عورت کا نفلی طواف میں نقاب لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت نفلی طواف میں نقاب لگا سکتی ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا نفلی طواف میں عورت نقاب لگا سکتی ہے؟
جواب
نفلی طواف اگر حالتِ احرام میں ہو تو عورت ایسا نقاب نہیں لگاسکتی جو چہرہ سے مس (ٹچ) ہو، کیونکہ حالتِ احرام میں چہرے کو کپڑے وغیرہ سے اس طرح چھپانا کہ وہ چہرے پر مَس ہورہا ہو، مرد و عورت دونوں کے لیے حرام ہے۔ ہاں غیر محرم (اجنبی مردوں) سے پردہ کرنے کے لئے چہرے پرٹچ کیے بغیر کسی گتّے یا کتاب وغیرہ کو آڑبنا کر چہرہ چھپائے ، البتہ اگر احرام میں نہ ہو تو نقاب لگا کر نفلی طواف کرنے میں حرج نہیں بلکہ اس صورت میں نقاب ہونا مناسب ہے، کہ چہرے کا کھلا ہونا فتنہ کا سبب ہے اور فی زمانہ عورت پر غیر محرم سے چہرہ چھپانا لازم ہے، لہذا حالتِ احرام کے بغیر کیے جانے والے نفلی طواف میں عورت اپنا چہرہ نقاب وغیرہ کے ذریعے چھپا لے۔
ممنوعاتِ احرام سے متعلق لباب المناسک میں ہے: (و تغطیۃ ۔ ۔ الوجہ)ای: للرجل و المراۃ“ ترجمہ: (حالتِ احرام میں) مردو عورت دونوں کیلئے چہرہ چھپانا منع ہے۔ (لباب المناسک، فصل فی محرمات الاحرام، صفحہ: 131، مطبوعہ، کوئٹہ)
حالتِ احرام میں مردوعورت دونوں کے چہرہ چھپانے کے متعلق علامہ محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (المتوفی: 1174ھ) فرماتے ہیں: جائز نیست محرم را پوشیدن تمام روی یا بعض آن اگرچہ محرم مرد باشد یا زن“ یعنی: محرم کو اپنا پورا یا بعض چہرہ ڈھکنا جائز نہیں اگرچہ محرم مرد ہو یا عورت۔ (حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب اول،فصل ششم، صفحہ: 23، مخطوطہ فارسی)
حالتِ احرام میں پردہ کرنے کے متعلق صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سالِ وفات: 1367ھ) فرماتے ہیں: احرام میں مونھ چھپانا عورت کو بھی حرام ہے، نا محرم کے آگے کوئی پنکھا وغیرہ مونھ سے بچا ہوا سامنے رکھے۔ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ: 1083، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
احرام اور غیرِ احرام کی صورت میں طواف کرتے ہوئے چہرہ چھپانے کے متعلق فتاوی حج و عمرہ نامی کتاب میں ہے: احرام میں عورت کو چہرہ کھلا رکھنا ہے، کہ حدیث شریف میں ہے: ”احرام المراۃ فی وجھھا“ یعنی عورت کا احرام اس کے چہرے میں ہے، اس لئے عورت جو طواف حالتِ احرام میں کرے گی اس میں تو اس کا چہرہ کھلا ہوگا مگر جو طواف حالتِ احرام میں نہ ہو اس میں چہرے کو کھلا رکھنے کا حکم نہیں فتنہ کا سبب ہے، لہذا عام حالت میں عورت طواف کرے تو اسے اپنے چہرے کو چھپانا ہوگا۔ (فتاوی حجّ و عمرہ، حصہ 2، صفحہ: 153، جمعیت اشاعت اہلسنت، پاکستان)
جوان عورت کا چہرہ غیر مردوں کے سامنے کھلا ہونا ممنوع ہے، جیسا کہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”تمنع المراۃ الشابّۃ من کشف الوجہ بین رجال ۔ ۔ لخوف الفتنۃ“ یعنی: فتنہ کے خوف کی وجہ سے نوجوان عورت کا (اجنبی) مردوں کے سامنے چہرہ کھولنا منع ہے۔ (ملتقطاً از تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، کتاب الصّلاۃ، فصل: فی ستر العورۃ، صفحہ: 97، مطبوعہ، کوئٹہ)
تنبیہ: بعض خواتین احرام میں غیر محرم مردوں سے چہرہ چھپانے کے لیے کیپ والا نقاب استعمال کرتی ہیں، اس میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے کہ بے احتیاطی کی صورت میں گناہ اور اس کے ساتھ کفارہ بھی لازم آسکتا ہے کیونکہ بسا اوقات کیپ اس طرح پہنتی ہیں کہ اس سے پیشانی کا کچھ حصہ چھپ جاتا ہے جو کہ چہرہ میں داخل ہوتا ہے اور یہ گناہ ہے پھر اگر مسلسل چار پہر (یعنی 12 گھنٹے) تک چھپا رہا تو صدقہ بھی لازم ہوگا کیونکہ پیشانی کا وہ حصہ چوتھائی سے کم ہوتا ہے اور چوتھائی سے کم چہرہ چار پہر تک چھپا ہو تو صدقہ لازم ہوتا ہے اور اس سے کم مدت تک چھپا ہو تو کفارہ لازم نہیں آتا مگر گناہ ہے۔ یونہی اس میں یہ بھی اندیشہ رہتا ہے کہ تیز ہوا کی وجہ سے نقاب چہرہ سے چپک جائے یا محرمہ بے توجہی میں پسینہ وغیرہ اسی نقاب سے پونچھنے لگے کہ ان صورتوں میں اگرچہ گناہ نہیں کہ جان بوجھ کر نہیں کیا مگر مکمل چہرہ یا اس کا چوتھائی حصہ چھپا تو صدقہ لازم آئے گا تو ان امور کا خیال رکھتے ہوئے کیپ والا نقاب پہنا جائے ورنہ ہاتھ کا پنکھا یا گتے وغیرہ کسی دوسری چیز سے جن میں یہ خدشات نہ ہوں، پردہ کیا جائے۔
