوئی چیز، مثلا انگوٹھی دے دیں (جیسا کہ رواج ہے کہ انگوٹھی دی جاتی ہے، اور سامنے والے اس پر راضی ہوتے ہیں)۔

نوٹ: البتہ! یہ واضح رہے کہ مرد صرف وہ انگوٹھی پہن سکتا ہے، جو چاندی کی ہو، اور ساڑھے چار ماشے سے کم وزن کی ہو، اور ایک نگینے والی ہو، لہذا چاندی کے علاوہ کسی اور دھات (سونے، تانبے، پیتل وغیرہ) کی انگوٹھی پہننا، یا چاندی کی ساڑھے چار ماشے یا اس سے زیادہ وزن والی یا ایک ساڑھے ماشے سے کم وزن کی، ایک سے زائد نگینے والی یا بغیر نگینے کے پہننا، مرد کے لیے ناجائز و گناہ ہے، اگرچہ کچھ وقت کے لیے پہنے اور پھر اتار دے۔ لہذا لین دین صرف جائز انگوٹھی کا ہی کیا جائے، اگر کسی نے ناجائز انگوٹھی دی ہو، تو وہ اسے واپس کر دی جائے، ناجائز انگوٹھی نہ لی جائے، نہ دی جائے، اور نہ اسے استعمال کیا جائے۔

رد المحتار میں علامہ خیر الدین رملی علیہ الرحمۃ کے فتاوٰی سے منقول ہے "سئل فيما يرسله الشخص الى غيره في الاعراس و نحوها، هل يكون حكمه حكم القرض، فيلزمه الوفاء به ام لا؟ اجاب: ان كان العرف بانهم يدفعونه على وجه البدل، يلزم الوفاء به مثليا فبمثله وان قيميا فبقيمته وان كان العرف خلاف ذلك بان كانوا يدفعونه على وجه الهبة و لا ينظرون في ذلك الى اعطاء البدل، فحكمه حكم الهبة في سائر احكامه، فلا رجوع فيه بعد الهلاك او الاستهلاك والاصل فيه: ان المعروف عرفاً كالمشروط شرطاً، قلت: والعرف في بلادنا مشترك نعم في بعض القرى يعدونه قرضاً حتى انهم في كل وليمة يحضرون الخطيب يكتب لهم ما يهدى، فاذا جعل المهدي وليمة يراجع المهدى الدفتر، فيهدي الاول الى الثاني مثل ما اهدى اليه ."

 ترجمہ: علامہ خیر الدین رملی علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ ایک شخص شادیوں وغیرہ میں دوسرے کی طرف جو چیزیں بھیجتا ہے، کیا ان کا حکم قرض کی طرح ہے کہ اسے ادا کرنا لازم ہو یا نہیں؟ آپ علیہ الرحمۃ نے جواب دیا کہ اگر عرف یہ ہو کہ لوگ بدل کے طور پر دیتے ہیں، تو ادائیگی لازم ہے، دی جانے والی چیز اگر مثلی ہے، تو اس کی مثل لوٹائے اور قیمی ہو، تو قیمت واپس کرے اور اگر عرف اس کے خلاف ہو اور دینے والے یہ چیزیں بطورِ ہبہ دیتے ہوں اور اس کے بدلے ملنے والی چیز کی طرف ان کی نظر نہ ہوتی ہو، تو یہ تمام احکام میں ہبہ کی طرح ہے، لہذا اس چیز کے ہلاک ہو جانے یا ہلاک کر دینے کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا اور اس معاملے میں اصل یہ ہے کہ جو معہود ہوتا ہے وہ مشروط کی طرح ہی ہوتا ہے، (علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں: یہ عرف ہمارے شہروں میں مشترک ہے یعنی کہیں کچھ اور کہیں کچھ، بعض علاقوں میں اسے قرض شمار کرتے ہیں، حتی کہ وہ ہر دعوت میں ایک لکھنے والا بلاتے ہیں، جو ملنے والی چیزوں کو لکھتا ہے اور جب دینے والا کوئی دعوت کرتا ہے، تو وہ لکھے ہوئے کی طرف رجوع کرتا ہے، اور اسی کی مثل چیز دیتا ہے، جو اُس نے اِسے دی تھی۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الھبۃ، جلد 8، صفحہ 582، 583، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "شادی وغیرہ تمام تقریبات میں طرح طرح کی چیزیں بھیجی جاتی ہیں اس کے متعلق ہندوستان میں مختلف قسم کی رسمیں ہیں ہر شہر میں ہر قوم میں جدا جدا رسوم ہیں ان کے متعلق ہدیہ اور ہبہ کا حکم ہے یا قرض کا عموماً رواج سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دینے والے یہ چیزیں بطور قرض دیتے ہیں۔" (بہار شریعت، ج 3، حصہ 14، ص 79، مکتبۃ المدینہ)

