logo logo
AI Search

رمضان کے بعد نکلنے والی کمیٹی پر زکوۃ فرض ہوگی؟

کمیٹی رمضان کے بعد نکلنی ہے، تو اس پر زکوۃ ہوگی یا نہیں ؟

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-1411
تاریخ اجراء: 13رجب المرجب1445 ھ/25جنوری2024 ء

دارالافتاء اہلسنت(دعوت اسلامی)

سوال

زید نے کمیٹی ڈالی ہوئی ہے جو رمضان شریف کے بعد نکلنی ہے کیا اس پر بھی زکوۃ واجب ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سوال کے جواب سے پہلے یہ بات واضح رہے کہ زکوۃ رمضان میں فرض نہیں ہوتی بلکہ جب قابلِ زکوۃ مال پر اسلامی  سال گزرے اس وقت اس کی زکوۃ فوراً ادا کرنا لازم ہو جاتی ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ زکوۃ واجب ہونے کا اصل سبب زکوۃ کے نصاب کا مالک ہونا ہے اور جو مسلمان مرد یا عورت مالکِ نصاب ہو تو جس دن اس پر اسلامی سال مکمل ہو، اس دن اس کی ملکیت میں جتنا قابلِ زکوۃ مال ہو، اس کا حساب کر کے دیکھے، اگر وہ ابھی بھی مالکِ نصاب بن رہا ہو تو اس نصاب کی جتنی زکوۃ بنتی ہو فوراً ادا کر ے، کیونکہ سال مکمل ہونے کے بعد زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنا جائز نہیں ۔

رہا آپ کا سوال، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک آپ کی کمیٹی نہیں نکلتی اس وقت تک جتنی رقم آپ کمیٹی میں جمع کروا چکے ہیں اس کی حیثیت قرض کی ہے اتنی رقم کو بھی زکوۃ کے مال میں شمار کیا جائے گا یعنی اس پر زکوۃ لازم ہو گی، مگر اس کی ادائیگی آپ کے مالِ زکوۃ پر سال مکمل ہونے والے دن لازم نہیں ہوگی بلکہ ادائیگی اس وقت واجب ہو گی جب اپنے قرض سےنصابِ زکوٰة کا کم از کم پانچواں حصہ (10.5تولہ چاندی) وصول ہوجائے، اگر کل وصول ہوجائے، تو کل کی زکوۃ لازم ہوگی۔

نیز جب کمیٹی نکل آئے گی تو جتنی قسطیں باقی ہوں یعنی آپ پر جتنا قرض ہوگا اسے مائنس کر کے باقی رقم پر زکوۃ کی دیگر شرائط کے مطابق زکوۃ لازم ہو گی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم