logo logo
AI Search

عورت کے سجدے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کے لیے سجدہ کرنے کا سنت طریقہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عورت سجدے کی حالت میں اپنے بازو زمین پر بچھائے گی یا نہیں؟ یعنی کیا بازو زمین سے لگیں گے یا نہیں؟

جواب

عورت سجدے کی حالت میں اپنے بازو نہیں بلکہ کلائیاں زمین پر بچھائے گی اور بازو کو اپنی کروٹوں سے، پیٹ کو ران سے، ران کو پنڈلیوں سے اور پنڈلیوں کو زمین سے ملائے گی اور دونوں پاؤں کو سیدھی جانب نکال دے گی۔ بیان کردہ یہ طریقہ، عورت کے سجدے کا مسنون طریقہ ہے۔

مصنف عبدالرزاق میں ہے:

عن علی قال : إذا سجدت المرأة فلتحتفز، و لتلصق فخذيها ببطنها

ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عورت سجدہ کرے تو سمٹ جائے اور اپنی رانوں کو اپنے پیٹ سے ملالے۔ (مصنف عبد الرزاق، جلد 3، صفحہ 409، رقم الحدیث: 5217، دار التاصیل)

مبسوط سرخسی میں ہے:

فأما المرأۃ فتحتفز و تنضم و تلصق بطنھا بفخذیھا و عضدیھا بجنبیھا ھکذا عن علی رضی اللہ عنہ فی بیان السنۃ فی سجود النساء و لأن مبنى حالها على الستر فما يكون أستر لها فهو أولى لقوله صلى اللہ عليه و سلم: «المرأة عورة مستورة»

ترجمہ: بہرحال عورت تو وہ سجدے میں سمٹ جائے گی اور مل جائے گی اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے اور اپنے بازؤوں کو اپنی کروٹوں سے ملائے گی۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عورتوں کے سجدے کے سنت طریقے کے متعلق روایت ہے۔ اور اس لیے کہ عورت کی حالت کی بنیاد پردے پر ہے، تو جو چیز اس کے لیے زیادہ پردے والی ہو وہی زیادہ بہتر ہے، کیونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: عورت سراپا پردہ ہے اور چھپانے کی چیز ہے۔ (مبسوط سرخسی، جلد 1، صفحہ 23، دارالمعرفة، بیروت)

محدث وصی احمد سورتی رحمۃ اللہ علیہ التعلیق المجلیٰ لما فی منية المصلي میں فرماتے ہیں:

أما المراۃ فینبغی ان تفترش ذراعیھا و تنخفض و لا تنتصب کانتصاب الرجل و یلصق بطنھا بفخذیھا۔۔۔ فکان السنۃ فی حقھا ما کان استر من الھیئۃ

ترجمہ: بہرحال عورت کو چاہیے کہ وہ (سجدے میں) اپنی کلائیوں کو زمین پربچھا لے اور اپنے جسم کو پست رکھےاور مرد کی طرح (اپنے اعضاء کو) بلند نہ کرے اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے ملا لے۔۔۔ پس اس کے حق میں مسنون طریقہ وہی ہے جو ہیئت میں سب سے زیادہ پردے والا ہے۔ (التعلیق المجلیٰ لما فی منية المصلي، صفحہ 311، مطبوعہ ضیاء القرآن، لاھور)

بہار شریعت میں ہے: عورت سمٹ کر سجدہ کرے، یعنی بازو کروٹوں سے ملا دے اور پیٹ ران سے اور ران پنڈلیوں سے اور پنڈلیاں زمین سے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 529، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1144
تاریخ اجراء: 14 شوال المکرم 1447ھ / 03 اپریل 2026ء