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے ”ثم المثل قد يكون مصنوعا فحيث تخرجه الصنعة عن المثلية بجعله نادرا بالنسبة إلى أصله۔۔۔ يكون قيميا وقد يكون مصنوعا بحيث لا تخرجه عن المثلية لبقاء كثرته وعدم تفاوته كالدراهم والدنانير المضروبة“ ترجمہ: پھر مثلی چیز میں کبھی اس طرح کی صنعت کاری کی گئی ہوتی ہے کہ صنعت اسے مثلی ہونے سے نکال دیتی ہے، بایں طور کہ اس کی اپنی اصل کی طرف نسبت کرتے ہوئے دیکھا جائے ، تو یہ اس سے انوکھی، نادر اور نئی صورت اختیار کر لیتی ہے۔۔۔۔تو یہ چیزیں قیمی ہیں اور مثلی چیز میں کبھی اس طرح کی صنعت کاری ہوتی ہے کہ بناوٹ اسے مثلی ہونے سے خارج نہیں کرتی، اس لیے کہ اس طرح کے اور افراد بکثرت موجود ہوتے ہیں اور باہم ان میں فرق نہیں ہوتا، جیسے ڈھلے ہوئے دراہم و دنا نیر۔ (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ، ج 2، ص 162، دار المعرفة)

قرض میں وہی چیز، یا اس کا بدل لوٹانے کا اختیار ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے "فأما في القرض الجائز إذا كان قائما في يد المستقرض فلا يتعين في الرد وهو بالخيار إن شاء رده، وإن شاء رد مثله" ترجمہ: بہرحال قرض میں یہ جائز ہے کہ جب قرض والی چیز قرضدار کے پاس موجود ہو تو وہی چیز واپس کرنے میں متعین نہیں، بلکہ اسے اختیار ہے کہ چاہے تو وہی چیز واپس کرے اور چاہے تو اس کی مثل واپس کرے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب البیوع، الباب التاسع عشرفی القرض۔۔، جلد 3، صفحہ 202، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے "قرضدار نے قرض پر قبضہ کر لیا اُس چیز کا مالک ہو گیا فرض کرو ایک چیز قرض لی تھی اور ابھی خرچ نہیں کی ہے کہ اپنی چیز آگئی مثلاً روپیہ قرض لیا تھا اور روپیہ آگیا یا آٹا قرض لیا تھا پکنے سے پہلے آٹا پِس کر آگیا اب قرض دار کو یہ اختیار ہے کہ اُس کی چیز رہنے دے اور اپنی چیز سے قرض ادا کرے یا اُس کی ہی چیز دیدے جس نے قرض دیا ہے وہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے جو چیز دی تھی وہ تمھارے پاس موجود ہے میں وہی لونگا۔" (بہار شریعت، ج 02، حصہ 11، ص 758، مکتبۃ المدینہ)

