logo logo
AI Search

عورتوں کا مسجد میں عید نماز پڑھنے آنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورتوں کے لیے عید نماز پڑھنے کی ایک ناجائز صورت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہمارے ہاں جب مرد حضرات عید کی نماز پڑھ لیتے ہیں، تو امام صاحب اعلان کرتے ہیں کہ اب عورتیں مسجد میں آجائیں اور نمازِ عید پڑھ لیں۔ عورتیں آکر صف بنا لیتی ہیں، امام صاحب ایک طرف دروازے میں ہوکر کھڑے ہوجاتے ہیں اور انہیں بتاتے رہتے ہیں کہ اب نیت کرنی ہے، اب ثناء پڑھیں، اب تین تکبیریں کہیں وغیرہ، یوں آخر تک بتاتے رہتے ہیں اور عورتیں ان کے کہنے کے مطابق نماز عید پڑھتی رہتی ہیں، عورتوں کا کوئی امام نہیں ہوتا۔معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ طریقہ شرعاً درست ہے؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب

سوال میں بیان کردہ صورت میں کئی شرعی خرابیاں پائی جارہی ہیں، لہذا امام کا عورتوں کے لیے اعلان کرنا اور عورتوں کا مسجد میں آکر نمازِ عید پڑھنا شرعا ًجائز نہیں ہے اور اس طرح عید کی نماز ادا بھی نہیں ہوتی۔

ناجائز ہونے کی تفصیل ؛

اولاً یہ کہ جمعہ کی طرح عید کی نماز کے لیے بھی جماعت شرط ہے، جماعت کے بغیر عید کی نماز ادا نہیں ہو سکتی، لہذا عورتوں کا بغیر جماعت کے عید کی نماز پڑھنا شرعاً درست نہیں ہے۔ نیز عورتوں کو جماعت کے ساتھ  بھی عید کی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، خواہ مردوں کی جماعت میں شریک ہو کر پڑھیں یا اپنی الگ جماعت کروا کر پڑھیں، بہر صورت ناجائز و گناہ ہے، مردوں کی جماعت میں شریک ہونے کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ شریعت مطہرہ نے فسادِ زمانہ کی وجہ سے نمازِ پنچ گانہ جوکہ فرض ہیں، ان کی جماعت میں عورت کو شریک ہونے کی اجازت نہیں دی، عید کی نماز تو عورت پر واجب ہی نہیں ہے، اس کے لیے عورت کو مردوں کی جماعت میں شریک ہونا بدرجہ اولی منع ہوگا، ا ور عورتوں کا اپنی الگ  جماعت کروانا بھی جائز نہیں ہے، کہ عورتوں کی جماعت مطلقا مکروہ تحریمی ہے۔

ثانیا ًیہ کہ سوال میں بیان کردہ صورت میں عورتیں نماز کے تمام افعال ایک ایسے شخص کے کہنے پر ادا کر رہی ہیں، جو نماز سے باہر ہے، حالانکہ  اس طرح لقمہ لینے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

بیان کردہ شرعی حکم کے دلائل:

عید کی نماز کے لیے جماعت شرط ہے، چنانچہ ملک العلماء، علامہ علاء الدين کاسانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

”أما شرائط وجوبها وجوازها فكل ما هو شرط وجوب الجمعة وجوازها فهو شرط وجوب صلاة العيدين وجوازها من الإمام والمصر والجماعة والوقت۔۔۔ والجماعة شرط؛ لأنها ما أديت إلا بجماعة“

ترجمہ: بہر حال عیدین کی نماز کے وجوب اور جواز کی وہی شرائط ہیں جو جمعہ کے وجوب اور جواز کی ہیں، جیسے امام کا ہونا، شہر ہونا، جماعت اور وقت کا ہونا۔ اور جماعت یہ عیدین کے لیے شرط ہے، کیونکہ عیدین کی نماز کی ادائیگی جماعت کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 01، صفحہ 275، دار الكتب العلمية)

عورتوں کا کسی بھی نماز کی جماعت میں شریک ہونا جائز نہیں ہے، چنانچہ علامہ اکمل الدین الرومی البابرتی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 786 ھ / 1384ء) لکھتے ہیں:

”والفتوى ‌اليوم على كراهة حضورهن في الصلوات كلها لظهور الفساد“

ترجمہ: اور فتنہ و فساد کے ظاہر ہونے کی وجہ سے اب فتوی عورتوں کےتمام نمازوں میں حاضری کے مکروہ ہونے پر ہے۔  (العنایۃ شرح الھدایۃ، جلد 01، صفحہ 366، دار الفكر، لبنان)

اسی طرح تنوير الابصار مع درمختار میں ہے:

