logo logo
AI Search

کیا ایک مسجدِ بیت میں سب عورتیں اعتکاف کر سکتی ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایک گھر کی عورتوں کا ایک ہی مسجدِ بیت میں اعتکاف

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک گھر کی چند عورتوں نے اعتکاف کرنا ہو تو کیا ہر ایک کے لئے علیحدہ سے مسجدِ بیت ہونا ضروری ہے یا ایک مسجد بیت میں سب مل کر اعتکاف کر سکتی ہیں؟

جواب

ایک گھر کی عورتیں ایک ہی مسجد بیت (گھر کا وہ حصہ جسے نماز اداکرنے کے لئے متعین کیا گیا ہو) میں مل کر اعتکاف کرنا چاہیں تو کر سکتی ہیں، ہر ایک کے لئے علیحدہ سے مسجدِ بیت ہونا ضروری نہیں، البتہ اس بات کا خیال رکھیں کہ فضول گپ شپ، فضولیات یا غیبت وغیرہ گناہوں والی گفتگو میں اپنا وقت ضائع نہ کریں ۔

ملک العلماء علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:

و ليس لها أن تعتكف في بيتها في غير مسجد و هو الموضع المعد للصلاة؛ لأنه ليس لغير ذلك الموضع من بيتها حكم المسجد فلا يجوز اعتكافها فيه

ترجمہ: عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے گھر میں مسجد کے علاوہ (کسی اور جگہ) میں اعتکاف کرے، اور مسجد سے مراد وہ مقام ہے جو نماز کے لیے مخصوص کیا گیا ہو؛ کیونکہ اس کے گھر میں سے اس مقام کے سوا کے لیے مسجد کا حکم نہیں، پس اس (مسجد بیت کے علاوہ حصے) میں عورت کا اعتکاف کرنا جائز نہیں۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 282، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: عورت کو مسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے، مگر اس جگہ کرے جو اس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے، جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں، اور عورت کے لیے یہ مستحب بھی ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ مقرر کر لے اور چاہیے کہ اس جگہ کو پاک صاف رکھے، اور بہتر یہ کہ اس جگہ کو چبوترہ وغیرہ کی طرح بلند کر لے۔۔۔ اگر عورت نے نماز کے لیے کوئی جگہ مقرر نہیں کر رکھی ہے تو گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی، البتہ اگر اس وقت یعنی جب کہ اعتکاف کا ارادہ کیا کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لیا تو اس جگہ اعتکاف کر سکتی ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1021، مکتبة المدینہ، کراچی)

خواتین کے اعتکاف کے مسائل نامی کتاب میں ہے خواتین کو مسجد بیت میں اعتکاف کرنے کا حکم ہے، جبکہ مدرسہ مسجدِ بیت نہیں، لہذا فتنے کا اندیشہ نہ ہو، تب بھی خواتین مدرسہ کے بجائے مسجدِ بیت ہی میں اعتکاف کریں۔۔۔ گھر کی ایک سے زائد خواتین ایک ہی جگہ مسجد بیت اعتکاف کر سکتی ہیں لیکن اس میں اس چیز کا خاص خیال رکھا جائے کہ اکٹھے بیٹھنے کی وجہ سے عبادات کے بجائے گپ شپ اور فضولیات میں وقت ضائع نہ ہو۔ (خواتین کے اعتکاف کے مسائل، ص 28، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4860
تاریخ اجراء: 29 رمضان المبارک 1447ھ / 19 مارچ 2026ء