عورتیں مسجد نبوی میں اعتکاف کرسکتی ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورتوں کا مسجد نبوی میں اعتکاف کرنا جائز ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
عورتوں کا مسجد نبوی میں اعتکاف کرنا جائز ہے؟
جواب
عورت کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ گھر کی مسجد ( گھر میں نماز کے لئے مقرر جگہ) میں ہی اعتکاف کرے، عورت کے لیے باہر کی مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہ ہے، کیوں کہ حدیث پاک میں موجود ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتکاف کے لئے مسجد میں خیمہ لگایا گیا، تو ساتھ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کے بھی خیمے لگا دئیے گئے، جس پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہوئے، اور اسے ناپسند فرمایا، یہاں تک کہ اپنا خیمہ اتارنے کا حکم ارشاد فرمایا، اور اس سال رمضان میں خود بھی اعتکاف نہیں فرمایا۔ پس جب اس زمانہ خیر میں مسجد نبوی میں اعتکاف کی اجازت نہ دی، تو آج کے دور میں جبکہ فتنہ، فساد غالب ہے، عورتوں کو مسجد میں اعتکاف سے بدرجہ اولیٰ منع کیا جائے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے
”وأما المرأة فذكر في الأصل أنها لا تعتكف إلا في مسجد بيتها ولا تعتكف في مسجد جماعة“
ترجمہ: بہرحال عورت تو اصل میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر کی مسجد میں ہی اعتکاف کرے گی، جامع مسجد میں اعتکاف نہیں کرے گی۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 281، مطبوعہ: کوئٹہ)
مبسوط سرخسی میں ہے
”ولا تعتكف المرأة إلا في مسجد بيتها....(ولنا) أن موضع أداء الاعتكاف في حقها الموضع الذي تكون صلاتها فيه أفضل كما في حق الرجال وصلاتها في مسجد بيتها أفضل فإن النبي صلی اللہ علیہ وسلم - لما «سئل عن أفضل صلاة المرأة فقال: في أشد مكان من بيتها ظلمة» وفي الحديث أن «النبي – صلی اللہ علیہ وسلم - لما أراد الاعتكاف أمر بقبة فضربت في المسجد فلما دخل المسجد رأى قبابا مضروبة فقال: لمن هذه فقيل لعائشة وحفصة فغضب وقال: آلبر يردن بهن وفي رواية يردن بهذا، وأمر بقبته فنقضت فلم يعتكف في ذلك العشر» فإذا كره لهن الاعتكاف في المسجد مع أنهن كن يخرجن إلى الجماعة في ذلك الوقت؛ فلأن يمنعن في زماننا أولى“
ترجمہ: اور عورت صرف مسجد بیت میں ہی اعتکاف کرے گی۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ عورت کے حق میں اعتکاف کی جگہ وہی ہے جہاں اس کی نماز ادا کرنا زیادہ افضل ہو، جیسا کہ مردوں کے حق میں (مسجد ہے)۔ اور عورت کی نماز اس کے گھر کی مسجد میں زیادہ افضل ہے۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب عورت کی بہترین نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "اس کے گھر کے سب سے زیادہ تاریک حصے میں۔" اور ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعتکاف کا ارادہ فرمایا تو ایک خیمہ مسجد میں لگانے کا حکم دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو کئی خیمے لگے ہوئے دیکھے، تو فرمایا: یہ کس کے ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے ہیں۔ تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا: کیا وہ اس کے ذریعے نیکی حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ ایک روایت میں ہے: کیا وہ اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خیمے کو اکھاڑ دینے کا حکم دیا، چنانچہ آپ نے اس عشرے میں اعتکاف نہیں کیا۔ پس جب عورتوں کے لیے مسجد میں اعتکاف کو ناپسند کیا گیا، حالانکہ اس زمانے میں وہ جماعت کے لیے مسجد آیا کرتی تھیں، تو ہمارے زمانے میں ان کوبدرجہ اولیٰ روکنا ہوگا۔ (مبسوط سرخسی، باب الاعتکاف، جلد 2، صفحہ 120، داراحیاء التراث العربی)
بہار شریعت میں ہے: "عورت کو مسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اُس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1021، مکتبۃ المدینہ کراچی)
امام ابو بکر الجصاص علیہ رحمۃ الرحمٰن قرآنِ پاک کی اس آیت ( وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ ۙ- فِی الْمَسٰجِدِ ) ترجمہ: جبکہ تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو۔ کے تحت ارشاد فرماتے ہیں:
’’وأما شرط اللبث في المسجد فإنه للرجال خاصة دون النساء“
ترجمہ: بہرحال اعتکاف کے لئے مسجد میں ٹھہرنے کی شرط مردوں کے لئے خاص ہے، نہ کہ عورتوں کے لئے۔ (احکام القرآن للجصاص، ج 1، ص 294، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4882
تاریخ اجراء:19 شوال المکرم1447ھ/09 اپریل 2026ء