logo logo
AI Search

آفس میں مرد و عورت کا ساتھ کام کرنا - خلوت کے احکام

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آفس میں عورت کے ساتھ کتنے لوگ ہوں تو خلوت کا حکم ہوگا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کمرے/آفس  میں  دو مرد اور ایک عورت تنہا ہو، یا دو عورتیں اور ایک مرد موجود ہو، تو کیا یہ بھی خلوت (تنہائی) کے حکم میں آئے گا ؟ کیونکہ آج کل کئی اداروں، کمپنیوں، Franchisees کے آفسز میں اس طرح کی صورتیں بہت زیادہ دیکھنے میں آتی ہیں، لہذا برائے مہربانی اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔

جواب

حکم شرعی یہ ہے کہ اجنبی (غیر محرم) مرد و عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ کسی مکان میں تنہائی اختیار کرنا مکروہ تحریمی ناجائز و گناہ ہے۔ اب رہا یہ کہ اجنبی مرد و عورت کے ساتھ اگر تیسرا اجنبی فرد (چاہے مرد ہو یا عورت) بھی وہاں موجود ہے، تو یہ خلوت شمار ہوگی یا نہیں؟ تو اس كا جواب یہ ہے کہ تیسرے فرد کی موجودگی سے خلوت کے احکام تو ختم ہو جاتے ہیں، تاہم اس صورت کے جائز اور ناجائز ہونے کا مدار اس با ت پر ہے کہ وہاں اندیشہ فتنہ موجود ہے یا نہیں، کیونکہ بعض اوقات اگرچہ خلوت کی صورت ختم ہو جاتی ہے لیکن اندیشہ فتنہ باقی رہتا ہے اور یہی حکم کا مدار ہے۔

لہذا اگر کسی مکان میں دو عورتیں اور ایک مرد، یا دو مرد اور ایک عورت موجود ہوں، لیکن وہاں موجود دونوں عورتیں یا دونوں مرد اپنے چال چلن کے اعتبار سے قابلِ اعتماد نہیں لگتے اور ان کی موجودگی میں اندیشہ فتنہ محسوس ہوتا ہو، تو ایسی صورت میں تیسرے فرد کی موجودگی کے باوجود اس مکان میں رہنا ناجائز ہوگا۔

اور اگر ان میں سے کوئی ایک مرد یا عورت اپنے چال چلن کے اعتبار سے قابلِ اعتماد لگے، اور اس کے بارے میں یہ گمان ہو کہ اس کی موجودگی میں کوئی غیر مناسب صورتِ حال پیش نہیں آئے گی، اور اگر بالفرض ایسی صورت پیدا بھی ہو جائے تو وہ ان کے درمیان حائل ہونے کی صلاحیت رکھتا یا رکھتی ہے، تو ایسی صورت میں تین یا اس سے زائد اجنبی مرد و عورت کا ایک مکان میں اکٹھا ہونا جائز ہوگا۔

تفصیل:

اجنبی مرد و عورت کا تنہائی اختیار کرنا مکروہ تحریمی ناجائز و گناہ ہے، تاہم یہ تنہائی تیسرے شخص کی موجودگی سے ختم ہو جاتی ہے، حدیث پاک اور کتب فقہ کی تصریحات کا ظاہر یہی ہے، ہاں بعض مقامات پر فقہائے کرام تیسرے شخص کی موجودگی کے باوجود اندیشہ فتنہ کے سبب ممانعت کا حکم فرماتے ہیں، کیونکہ اصل مدار اندیشہ فتنہ ہی ہے اور اسی کے سبب خلوت کو بھی ناجائز قرار دیا گیا، لہذا اگر تیسرے شخص کی موجودگی کے باوجود بھی کہیں اندیشہ فتنہ محسوس ہو تو وہاں موجود رہنا اندیشہ فتنہ کی وجہ سے ناجائز ہوگا نہ کہ خلوت کے سبب۔

خلوت بالاجنبیہ ناجائز ہے، اس کے متعلق، نیز خلوت کے معنی و مفہوم کے حوالے سے موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:

”ولا تجوز خلوة المرأة بالأجنبي ولو في عمل، والمراد بالخلوة المنهي عنها أن تكون المرأة مع الرجل في مكان يأمنان فيه من دخول ثالث“

