logo logo
AI Search

عورت فجر کی نماز کب ادا کرے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کے لیے فجر کی نماز ادا کرنے کا وقت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عورت اذان فجر کے کتنی دیر بعد فجر کی نماز پڑھ سکتی ہے؟

جواب

عورت کے لیے فجر کی نماز ہمیشہ اول وقت میں پڑھنا مستحب ہے، لیکن سورج نکلنے سے پہلے پہلے کسی بھی وقت میں ادا کرے کہ سورج نکلنے سے پہلے سلام پھیر لے، تو نماز ادا ہوجائے گی اور گناہ گار بھی نہیں ہوگی۔ درِ مختار اور مجمع الانھر میں ہے

(و اللفظ للآخر) الافضل للمرأۃ فی الفجر الغلس، و فی غیرہ الانتظار الی فراغ الرجال عن الجماعۃ

ترجمہ: عورت کے لیے فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنا افضل ہے، اور فجر کے علاوہ نمازوں میں مردوں کی جماعت کا انتظار کرنا افضل ہے۔ (مجمع الانھر، جلد 1، صفحہ 108، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے عورتوں کے لیے ہمیشہ فجر کی نماز غلس (یعنی اول وقت) میں مستحب ہے اور باقی نمازوں میں بہتر یہ ہے کہ مردوں کی جماعت کا انتظار کریں، جب جماعت ہوچکے تو پڑھیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 452، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بحر الرائق میں ہے

لأن الفجر والظهر لا كراهة في وقتهما

ترجمہ: فجر اور ظہر کے وقت میں کوئی مکروہ وقت نہیں ہے۔ (بحر الرائق، ج 1، ص 262، دار الكتاب الإسلامي)

مبسوط سرخسی میں ہے

و لو طلعت الشمس و هو في خلال الفجر فسدت صلاته عندنا

ترجمہ: اگر نماز فجر کے دوران سورج طلوع ہوجائے تو ہمارے نزدیک اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔(مبسوط سرخسی، جلد 1، باب مواقیت الصلاۃ، صفحہ 304، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4786
تاریخ اجراء: 10 رمضان المبارک 1447ھ / 28 فروری 2026ء