دادی کا ہبہ کیا ہوا مکان وراثت میں شامل ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دادی کے زیر کفالت نابالغ بچہ فقظ ہبہ (گفٹ) کے الفاظ سے چیز کا ما لک ہوجاتا ہے۔
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری والدہ کا اپنا ذاتی مکان تھا، جس میں والدہ کے ساتھ ان کا پوتا بھی رہتا تھا، جو کہ اپنے والدین کی وفات کے بعد اپنی دادی کے زیرِ کفالت تھا۔ کچھ عرصہ قبل جب وہ بچہ بالکل ناسمجھ و نابالغ تھا، والدہ نےاپنی ساری اولاد کی موجودگی میں یہ کہا تھا کہ میں یہ مکان اپنے پوتے کی ملکیت کرتی ہوں، یہ ہی اس مکان کا مالک ہے۔ ان کی اس بات پر ہم سب رضامند ہوگئے۔ اب والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، تو شرعی رہنمائی درکار ہے کہ کیا وہ مکان بھی والدہ کی دیگر جائیداد کے ساتھ وراثت میں شمار ہو گا یا فقط پوتے کی ملکیت شمار ہوگا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں وہ مکان فقط پوتے کی ملکیت شمار ہوگا، وراثت کے طور پر تقسیم نہیں ہوگا۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ شرعی طور پر نابالغ بچے کا ولی جیسے باپ یا دادا وغیرہ، اسی طرح اس کی کفالت و پرورش کرنے والا اگر مکان وغیرہ کوئی چیز نابالغ کو ہبہ (gift) کرے، تومحض اس کے ہبہ و تملیک کے الفاظ کہنے سے ہبہ شرعاً مکمل ہوجاتا ہے اور نابالغ بچہ اس موہوبہ (گفٹ کی گئی) چیز کا مالک بن جاتا ہے، اگرچہ ہبہ کرنے والا اس مکان میں ہی رہائش پذیر ہو یا اس کا سامان اسی میں پڑا ہو۔ اب پوچھی گئی صورت میں اگرچہ دادی کو پوتے پر شرعی لحاظ سے ولایت حاصل نہیں، لیکن چونکہ پوتا ان کی زیرِ کفالت تھا، اس لئے ان کے الفاظِ تملیک (میں یہ مکان اپنے پوتے کی ملکیت کرتی ہوں) کہتے ہی پوتا اس مکان کا مالک بن گیا، لہذا اس مکان کو بطور وراثت تقسیم نہیں کیا جائے گا۔
نابالغ بچے کا ولی یا کفیل اسے کوئی چیز ہبہ کریں، تو محض الفاظِ ہبہ کہنے سے ہبہ تام ہوجائے گا۔ عنایہ شرح ہدایہ میں ہے: ”(و إذا وهب الأب لابنه الصغير هبة ملكها الابن بالعقد۔۔۔ و كذلك كل من يعوله) نحو الاخ و العم و الاجنبی، جاز لہ قبض الھبۃ لاجل الیتیم“ ترجمہ: اگر باپ اپنے نابالغ بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کرے، تو بیٹا محض عقد سے ہی اس کا مالک بن جائے گا۔ یہی حکم ہر اس شخص کا ہے جو بچے کی کفالت کرنے والا ہو، جیسے بھائی، چچا یا کوئی اجنبی شخص، کہ اسے بھی یتیم کے لیے ہبہ پر قبضہ کرنا جائز ہے۔ (العناية شرح الھداية، ج 9، ص 33، دار الفکر، بیروت)
شرح مجلہ میں ہے: ”يملك الصغير و الصغيرة المال المعلوم الذي وهبه إياه أو تصدق به وليه كأبيه وجده أو وصيه أو مربيهما يعني من هو في حجره و تربيته، سواء أكان أقرباء الصغير و الصغيرة كأخيهما و عمهما و خالهما أم من الأجانب، بمجرد الإيجاب أي بقول الواهب: و هبت“ ترجمہ: نابالغ لڑکا اور لڑکی فقط ایجاب یعنی ہبہ کرنے والے کے یوں کہنے سے کہ میں نے ہبہ کیا اس معلوم مال کے مالک بن جاتے ہیں جو ان کے ولی جیسے باپ، دادا، یا ولی کے وصی، یا ان کی پرورش کرنے والا یعنی جس کی نگرانی اور تربیت میں وہ ہوں، انہیں ہبہ کرے یا صدقہ دے، چاہے پرورش کرنے والا نابالغ بچے اور بچی کارشتہ دار ہو، جیسے بھائی، چچا یا ماموں، یا کوئی اجنبی ہو۔
مذکورہ بالا عبارت میں مربيه کی وضاحت کے حوالے سے شرح مجلہ میں ہے: ”فقد استعمل هنا في معنى من لم يكن وليا و لا وصيا“ ترجمہ: یہاں اس لفظ کو ایسے شخص کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے جو نہ ولی ہو اور نہ وصی۔ (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، ج 2، ص 419، دار الجیل، بیروت)