عورت کا کسی اجنبی مرد کے ساتھ خواہ کام کے سلسلے میں ہی کیوں نہ ہو، تنہائی اختیار کرنا جائز نہیں۔ یہاں ممنوعہ خلوت سے مراد وہ صورت ہے جب مرد و عورت ایسے مکان میں ہوں جہاں انہیں اطمینان ہو کہ تیسرا شخص نہیں آئے گا۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، ج 07، ص 88، دار السلاسل – الكويت)

موسوعہ کے ہی ایک دوسرے مقام پر ہے: ”وقع فی مکان خال لا یزاحم فیہ“ دونوں ایسے مکان میں ہوں جہاں کوئی مزاحم موجود نہ ہو۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، ج 19، ص 265، وزارۃ الاوقاف والشئون الاسلامیۃ)

مذکورہ تعریفات کا ظاہر یہی ہے کہ تیسرے شخص کی موجودگی سے خلوت ختم ہوجائے گی، اور حدیث پاک سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، چنانچہ صحيح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”لايدخلن رجل بعد يومي هذا على مغيبة إلا ومعه رجل أو اثنان“

آج کے بعد سے جس عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ ہو، اس کے پاس تنہائی میں کوئی نہ جائے مگر یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایک یا دو مرد موجود ہوں۔ (صحیح مسلم، ج 07، ص 10، رقم 2173، دار الطباعة العامرة – تركيا)

مذکورہ حدیث کے تحت نووی علی مسلم میں ہے:

”إن ظاهر هذا الحديث جواز خلوة الرجلين أو الثلاثة بالأجنبية“

حدیث کا ظاہر یہی ہے کہ دو یا تین مردوں کا اجنبیہ عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا جائز ہے۔ (النووی علی مسلم، ج 14، ص 155، دار إحياء التراث العربي – بيروت)

علامہ شامی علیہ الرحمہ نے بھی رد المحتار میں بحر کے ایک جزئیہ کے تحت کلام کرتے ہوئے فرمایا: ظاہر یہی ہے کہ تیسرے اجنبی مرد کی موجودگی سے خلوت ختم ہوجائے گی۔ تاہم اگر وہ تیسری فرد عورت ہے تو پھر اس بارے میں جزئیات متعارض ہیں، بعض جزئیات میں فرمایا کہ عورت کی موجودگی سے خلوت ختم نہیں ہوگی جبکہ بعض میں فرمایا کہ ختم ہوجائے گی۔

اولا اس حوالے سے علامہ شامی علیہ الرحمہ کی نص ملاحظہ ہو: در مختار کی عبارت: ”الخلوة بالأجنبية حرام“ اجنبیہ عورت کے ساتھ خلوت حرام ہے۔

کے تحت شامی میں ہے:

”اقول: وقول القنية وليس معهما محرم يفيد أنه لو كان فلا خلوة والذي تحصل من هذا أن الخلوة المحرمة تنتفي بالحائل، وبوجود محرم أو امرأة ثقة قادرة وهل تنتفي أيضا بوجود رجل آخر أجنبي لم أره لكن في إمامة البحر عن الإسبيجابي يكره أن يؤم النساء في بيت وليس معهن رجل ولا محرم، مثل زوجته وأمته وأخته فإن كانت واحدة منهن، فلا يكره۔۔۔اهـ وإطلاق المحرم على من ذكره تغليب بحر.

والظاهر أن علة الكراهة الخلوة، ومفاده أنها تنتفي بوجود رجل آخر، لكنه يفيد أيضا أنها لا تنتفي بوجود امرأة أخرى فيخالف ما مر من الاكتفاء بامرأة ثقة ثم رأيت في منية المفتي ما نصه: الخلوة بالأجنبية مكروهة وإن كانت معها أخرى كراهة تحريم اهـ “

میں كہتا ہوں کہ قنیہ کا مذکورہ قول یہ فائدہ دیتا ہے کہ اگر خلوت میں ساتھ محرم موجود ہو تو تنہائی ثابت نہیں ہوگی۔ اس سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ خلوت کسی حائل کے پائے جانے سے ختم ہوجاتی ہے اور یونہی کسی محرم یا قابل اعتماد عورت کے پائے جانے سے بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کسی تیسرے غیر محرم مردکی موجودگی سے بھی خلوت ختم ہوجائے گی؟ میں نے اس کا جزئیہ نہیں دیکھا تاہم بحر میں امامت کے باب میں اسبیجابی سے یہ مسئلہ مذکور ہے کہ کسی کمرے میں مرد کا خواتین کی امامت کرنا جبکہ ان کے ساتھ وہاں کوئی مرد یا محرم مثلا شوہر، کنیز یا بہن موجود نہ ہو تو مکروہ ہے اور اگر ان میں سے ایک بھی موجود ہے تو مکروہ نہیں۔ واضح رہے کہ یہاں شوہر اور کنیز وغیرہ پر محرم کا اطلاق تغلیبا ہے، بحر۔

