رمضان کے روزے کے لیے شوہر کی اجازت لینے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رمضان کے فرض روزے کے لیے شوہرکی اجازت لینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا رمضان کا فرض روزہ رکھنے کے لئے بھی شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے؟
جواب
فرض روزہ رکھنے کے لئے شوہر سے اجازت لینا ضروری نہیں بلکہ اگر شوہر منع کرے، پھر بھی رمضان کا فرض روزہ رکھنا لازم ہے کیونکہ اللہ پاک کی نافرمانی والے کاموں میں بندوں کی اطاعت جائز نہیں، اور شوہر بھی اس ناجائز کام کا حکم دینے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔
رد المحتار میں ہے
”فی البحر عن القنیۃ: للزوج ان یمنع زوجتہ عن کل ما کان الایجاب من جھتھا کالتطوع و النذر و الیمین دون ما کان من جھتہ تعالیٰ کقضاء رمضان“
ترجمہ: بحر میں قنیہ کے حوالے سے منقول ہے کہ شوہر کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ہر اس روزے سے منع کرسکتا ہے، جوعورت کی جہت سے اس پر لازم ہواہو، جیسے نفل، منت اور قسم کے روزے، جبکہ جو روزے اس پر اللہ عزوجل کی جانب سے لازم ہوئے ہوں، ان روزوں کو رکھنے سے شوہر بیوی کو منع نہیں کرسکتا جیسا کہ رمضان کے قضا روزے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 478، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے ”رمضان اور قضائے رمضان کے لئے شوہر کی اجازت کی کچھ ضرورت نہیں بلکہ اس کی ممانعت پر بھی رکھے۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ5، صفحہ 1008، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اللہ پاک کی نافرمانی والے کام میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ جیساکہ صحیح مسلم میں ہے:
”قال: لا طاعة في معصية اللہ، إنما الطاعة في المعروف"
ترجمہ: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو فقط بھلائی میں ہے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 738، حدیث: 1840، دار الکتب العلمیۃ، بيروت)
فتاوی رضویہ میں ہے ”اللہ عزوجل کی معصیت میں کسی کا اتباع درست نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 188، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”شرعِ مطہر نے ہر ایک کے حقوق مقرر کردئیے ہیں، جن کا پورا کرنا لازم ہےاور خود شرع کے بھی حقوق ہیں جو سب پر مقدم ہیں۔۔۔جس کو شرع مطہر نے ناجائز قرار دیا ہے اس میں اطاعت نہیں کہ یہ حقِ شرع ہے اور کسی کی اطاعت میں احکامِ شرع کی نافرمانی نہیں کی جاسکتی کہ معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ حدیث میں ہے: لا طاعۃ للمخلوق فی معصیۃ الخالق“ ترجمہ: خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ (فتاوٰی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 198، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4745
تاریخ اجراء: 02 شعبان المعظم1447ھ/ 22 جنوری 2026ء