قیمت کے بدلے کوئی دوسری چیز دینے پر اتفاق ہو جائے، تو اس کے متعلق رد المحتار میں ہے "فيكون شبيه القرض المضمون بمثله أو بقيمته فإذا توافقا على شيء بدل المثل أو القيمة برئت ذمة الآخذ، لكن يبقى الإشكال في جواز التصرف فيه إذا كان قيميا فإن قرض القيمي لا يصح فيكون تصحيحه هنا استحسانا كقرض الخبز والخميرة" ترجمہ: پس یہ اس قرض کے مشابہ ہوگا کہ جس کی ادائیگی اس کے مثل یا اس کی قیمت کے ساتھ کی جاتی ہے، پس جب وہ مثل یا قیمت کے بدلے کسی چیز پر اتفاق کر لیں، تو لینے والا بری الذمہ ہو جائے گا، لیکن جب وہ چیز قیمی ہو، تو اس میں تصرف جائز ہونے میں اشکال باقی رہے گا، کیونکہ قیمی کا قرض درست نہیں ہوتا، پس یہاں اس کی درستی استحسانا ہوگی، جیسے روٹی اور خمیرے کا قرض۔ (ردالمحتار مع الدر المختار، ج 07، ص29، مطبوعہ: کوئٹہ)

چاندی کے علاوہ کسی اور دھات سے بنی ہوئی انگوٹھی مرد کے لئے ناجائز ہے، چنانچہ حضرت سیدنا عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: "جاء رَجلٌ إلى النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم وعليْهِ خاتمٌ من حَديدٍ، فقال: ما لي أرى عليك حلية أهل النار، ثم جاءه وعليه خاتم من صفر فقال: ما لي أجد منك ريح الأصنام، ثم أتاه وعليه خاتم من ذهب فقال: ما لی اری علیک حلية أهل الجنة؟ قال: من أی شيء أتخذه؟ قال: من ورق ولا تتمه مثقالا"

ترجمہ: نبی پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام کی بارگاہ میں ایک شخص لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوئے حاضر ہوا، تو حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں جہنمیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ پھر وہ پیتل کی انگوٹھی پہنے ہوئے حاضر ہوئے، تو فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تم سے بُتوں کی بو محسوس کر رہا ہوں؟ پھر وہ سونے کی انگوٹھی پہن کر آئے، تو فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں جنتیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ (یعنی یہ تو اہلِ جنت، جنت میں پہنیں گے) تو انہوں نے عرض کی: یا رسول ﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم! کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایا: چاندی کی بناؤ اور ایک مثقال پورا نہ کرو۔ (یعنی ساڑھے چار ماشے سے کم وزن کی ہو)۔ ( سنن الترمذی، جلد 3، صفحہ 561، دار الرسالۃ العالمیۃ)

مجمع الانہر میں ہے ”ويجوز للنساء التحلي بالذهب والفضة لا للرجال الا الخاتم۔۔۔من الفضة“ ترجمہ: عورتوں کے لیے سونے چاندی کے زیور پہننا جائز ہے۔ مردوں کے لیے چاندی کی ایک انگوٹھی کے علاوہ ناجائز ہے۔ ( مجمع الانھر، کتاب الکراھیۃ، فصل فی اللبس، جلد 4، صفحہ 195، 196، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن میں مرد کے لئے انگوٹھی پہننے کی شرائط کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "ہاتھ خواہ پاؤں میں تانبے، سونے، چاندی، پیتل، لوہے کے چھلّے یا کان میں بالی یا بُندا یا سونے خواہ تانبے پیتل لوہے کی انگوٹھی اگرچہ ایک تار کی ہو یا ساڑھے چار ماشے چاندی یا کئی نگ کی انگوٹھی یا کئی انگوٹھیاں اگرچہ سب مل کر ایک ہی ماشہ کی ہوں کہ یہ سب چیزیں مردوں کو حرام و ناجائز ہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 307، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5004
تاریخ اجراء: 25 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 13 مئی 2026ء