نوٹ: صدقہ سے مراد: ایک صدقہ فطر کی مقدار ہے یعنی گندم یا اس کا آٹا یا ستو نصف صاع (2 کلو سے 80 گرام کم) یا اس کی قیمت ہے اور جَو یا کھجور ایک صاع (4 کلو سے 160 گرام کم) یا اس کی قیمت ہے۔
کفارہ کے متعلق سیّدی اعلی حضرت امامِ اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (سالِ وفات: 1340ھ) جد الممتار میں فرماتے ہیں: ”فالذی تحرر مما تقرر ان الکمال فی المستور اعنی : الراس و الوجہ بالربع و فی المستور فیہ اعنی الیوم او الیلۃ اللیلۃ باستیعاب المقدار فاذا وجد الکمال فیھما فدم او فی احدھما فصدقۃ او لا فی شی منھما فلا شی الا الکراھۃ و ھی علی ما استظھر ط تحریمیۃ، و اللہ تعالی اعلم۔“ ترجمہ: تو پچھلی تقریر سے جو بات صاف واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ مستور یعنی سر اور چہرہ میں کمال چوتھائی کے ساتھ ہے اور مستور فیہ یعنی دن یا رات میں پوری مقدار کے ساتھ ہے تو جب دونوں میں کمال پایا جائے گا تو دم لازم ہوگا یا ایک میں کمال ہوگا تو صدقہ لازم ہوگا یا کسی میں کمال نہیں ہوگا تو کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا مگر کراہت ہے اوروہ علامہ طحطاوی نے جیسے ظاہر فرمایا اس کے مطابق تحریمی ہے۔ و اللہ تعالی اعلم (جد الممتار، جلد 34، صفحہ 322324، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سالِ وفات: 1367ھ) فرماتے ہیں: مرد یا عورت نے مونھ کی ٹکلی ساری یا چہارم چھپائی یا مرد نے پورا سر یا چہارم سر چھپایا تو چار پہر یا زیادہ لگاتار چھپانے میں دم ہے اور کم میں صدقہ اور چہارم سے کم کو چار پہر تک چھپایا تو صدقہ ہے اور چار پہر سے کم میں کفارہ نہیں مگر گناہ ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ: 1169، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بلا قصد چہرہ چھپا تو گناہ نہیں اس کے متعلق امامِ اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ مستورات منہ پر پنکھا کھجور کا لگالیتی ہیں یقیناً وہ پنکھا کنپٹی اور ناک اور منہ سے لگتا ہے اور چہرہ پوشیدہ بھی رہتا ہے، احرام کی حالت میں کیا کرنا چاہئے؟ تو آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: پنکھا سر پر مضبوط باندھیں کہ اٹھا رہے اور بڑا ہو کہ اٹھا رہنے کی حالت میں چہرہ اجانب سے چھپا رہے پھر بھی اگر احیاناً چہرہ پر ڈھلک آئے یا کنپٹی یا ناک یا منہ سے لگے اگر منہ کی ٹکلی کے چہارم تک نہ پہنچے تو کفارہ کچھ نہیں، نہ قربانی نہ صدقہ کہ نہ چہارم منہ چھپایا نہ چار پہر تک اُسے دوام رہا، اس صورت میں کراہت و معصیت ہوتی مگر جبکہ وہ بلا قصد ہےاور اُسے قائم نہ رکھا گیا تو مؤاخذہ نہیں، ہاں اگر چہارم منہ کی ٹکلی چھپ جائے گی تو ضرور صدقہ دینا آئے گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ: 715 تا 716، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حالتِ احرام میں کیپ والا نقاب پہننے کی احتیاطوں سے متعلق رفیق المعتمرین میں ہے: اسلامی بہن پی کیپ والا نقاب بھی پہن سکتی ہے مگر یہ احتیاط ضروری ہے کہ چہرے سے مس (TOUCH) نہ ہو، اس میں یہ اندیشہ رہے گا کہ تیز ہوا چلے اور نقاب چہرے سے چپک جائے یا بے توجّہی میں پسینہ وغیرہ اسی نقاب سے پونچھنے لگے، لہذا سخت احتیاط رکھنی ہوگی۔ (رفیق المعتمرین، صفحہ: 34، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Har-7363
تاریخ اجراء: 28 شوال المکرم 1447ھ / 17 اپریل 2026ء