جزئیہ کا ظاہر یہ ہے کہ اصل علت خلوت ہے جو کہ کسی تیسرے مرد کی موجودگی سے ختم ہوجائے گی۔ لیکن ساتھ اس جزئیہ سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ کسی عورت کی موجودگی خلوت کو ختم کرنے کے لئے کافی نہیں، لہذا ہم نے اوپر جو مسئلہ بیان کیا یہ اس کے خلاف ہے۔ پھر میں نے منیۃ المفتی میں صراحت دیکھی کہ اجنبی عورت کے ساتھ خلوت مکروہ تحریمی اگرچہ ساتھ دوسری عورت بھی موجود ہو، اھ۔ (رد المحتار ج 06، ص 369، دار الفكر – بيروت)

مذکورہ امامت والے جزئیہ ہی کے تحت شامی کے ایک دوسرے مقام میں ہے:

”ظاهره أن الخلوة بالأجنبية لا تنتفي بوجود امرأة أجنبية أخرى وتنتفي بوجود رجل آخر تأمل“

جزئیہ کا ظاہر یہ ہے کہ اجنبیہ کے ساتھ خلوت کسی اجنبی عورت کی موجودگی سے ختم نہیں ہوگی، لیکن اجنبی مرد کی موجودگی سے ختم ہوجائے گی، لہذا غور کرلو۔ (رد المحتار، ج 01، ص 556، دار الفكر – بيروت)

اوپر شامی کے جزئیے میں منیۃ المفتی کے حوالے سے یہ بیان ہوا کہ عورت کی موجودگی سے خلوت کے احکام ختم نہیں ہوتے، اس طرح کے جزئیات ہمیں عام طور پر کتب فقہ کے دو ابواب میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک کتاب الصلوۃ میں کہ جہاں مرد کے کسی مکان میں محض نامحرم عورتوں کی امامت کروانے کا حکم بیان کیا جاتا ہے کہ یہ مکروہ ہے کیونکہ خلوت پائی جائے گی (جیسا کہ شامی کے جزیئے میں اسبیجابی کے حوالے سےگزرا)۔ اور دوسرا مقام کتاب الحج ہے، جہاں فقہائے کرام سفرِ حج کے متعلق یہ وضاحت فرماتے ہیں کہ عورت کے لیے سفر میں محرم یا شوہر کا ساتھ ہونا ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر سفر کرنے کی صورت میں فتنہ کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اگر عورت محرم کے بجائے چند عورتوں کے ساتھ مل کر بھی سفر کرے، تو بھی اندیشۂ فتنہ باقی رہتا ہے بلکہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اجنبی عورت کے ساتھ اگرچہ دوسری عورت موجود ہو، تو بھی ا س کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا حرام ہے۔

ہدایہ میں ہے:

”ولأنها بدون المحرم يخاف عليها الفتنة، وتزداد بانضمام غيرها إليها ولهذا تحرم الخلوة بالأجنبية، وإن كان معها غيرها“

کیونکہ محرم کے بغیر سفر میں اندیشہ فتنہ ہے، اور اس کے ساتھ مزید عورتوں کے ہونے سے فتنہ مزید بڑھ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اجنبیہ کےساتھ خلوت حرام ہے اگرچہ اس کے ساتھ دوسری عورت بھی موجود ہو۔ (الھدایۃ مع البنایۃ، ج 04، ص 151-152، دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)

لیکن جب ہم کتبِ فقہ میں کتاب العدۃ کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہاں اس بات کی صراحت ملتی ہے کہ قابلِ اعتماد عورت کی موجودگی سے خلوت کے احکام ختم ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ اگر شوہر نے بیوی کو طلاقِ بائن دے دی ہو اور بیوی شوہر کے گھر ہی میں عدّت گزار رہی ہو، لیکن گھر کمرہ نُما اور اتنا تنگ ہو کہ دونوں کے اکٹھا رہنے سے خلوت کی صورت پیدا ہو جائے، تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ قاضی کو چاہئےکہ ان دونوں کے ساتھ ایک قابلِ اعتماد عورت کو بھی وہاں رہنے پر مقرر کردے تاکہ خلوتِ ممنوعہ کی صورت پیدا نہ ہو۔

