logo logo
AI Search

نماز میں اعضائے ستر ظاہر ہوتو نماز کا حکم؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دورانِ نماز مختلف اعضائے ستر چوتھائی سے کم ظاہر ہوں، تو نماز کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

دورانِ نماز عورت کے جسم کے مختلف اعضا چوتھائی سے کم نظر آرہے ہوں مثلاً سر ،بال، پاؤں اور ہاتھ تو کیا اس عورت کی نماز ہوجائے گی؟

جواب

نماز میں اعضائےسِتر میں سے کسی عضوکے نظر آنےکے متعلق اصول یہ ہے کہ:

(1) نماز شروع کرتے وقت اعضائےسِتر میں شامل کسی بھی عضو کا چوتھائی حصہ کھلا ہوا ہو (خواہ اس کے اوپر کوئی کپڑا نہ ہو یا باریک کپڑا یا دوپٹہ ہو جس سے رنگت جھلکتی ہو) یا متعدد اعضائے سِتر کھلے ہونے کی صورت میں اگر ان میں سے ہر ایک اس عضو کی چوتھائی سے کم کھلا ہے لیکن وہ سب ملا کر ان کھلے ہوئے اعضا میں جو سب سے چھوٹا عضو ہے اس کی چوتھائی کے برابر ہے، تو ایسی حالت میں نماز شروع ہی نہیں ہوتی۔

(2) اگر نماز شروع کرتے وقت سب اعضائے سِتر چھپے ہوں،پھر دورانِ نماز چوتھائی سے کم سِتر کھل گیا تو نماز ہوجائے گی اور اگر چوتھائی سِتر کھل گیا اور فوراً چھپا لیا تب بھی نماز ہوجائے گی لیکن اگر اسی حالت میں تین بار سبحان اللہ کہنے کے برابر وقت گزر گیا یا کوئی رکن جیسے رکوع یا سجدہ ادا کرلیا تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ اسی طرح اگر معاذ اللہ جان بوجھ کر کھولا تو نماز ٹوٹ جائے گی اگرچہ فوراً چھپا لے۔

واضح رہے کہ عورت کا سر اور سر کے بال جو لٹک رہے ہوں ستر عورت میں داخل اور الگ الگ عضو ہیں ۔

پوچھی گئی صورت میں جو اعضاء نماز میں کھل گئے ، ان کے کھلے ہوئے حصے کا مجموعہ اگر سب سے چھوٹے عضو کی چوتھائی کے برابر یا زائد ہوا تو مذکورہ بالا احکام کے مطابق عمل کریں۔

فتاویٰ رضویہ میں ہے:”اگر ایک عضو کی چہارم کھل گئی،اگر چہ اس کے بلا قصدہی کھلی ہو اور اس نے ایسی حالت میں رکوع یا سجود یا کوئی رکن کامل اداکیا ، تو نما ز بالاتفاق جاتی رہی۔ اگر صورتِ مذکورہ میں پورارکن تو ادا نہ کیا مگر اتنی دیرگزر گئی جس میں تین بار سبحان اللہ کہہ لیتا، توبھی مذہبِ مختارپر جاتی رہی۔ اگر نمازی نے بالقصد ایک عضو کی چہارم بلا ضرورت کھولی تو فوراً نماز جاتی رہی اگرچہ معاً چھپالے، یہاں ادائے رکن یا اُس قدر دیر کی کچھ شرط نہیں۔ اگر تکبیر تحریمہ اسی حالت میں کہی کہ ایک عضو کی چہارم کھلی ہے تو نماز سرے سے منعقد ہی نہ ہوگی اگرچہ تین تسبیحوں کی دیر تک مکشوف نہ رہے۔ ان سب صورتوں میں اگر ایک عضو کی چہارم سے کم ظاہر ہے، تو نما ز صحیح ہو جائے گی اگر چہ نیت سے سلا م تک انکشاف رہے اگرچہ بعض صورتوں میں گناہ و سوئے ادب بیشک ہے۔ اگر ایک عضو دو جگہ سے کھلا ہو مگر جمع کرنے سے اس عضو کی چوتھائی نہیں ہوتی تو نماز ہو جائے گی اور چوتھائی ہو جائے تو بتفاصیل مذکورہ نہ ہوگی۔ متعدد عضووں مثلاً دومیں سے اگر کچھ کچھ حصّہ کھلا ہے تو سب جسم مکشوف ملانے سے ان دونوں میں جو چھوٹا عضو ہے اگر اس کی چوتھائی تک نہ پہنچے تو نماز صحیح ہے ورنہ بتفصیلِ سابق باطل۔۔۔ اسی طرح تین یا چار یا زیادہ اعضا میں انکشاف ہو تو بھی اُن میں سب سے چھوٹے عضو کی چہارم تک پہنچنا کافی ہے اگرچہ اکبر یا اوسط یا خفیف حصّہ ہو۔‘‘(فتاوی ٰ رضویہ، جلد 6، صفحہ30، رضا فاونڈیشن لاہور)

