کیا عورت کے لئے مونچھوں کے بال صاف کرنا جائز ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا عورت اپنی مونچھوں کے بال صاف کرسکتی ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت اپنی مونچھوں کے بال صاف کرسکتی ہے؟
جواب
جی ہاں! عورت کے لیے ان بالوں کو صاف کرنا مستحب ہے۔
چنانچہ فتاوی شامی میں ہے:
”وفي "تبيين المحارم" إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب اھ۔“
یعنی "تبیین المحارم" میں ہے کہ چہرے پر موجود بال صاف کرنا حرام ہے مگر یہ کہ جب عورت کو داڑھی یا مونچھوں کے بال نکل آئیں تو عورت کے لیے ان بالوں کا نوچنا حرام نہیں بلکہ مستحب ہے۔(رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج09، ص615، مطبوعہ کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے: ”عورت کو داڑھی یا مونچھ کے بال نکل آئیں تو ان کا نوچنا جائز بلکہ مستحب ہے۔“(بہار شریعت، ج03، حصہ 16، ص449، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر:Nor-13805
تاریخ اجراء:01ذوالقعدۃ الحرام1446ھ/29اپریل2025ء