logo logo
AI Search

پندرہ دن پاکی کے بعد ایک دن خون آئے تو حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پندرہ دن مکمل پاکی کے بعد صرف ایک دن خون آیا تو اس کے متعلق احکام

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کسی عورت کو 15 دن کا طُہر (پاکی) مکمل ہو گیا، پھر ایک دن خون آیا اور بند ہو گیا، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

جب کسی عورت کو کم از کم 15 دن مکمل پاکی (طُہر) مل جائے، اور اس کے بعد دوبارہ خون آیا، اور وہ صرف ایک دن آیا، اور پھر بند ہو گیا، اور تین دن، تین راتیں (72 گھنٹے) نہ آیا، تو یہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ شمار ہوگا، اور اس صورت میں عورت نماز اور روزہ جاری رکھے گی، کیونکہ حیض کی کم از کم مدت 3 دن، تین راتیں (72 گھنٹے) ہے۔

فتح القدیر میں ہے

”(قوله وأقل الطهر خمسة عشر يوما) لقوله صلى الله عليه وسلم «أقل الحيض ثلاثة وأكثره عشرة أيام وأقل ما بين الحيضتين خمسة عشر يوما»“

ترجمہ: (مصنف کا قول: طہر کی کم از کم مدت پندرہ دن ہے)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ حیض کی کم از کم مدت تین دن ہے، زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہے اور دو حیضوں کے مابین کم از کم پندرہ دن کا وقفہ ہے۔ (فتح القدیر، ج 1، ص 174، دار الفکر، بیروت)

بہار شریعت میں ہے "حیض کی مدت کم سے کم تین دن تین راتیں یعنی پورے 72 گھنٹے، ایک منٹ بھی اگر کم ہے تو حیض نہیں اور زِیادہ سے زِیادہ دس دن دس راتیں ہیں۔۔۔ 72 گھنٹے سے ذرا بھی پہلے ختم ہو جائے تو حیض نہیں بلکہ اِستحاضہ ہے۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ2، صفحہ 372، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

استحاضہ کے حکم کے متعلق بہار شریعت میں ہے "اِستحاضہ اگر اس حد تک پہنچ گیا کہ اس کو اتنی مہلت نہیں ملتی کہ وُضو کرکے فرض نماز ادا کر سکے تو نماز کا پورا ایک وقت شروع سے آخر تک اسی حالت میں گزر جانے پر اس کو معذور کہا جائیگا، ایک وُضو سے اس وقت میں جتنی نمازیں چاہے پڑھے، خون آنے سے اس کا و ضو نہ جائے گا۔ " (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 385، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4861
تاریخ اجراء:11 شوال المکرم 1447ھ/31 مارچ 2026ء