”(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقاً) ولو عجوزاً ليلاً (على المذهب) المفتى به؛ لفساد الزمان“

ترجمہ: اور فسادِ زمانہ کی وجہ سے مفتی بہ مذہب کے مطابق عورتوں کی جماعت میں حاضری اگر چہ جمعہ، عید اور وعظ کے لیے ہو مطلقاً مکروہ ہے، اگر چہ بوڑھی عورت ہو، رات ہو۔ (تنویرالابصار مع درمختار، جلد 01، صفحہ 566، دار الفکر، بیروت)

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”ائمہ دین نے جماعت و جمعہ و عیدین درکنار وعظ کی حاضری سے بھی مطلقاً منع فرمادیا اگر چہ بڑھیا ہو، اگر چہ رات ہو۔۔۔۔۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم و سُنن ابی داؤد میں اُم المومنین صدیقہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا کا ارشاد اپنے زمانہ میں تھا:

"لو ادرک رسول اﷲ صلی ﷲ تعالٰی علہ وسلم مااحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء نبی اسرائیل"

ترجمہ: اگر رسول اللہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ملاحظہ فرماتے جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں، تو ضرور انھیں مسجد سے منع نہ فرمادیتے، جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کردی گئیں۔                                                                                                                                                                                                                                                 

پھر تابعین ہی کے زمانے سے ائمہ نے ممانعت شروع فرمادی، پہلے جو ان عورتوں کو پھر بوڑھیوں کو بھی، پہلے دن میں پھر رات کو بھی، یہاں تک کہ حکم ممانعت عام ہوگیا۔ جب ان خیر کے زمانوں میں ان عظیم فیوض و برکات کے وقتوں میں عورتیں منع کردیں گئیں، اور کاہے سے، حضور مساجد و شرکت جماعات سے، حالانکہ دین متین میں ان دونوں کی شدید تاکید ہے۔ (ملتقطاً از فتاوی رضویہ، جلد 09، صفحہ 549 تا 550، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

عورتوں کے نمازِ عید تنہا اور جماعت کے ساتھ پڑھنے کے متعلق مفتی جلال الدین امجدی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1422ھ/2001ء) لکھتے ہیں: ”مذکور بالا عبارتوں سے معلوم ہوا کہ عورتوں پر نماز عید واجب نہیں، رہا جواز کا سوال تو عورتوں کے لیے عیدین کی نماز بھی جائز نہیں، اس لیے کہ عید گار میں اختلاط مردم ہوگا اور عورتیں جماعت کریں تو یہ بھی ناجائز، اس لیے کہ صرف عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے اور فرداً فرداً پڑھیں تو بھی نماز جائز نہ ہوگی، اس لیے کہ عیدین کی نماز کے لیے جماعت شرط ہے۔ واذا فات الشرط فات المشروط (جب شرط فوت ہوگئی، تو مشروط بھی فوت ہوگیا)۔“ (فتاوی فیض الرسول، جلد 01، صفحہ 436، نشان منزل پبلی کیشنز، لاہور)

غیر نمازی کا لقمہ لینے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے:

”ولو ‌فتح ‌على ‌غير ‌إمامه تفسد إلا إذا عنى به التلاوة دون التعليم. كذا في محيط السرخسي وتفسد صلاته بالفتح مرة ولا يشترط فيه التكرار وهو الأصح. هكذا في فتاوى قاضي خان“

 ترجمہ: اور اگر کسی نے اپنے امام کے علاوہ کو لقمہ دیا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، مگر جب اس نے تلاوت کی نیت کی ہو، نہ کہ تعلیم کی، اسی طرح محیط سرخسی میں ہے، اور ایک مرتبہ لقمہ دینے سے ہی اس کی نماز فاسد ہو جائے گی اور اس میں تکرار شرط نہیں ہے اور یہی اصح ہے، اسی طرح فتاوی قاضی خان میں ہے۔ (فتاوی ھندیہ، جلد، 01 صفحہ99، دار الفكر، بيروت)

علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”لأنه تعلم وتعليم من غير حاجة بحر. وهو شامل لفتح المقتدي على مثله وعلى المنفرد وعلى غير المصلي وعلى إمام آخر“

ترجمہ: کیونکہ یہ بلا ضرورت سیکھنا اور سکھانا ہے، اور یہ حکم مقتدی کے اپنے جیسے کسی دوسرے مقتدی پر، اکیلے نماز پڑھنے والے پر، غیر نمازی پر اور کسی دوسرے امام پر لقمہ دینے کو بھی شامل ہے۔ (رد المحتار علی درمختار، جلد 01، صفحہ 622، دار الفکر، بیروت )

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0235
تاریخ اجراء: 14 رمضان المبارک 1447 ھ/04 مارچ 2026ء