logo logo
AI Search

کینسر کی مریضہ علاج سے پہلے سر منڈوا سکتی ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کینسر کی مریضہ مستقبل میں بال جھڑنے کے اندیشہ سے ابھی سر منڈوا سکتی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کینسر کی مریضہ کا کیموتھراپی (Chemotherapy) کا علاج شروع ہونے والا ہے، اور ڈاکٹروں کے مطابق علاج کے اثر سے اس کے بال جھڑ جانے کا غالب امکان ہے۔ کیا ایسی صورت میں بالوں کے خود بخود جھڑنے سے پہلے ہی، مریضہ اپنے سر کے بال منڈوا سکتی ہے، یا کٹوا سکتی ہے؟ شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں محض اس وجہ سے کہ کیموتھراپی کے نتیجے میں آئندہ سر کے بال جھڑ جانے کا غالب امکان ہے، علاج شروع ہونے سے پہلے عورت کے لیے اپنے سر کے بال منڈوا دینا یا بلا ضرورت اس قدر کٹوا دینا کہ مردوں سے مشابہت پیدا ہو، شرعاً جائز نہیں۔ اس لیے کہ شریعتِ مطہرہ میں عورت کو بلا عذر سر منڈانے سے منع کیا گیا ہے، اور محض مستقبل میں بال جھڑنے کا اندیشہ کوئی ایسا شرعی عذر نہیں، جو اس ممانعت کو ختم کر دے۔ نیز بالوں کا خود بخود جھڑ جانا ایک غیر اختیاری معاملہ ہے، جس پرپکڑنہیں، جبکہ انہیں پیشگی منڈوا دینا ایک مستقل اختیاری فعل ہے، جس پر پکڑ ہے۔ بخاری شریف میں ہے ''لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: المتشبھین من الرجال بالنساء و المتشابھات من النساء بالرجال'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت رکھنے والے مردوں اور مردوں سے مشابہت رکھنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (صحیح بخاری، ص 1090، رقم الحدیث 5885، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مذکورہ حدیث شریف کے تحت علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:قال الطبری المعنی لایجوز للرجال التشبہ بالنساء فی اللباس و الزینۃ التی تختص بالنساء و لا العکس" ترجمہ: امام طبری فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ مردوں کے لئے عورتوں کے مخصوص لباس اورزینت میں،و عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا، جائزنہیں اوراسی طرح اس کے برعکس عورتوں کے لئے مردوں کے مخصوص لباس اور زینت میں ان کے ساتھ مشابہت اختیارکرنا، جائزنہیں۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج 10، ص 332، مطبوعہ: مصر)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5152
تاریخ اجراء: 18 محرم الحرام 1448ھ / 04 جولائی 2026ء