تبیین الحقائق میں ہے:

”وإذا طلقها بائنا، وسكنت في منزل الزوج يجعل بينها وبينه سترة حتى لا تقع الخلوة بالأجنبية وإن كان فاسقا يخاف عليها منه أو كان الموضع ضيقا لا يسعهما و جعل القاضي بينهما امرأة ثقة تقدر على الحيلولة فهو حسن“

اور جب شوہر نے بیوی کو طلاقِ بائن دے دی ہو اور وہ عورت شوہر کے گھر ہی میں رہ رہی ہو، تو شوہر اور عورت کے درمیان پردہ قائم کیا جائے تاکہ اجنبی مرد و عورت کی خلوت نہ ہو۔ اور اگر شوہر فاسق ہو جس سے عورت پر خوف ہو، یا مکان تنگ ہو کہ دونوں کے لیے کافی نہ ہو، تو قاضی کا ان کے درمیان کسی قابلِ اعتماد عورت کو مقرر کر دینا جو دونوں کے بیچ حائل رہ سکے، اچھا ہے۔ (تبیین الحقائق، ج 03، ص37، المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)

یہ مسئلہ اگرچہ معتدہ کے متعلق ہے، تاہم یہی حکم غیر معتدہ اجنبیہ کے متعلق بھی ہوگا جب تک اس کے خلاف نص نہ ملے۔شامی میں ہے:

”(قوله: ومفاده أن الحائل إلخ) أي مفاد التعليل أن الحائل يمنع الخلوة المحرمة. ويمكن أن يقال في الأجنبية كذلك وإن لم تكن معتدته إلا أن يوجد نقل بخلافه بحر“

تعلیل کا ظاہر یہی ہے کہ حائل خلوت ممنوعہ سے مانع ہے، اور اجنبیہ جو کہ اس کی معتدہ نہ ہو، اس کے بارے میں بھی یہی حکم ممکن ہے جب تک اس کے خلاف نص نہ مل جائے، بحر۔(شامی، ج 03، ص537-538، دار الفكر – بيروت)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرد کی موجودگی سے خلوت کے ختم ہونے پر کوئی اختلاف نہیں، البتہ عورت کے متعلق جزئیات متعارض ہیں۔ لیکن فقہائے کرام نے دونوں قسم کے جزئیات کے مابین تطبیق بیان کرکے تعارض کو ختم فرمادیا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ عام حالات میں عورت کی موجودگی سے خلوت ختم ہوجاتی ہے، اور جن جزئیات میں عورت کی موجودگی سے خلوت کے ختم نہ ہونے کا ذکر ہے، وہ سفر کے متعلق ہیں کہ فقہائے کرام کے مطابق سفر میں تیسری عورت کی موجودگی کے باوجود بھی اندیشہ فتنہ باقی رہتا ہے، اس وجہ سے تنہائی ناجائز رہتی ہے، یعنی یہاں عدم جواز کی وجہ خلوت نہیں بلکہ اندیشہ فتنہ ہے جیسا کہ ہدایہ کے سیاق سے واضح ہے اور نیچے  آنے والے کلام سے مزید واضح ہو جائے گا۔

سیدی اعلی حضرت منیۃ المفتی کی عبارت پر اس تطبیق کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”(قولہ: وان کانت معھا اخری) قلت وانظر ما فی حج الھدایۃ فی مسألۃ اشتراط المحرم بالمرأۃ وفی خاطری ان الامام الزیلعی فرق بین السفر فلم یجعل المرأۃ کافیۃ والمصر فاکتفی بھا لامکان الاستعانۃ“

شامی کی عبارت میں جو منیہ کے حوالے سے بیان ہوا، اس پر میں کہتا ہوں کہ یہ مسئلہ ہدایہ کے کتاب الحج میں- جہاں عورت کے ساتھ محرم کا ہونا شرط قرار دیا گیا -وہاں دیکھا جاسکتا ہے لیکن مجھے یہ یاد پڑتا ہے کہ امام زیلعی نے اس میں سفر و حضر کے اعتبار سے فرق بیان فرمایا ہے، یعنی سفر میں عورت کی موجودگی کو کافی قرار نہیں دیا جبکہ حضر میں کافی قرار دیا کیونکہ ایسی صورت میں آس پڑوس کے لوگوں سے مدد حاصل کرنا ممکن ہے۔ (جد الممتار، ج 07، ص57، مکتبۃ المدینۃ کراچی)

اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے تبیین کے جس مقام کا ذکر فرمایا، اس کی عبارت یہ ہے:

”وإن جعل القاضي بينهما امرأة ثقة تقدر على الحيلولة فهو حسن، ولا يقال إن المرأة على أصلكم لا تصلح أن تكون حائلة حتى قلتم لا يجوز للمرأة أن تسافر مع نساء ثقات، وقلتم بانضمام غيرها تزداد الفتنة فكيف تصلح هنا لأنا نقول تصلح أن تكون حيلولة في البلد لبقاء الاستحياء من العشيرة، ولامكان للاستعانة بجماعة المسلمين، وأولي الأمر منهم بخلاف المفاوز في السفر“

اگر قاضی مرد و عورت کے درمیان کسی بااعتماد عورت کو حائل بنائے جو روکنے کی قدرت رکھتی ہو، تو یہ اچھا ہے۔ یہاں یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ تمہارے اصول کے مطابق عورت حائل بننے کے قابل نہیں، کیونکہ تم نے تو کہا ہے کہ عورتوں کا باہم سفر کرنا جائز نہیں، اور عورتوں کے اضافے سے فتنہ مزید بڑھتا ہے، تو یہاں وہ کیسے حائل بن سکتی ہے؟ کیونکہ ہم یہ جواب دیں گے کہ شہر میں عورت حائل بن سکتی ہے، کیونکہ وہاں عزت و غیرت کی شرم باقی رہتی ہے، اور مسلمانوں اور حکام سے مدد حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے۔ بر خلاف سفر کے کہ دوران سفرویران جگہوں پریہ چیزیں ممکن نہیں ہوتیں، اس لیے فرق ہے۔ (تبیین الحقائق، ج 03، ص37، المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)

اسی تطبیق کو علامہ شامی علیہ الرحمہ نے بھی ذکر کرکے برقرار رکھا۔ (شامی، ج 03، ص537-538، دار الفكر – بيروت)

بیان کردہ تطبیق پر ایک واضح اشکال یہ ہوتا ہے کہ مرد کے عورت کی امامت کے متعلق شامی میں جو جزئیہ، اور اس کے ساتھ تحت ساری بحث مذکور ہے، اس میں تو کہیں سفر کا ذکر ہی نہیں، تو مذکورہ تطبیق کیسے درست ہوگی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ تمام کتب میں مذکور، اس جزئیہ کی اصل امام محمد کا کلام ہے، اور امام محمد سے در حقیقت یہ سوال خاص مسافر کے سفر کے دوران ہی امامت کے بارے میں کیا گیا تھا، اور انہوں نے اسی سیاق و سباق میں اس کا جواب ارشاد فرمایا، جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ جزئیہ بھی خاص طور پر سفر ہی کے متعلق ہے، اور فقہائے کرام کی جانب سے بیان کردہ تطبیق بالکل درست ہے۔

الاصل لمحمد میں ہے:

”قلت أرأيت المسافر يؤم النساء في السفر قال أكره للرجل أن يؤمهن في بيت ليس معهن ذات محرم منه“

میں نے پوچھا کہ مسافر سفر میں عورتوں کی امامت کروائے، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ تو فرمایا کہ میں مرد کے لئے مکروہ سمجھتا ہوں کہ وہ ایسے کمرے میں امامت کروائے جہاں ان عورتوں کے ساتھ کوئی محرم والی عورت موجود نہ ہو۔ (الاصل لمحمد، ج 01، ص287، مطبعة مجلس دائرة المعارف)

لہذا حاصل یہ نکلا کہ تیسرے فرد کی موجودگی سے خلوت مطلقا ختم ہوجاتی ہے، الا یہ کہ تیسرے مرد یا عورت کے باوجود بھی فتنہ کا اندیشہ ہو، تو اب ممانعت اندیشہ فتنہ کی وجہ سے ہوگی نہ کہ خلوت کے سبب۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حمزه مفتی محمد حسان عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0716
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم 1447 ھ/29 جنوری 2026 ء