بچہ دادی کے زیر کفالت ہو تو اس کے ہبہ کرنے کی صورت میں بھی محض عقدِ ہبہ سے ہبہ تام ہوجائے گا اور اس کا قبضہ بچے کا قبضہ کہلائے گا۔ امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کتاب الاصل میں ذکر فرماتے ہیں:”قلت: أرأيت يتيماً صغيرا في عيال أمه وهبت له أمه عبدا أو متاعا أو غيره من الهبة و هو معلوم و أشهدت على ذلك وأبوه ميت أتجوز هبتها و لا وصي له؟ قال نعم. قلت و قبض الام لہ قبض ؟قال نعم . قلت: و ھی فی ذلک بمنزلۃ الاب لو کان حیا، قال نعم. قلت: و كذلك لو كان في عيال جده أبي أبيه أو أبي أمه أو في عيال جدته؟ قال نعم“ترجمہ: (امام محمد فرماتے ہیں) میں نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر ایک چھوٹا یتیم بچہ اپنی ماں کی زیر کفالت ہو، اس کی ماں اسے کوئی غلام یا سامان یا کوئی اور چیز ہبہ کرے اور وہ چیز معلوم بھی ہو اور ماں نے اس پر گواہ بھی بنا لیا ، جبکہ اس کا باپ فوت ہو چکا ہو، تو کیا اس کی ماں کا یہ ہبہ درست ہوگا، جبکہ اس کا کوئی وصی بھی موجود نہ ہو؟ تو (امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے) فرمایا: جی ہاں (درست ہوگا)۔ میں نے کہا: کیا ماں کا قبضہ اس بچے کا قبضہ شمار ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا اگر باپ زندہ ہوتا تو تب بھی وہ اس معاملے میں باپ کے قائم مقام ہوتی؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: اسی طرح اگر وہ بچہ اپنے دادا یا نانا، یا دادی / نانی کی زیر کفالت ہو، تو تب بھی یہی حکم ہوگا؟ تو فرمایا: جی ہاں (تب بھی درست ہوگا)۔ (الأصل للشيباني، ج 3، ص 369، مطبوعہ بیروت)
مذکورہ مسئلے میں ولی و کفیل کا قبضہ نابالغ کے قبضے کے قائم مقام کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے امام فخر الدین زیلعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: و لو وهب من ابنه الصغير دارا و الأب ساكنها و متاعه فيها جازت الهبة و ملكها الابن بمجرد قوله و هبتها له، لأنها في يده و سكناه و متاعه فيها لا ينافي يده بل يقررها فتكون هي في قبضه و هو الشرط ۔۔۔ و كذا كل من يعوله، لأن التصرف نفع محض و لمن في يده ضرب ولاية حتى كان له تأديبه و تسليمه في صناعة، فيملك التصرف النافع، فينفرد بتمليكه و يملكه الصغير بمجرد الهبة إذا كان في يد الواهب، كما في الأب
ترجمہ: اگر کسی شخص نے اپنے نابالغ بیٹے کو گھر ہبہ کیا، جبکہ باپ خود اس میں رہائش پذیر ہو اور اس کا سامان بھی اسی میں موجود ہو، تو یہ ہبہ جائز ہے اور بیٹا محض باپ کے یوں کہنے سے ہی اس کا مالک بن گیا، کہ میں نے یہ اسے ہبہ کر دیا، کیونکہ وہ گھر باپ ہی کے قبضے میں ہے اور اس کا وہاں رہنا اور اس کے سامان کا وہاں موجود ہونا بیٹے کے قبضے کے منافی نہیں، بلکہ یہ تو قبضے کو مزید پختہ کرتا ہے، لہٰذا وہ گھر بچے کے قبضہ میں ہی ہے اور یہ ہی (ہبہ کے درست ہونے کے لیے) شرط ہے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جس کی پرورش میں بچہ ہو، کیونکہ یہ تصرف خالص نفع کا ہے اور جس کے پاس بچہ ہو اسے ایک طرح کی ولایت وسرپرستی حاصل ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کی تربیت کر سکتا ہے اور اسے کسی پیشے میں لگا سکتا ہے، تو وہ فائدہ مند تصرف کا بھی حق رکھتا ہے، لہذاوہ بچے کو مالک بنا سکتا ہےاور بچہ محض ہبہ کرنے سے ہی مالک بن جائے گا، بشرطیکہ وہ چیز ہبہ کرنے والے کے قبضے میں ہو، جیسا کہ باپ کے معاملے میں ہے۔ (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، ج 5، ص 96، المطبعۃ الکبری، قاھرہ)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: اگر نابالغ تھا تو باپ نے جس وقت ہبہ نامہ لکھ دیا، اس سے پہلے جس وقت زبانی کہا میں نے ہبہ کیا، معاً ہبہ کرتے ہی بیٹا مالک ہوگیا، اگر چہ باپ نے ایک آن کو مکان نہ خالی کیا، نہ قبضہ دیا کہ اس صورت میں باپ کا قبضہ ہی بیٹے کا قبضہ ہے اور رجوع ناممکن۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 361، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حبیب الفتاوی میں ہے: ہبہ کردہ شئی کے مالک ہونے کے لئے موہوب لہ کا اس کو قبول کرنا اور تمام ہبہ کے لئے اس کا اس شئی پر قبضہ کرنا اگر چہ ضروری ہے، لیکن اگر نابالغ و نابالغہ کا ولی خود اس کے لئے ہبہ کرے، تو یہ ہبہ محض عقدِ ہبہ ہی سے تمام و صحیح ہوجاتا ہے، چونکہ ولی کا قبضہ نابالغ و نابالغہ کے قبضہ کا قائم مقام شرعاً قرار دیا گیا ہے۔ (حبیب الفتاوی، ج 3، ص 392، شبیر برادرز، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7744
تاریخ اجراء: 03 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 21 اپریل 2026ء