حیض کی حالت میں ہمبستری کرنے پر غسل کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت مخصوص دنوں میں ہمبستری کرے تو اس پر غسل کب لازم ہوگا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر بیوی کے مخصوص ایام چل رہے ہوں اور اس دوران ہمبستری کرلی، تو کیا بیوی پر فوری غسل کرنا فرض ہو گا یا حیض سے فارغ ہونے کے بعد اکٹھا غسل کرسکتی ہے؟
جواب
سوال کے جواب سے پہلے یہ جان لیجیے کہ مخصوص ایام میں بیوی سے ہمبستری کرنا، ناجائز و گناہ ہے، بلکہ اِس حالت میں بیوی کے ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک کے حصے کو شہوت کے ساتھ چھوٹا حرام ہے بلکہ بغیر شہوت بھی کسی موٹے کپڑے (جو جسم کی گرمی محسوس نہ ہونے دے)کے حائل کیے بغیر چھونا جائز نہیں۔ نیز اِتنے حصے کو شہوت کے ساتھ دیکھنا بھی جائز نہیں، لہٰذا ایسا کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنا لازم ہے۔
جہاں تک اِس حالت میں ہمبستری کے بعد عورت پر غسل لازم ہونے کا سوال ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس عورت پر فوری غسل کرنا لازم نہیں، کیونکہ غسل کا مقصد طہارت (پاکیزگی) حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ نماز وغیرہ ادا کی جاسکے اور چونکہ حیض ختم ہونے سے پہلے یہ ممکن نہیں، لہٰذا فوراً غسل لازم ہونے کی بجائے اسے اختیار ہے کہ چاہے اب غسل کرلے یا حیض سے پاک ہونے کے بعد اکٹھا ایک ہی غسل کرلے۔
مخصوص ایام میں عورت سے ہمبستری کرنے کی ممانعت کے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے: ”عن النبي صلی اللہ علیہ والہ وسلم قال: من أتى حائضا أو امرأة في دبرها، أو كاهنا فقد كفر بما أنزل على محمد“ ترجمہ: نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جو حائضہ عورت سے یا عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرے یا کاہن کے پاس جائے، تو اس نے اس کا انکار کیا، جو محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہوا۔ (سنن الترمذی، جلد 1، صفحہ 178، مطبوعہ دارالغرب الاسلامی، بیروت)
حالتِ حیض میں عورت سے نفع حاصل کرنے کی تفصیل کے متعلق اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”کلیہ یہ ہے کہ حالتِ حیض ونفاس میں زیر ناف سے زانو تک عورت کے بدن سے بلا کسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسم عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے تمتع جائز نہیں، یہاں تک کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھُونا بلا شہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپر نیچے کے بدن سے مطلقاً ہر قسم کا تمتع جائز یہاں تک کہ سحقِ ذکر کرکے انزال کرنا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 353، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
حائضہ پر غسل فرض ہوجائے، تو حیض ختم ہونے سے پہلے غسل لازم نہ ہونے کے متعلق ”المحیط البرھانی“میں ہے: ”أن الحائض إذا أجنبت لا يجب عليها الغسل حتى تطهر من الحيض، وإذا طهرت واغتسلت فظاهر الجواب أن الاغتسال منهما “ ترجمہ: حائضہ عورت جُنبی ہوجائے، تو حیض سے پاک ہونے سے پہلے اس پر غسل کرنا واجب نہیں، جب وہ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرے، تو ظاہر یہی ہے کہ یہ ایک غسل دونوں (حیض اور جنابت)کے لیے ہوگا۔ (المحیط البرھانی، جلد 4، صفحہ 287، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
حائضہ جُنبی ہوجائے، تو ایک ہی غسل کافی ہوجانے کے متعلق معراج الدرایہ میں ہے: ”أن الحائض إذا أجنبت يكفيها غسل واحد“ ترجمہ: حائضہ عورت جب جُنبی ہوجائے، تو اس کے لیے ایک ہی غسل کافی ہے۔ (معراج الدرایۃ فی شرح الھدایۃ، جلد 1، صفحہ 146، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
جنابت اور حیض جمع ہوجائیں، تو فوری غسل لازم نہیں، بلکہ مؤخر کرنے کا اختیار ہے، اس مسئلہ کی علت کے متعلق شمس الآئمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 483ھ/1090ء) لکھتے ہیں: ”لأن الاغتسال للتطهير حتى تتمكن به من أداء الصلاة، وهذا لا يتحقق من الحائض قبل انقطاع الدم“ ترجمہ: غسل پاک کرنے کے لیے ہوتا ہے تاکہ اس کے ذریعے نماز ادا کی جاسکے اور حائضہ کے لیے یہ مقصد خون بند ہونے سے پہلے حاصل نہیں ہوسکتا۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 1، صفحہ 70، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: ”حائض و نفساء کو جب تک حیض و نفاس باقی ہے، وضو و غسل کا حکم نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 2، صفحہ 44، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9909
تاریخ اجراء:18 شوال المکرم 1447ھ/07 اپریل 2026 ء