نماز میں عورت کے اعضائے ستر کی تفصیل سے متعلق بہار شریعت میں ہے:” آزاد عورتوں کے ليے، باستثنا پانچ عضو کے، جن کا بیان گزرا، سارا بدن عورت ہے اور وہ تیس اعضا پر مشتمل کہ ان میں جس کی چوتھائی کھل جائے، نماز کا وہی حکم ہے، جو اوپر بیان ہوا۔ (۱) سر یعنی پیشانی کے اوپر سے شروع گردن تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک، یعنی عادۃً جتنی جگہ پر بال جمتے ہیں۔ (۲) بال جو لٹکتے ہوں۔ (۳،۴) دونوں کان۔ (۵) گردن اس میں گلا بھی داخل ہے۔ (۶،۷) دونوں شانے۔ (۸،۹) دونوں بازو، ان میں کہنياں بھی داخل ہیں۔ (۱۰،۱۱) دونوں کلائیاں یعنی کہنی کے بعد سے گٹوں کے نیچے تک۔ (۱۲) سینہ یعنی گلے کے جوڑ سے دونوں پستان کی حد زیریں تک۔ (۱۳،۱۴) دونوں ہاتھوں کی پشت۔ (۱۵،۱۶) دونوں پستانیں، جب کہ اچھی طرح اٹھ چکی ہوں، اگر بالکل نہ اٹھی ہوں يا خفیف اُبھری ہوں کہ سینہ سے جدا عضو کی ہیأت نہ پیدا ہوئی ہو، تو سینہ کی تابع ہیں، جدا عضو نہیں اور پہلی صورت میں بھی، ان کے درمیان کی جگہ سینہ ہی میں داخل ہے، جدا عضو نہیں۔ (۱۷) پیٹ یعنی سینہ کی حد مذکور سے ناف کے کنارۂ زیریں تک، یعنی ناف کا بھی پیٹ میں شمار ہے۔ (۱۸) پیٹھ یعنی پیچھے کی جانب سینہ کے مقابل سے کمر تک۔ (۱۹) دونوں شانوں کے بیچ میں جو جگہ ہے، بغل کے نیچے سینہ کی حد زیریں تک، دونوں کروٹوں میں جو جگہ ہے، اس کا اگلا حصہ سینہ میں اور پچھلا شانوں یا پیٹھ میں شامل ہے اور اس کے بعد سے دونوں کروٹوں میں کمر تک جو جگہ ہے، اس کا اگلا حصہ پیٹ میں اور پچھلا پیٹھ میں داخل ہے۔ (۲۰،۲۱) دونوں سرین۔ (۲۲) فرج۔ (۲۳) دبر۔ (۲۴،۲۵) دونوں رانیں، گھٹنے بھی انھيں میں شامل ہیں۔ (۲۶) ناف کے نیچے پیڑو اور اس کے متصل جو جگہ ہے اور انکے مقابل پشت کی جانب سب مل کر ایک عورت ہے۔ (۲۷،۲۸) دونوں پنڈلیاں ٹخنوں سمیت۔ (۲۹،۳۰) دونوں تلوے اور بعض علماء نے پشتِ دست اور تلوؤں کو عورت میں داخل نہیں کیا۔“ (بہار شریعت ،جلد1، صفحہ 484، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2382

تاریخ اجرا: 04صفرالمظفر1447ھ/30جولائی2025ء