حیض کی حالت میں تلاوت قرآن کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت مخصوص دنوں میں تلاوتِ قرآن کر سکتی ہے ؟ ایک اشکال کا جواب
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم جہاں رہتے ہیں یہاں کچھ خواتین کہتی ہیں کہ حیض کے دوران عورت قرآن کی تلاوت کر سکتی ہے، صرف اسے چھو نہیں سکتی۔ وہ اس حوالے سے یہ دلیل بھی دیتی ہیں کہ قرآن پڑھنے کی ممانعت صرف اس شخص کے لیے ہے جو حالت جنابت میں ہو، لہٰذا اس حکم کو حیض والی عورت پر لاگو کرنا درست نہیں ہے؟
جواب
جمہور فقہائے کرام کے نزدیک حیض والی عورت کے لیے قرآن کریم کی تلاوت کرنا ناجائز و حرام اور ممنوع ہے۔ یہی قول اجلہ صحابہ و تابعین و علمائے امت بشمول سیدنا عمر فاروق اعظم، سیدنا علی المرتضیٰ، امام سفیان ثوری، امام حسن بصری، سیدنا عبد اللہ بن مبارک و غیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا ہے۔ سوال میں بیان کردہ دلیل باطل اور بے بنیاد ہے؛ کیونکہ خود حدیث پاک میں حائضہ اور جنبی کا ایک حکم مروی ہے کہ یہ قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں، جس کی بنیاد پر ان دونوں کے لیے تلاوتِ قرآن کی ممانعت یکساں ہے، نیز اس لیے بھی کہ یہ دونوں ناپاکی کی شدت اور غسل کے واجب ہونے کے معاملے میں برابر ہیں۔
چنانچہ جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن دار قطنی، سنن الکبری للبیہقی، مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے:
”عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن“
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔ (جامع ترمذي، أبواب الطهارة، باب ما جاء في الجنب والحائض ...الخ، جلد 1، صفحہ 159، حدیث 131، دار الرسالة العالمية)
محدث امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 279ھ/892ء) لکھتے ہیں:
”وهو قول أكثر أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم، مثل: سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي وأحمد وإسحاق قالوا: لا تقرأ الحائض ولا الجنب من القرآن شيئا إلا طرف الآية والحرف ونحو ذلك ورخصوا للجنب والحائض في التسبيح والتهليل“
ترجمہ: اور یہی قول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والوں میں سے اکثر اہلِ علم کا ہے، جیسے کہ حضرت سفیان ثوری، حضرت عبد اللہ ابنِ مبارک، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق۔ ان سب نے فرمایا: حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں، سوائے آیت کے کسی ٹکڑے، ایک حرف یا اس کی مثل کے، اور انہوں نے جنبی اور حائضہ کے لیے تسبیح اور تہلیل کی اجازت دی ہے۔ (جامع ترمذي، أبواب الطهارة، باب ما جاء في الجنب والحائض ...الخ، جلد 1، صفحہ 162، دار الرسالة العالمية)
علامہ عبد الرحمٰن بن احمد ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 795ھ/1393ء) لکھتے ہیں:
”ومنع الأکثرون الحاائض و الجنب من القراءة بكل حال قليلا كان أو كثيرا، وهذا مروي عن اكثر الصحابة ... وهو قول أكثر التابعين ومذهب الثوري والأوزاعي وابن المبارك وأبي حنيفة والشافعي وأحمد“
ترجمہ: اور اکثر علما نے حائضہ اور جنبی کو ہر حال میں تلاوت سے منع کیا ہے، خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اور یہ بات اکثر صحابہ کرام سے مروی ہے اور یہ اکثر تابعین کا قول ہے، اور یہی امام سفیان ثوری، امام اوزاعی، سیدنا عبد اللہ بن مبارک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد کا مذہب ہے۔ (فتح الباري لابن رجب، كتاب الحيض، باب تقضي الحائض المناسك ...الخ، جلد 2، صفحہ 47، مطبوعه مدينه منوره)
علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ/1451ء) لکھتے ہیں:
”وقالت طائفة لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن، وهو قول روي عن عمر بن الخطاب وعلي بن أبي طالب والحسن البصري والنخعي وقتادة وغيرهم“
ترجمہ: اور ایک جماعت نے کہا کہ حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں، اور یہی قول حضرت سیدنا عمر فاروق، حضرت سیدنا علی المرتضی، امام حسن بصری، امام نخعی اور امام قتادہ وغیرہم سے مروی ہے۔ (نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار، كتاب الطهارة، جلد 2، صفحہ 216، مطبوعہ قطر)
علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ/1606ء) لکھتے ہیں:
”والحاصل أن جمهور العلماء على الحرمة إذ هي اللائقة بتعظيم القرآن، ويكفي في الدلالة عليها الأحاديث الكثيرة المصرحة بها وإن كانت كلها ضعيفة؛ لأن تعدد طرقها يورثها قوة أي قوة وترقيها إلى درجة الحسن لغيره وهو حجة في الأحكام، فالحق الحرمة إذ هي الجارية على قواعد الأدلة لا الحل وإن كان هو الأصل كذا ذكره ابن حجر“
ترجمہ: حاصل کلام یہ ہے کہ جمہور علمائے کرام (حائضہ و جنبی کی تلاوت قرآن کے) حرام ہونے کے قول پر ہیں؛ کیونکہ یہی قرآن کی تعظیم کے لائق ہے۔ اس حرمت پر دلالت کے معاملے میں وہ کثیر احادیث کافی ہیں جو حرمت کی تصریح کرتی ہیں، اگرچہ وہ سب ضعیف ہوں؛ اس لیے کہ ان کے طرق کا تعدد انہیں قوت بخشتا ہے، وہ بھی کمالِ قوت، اور انہیں حسن لغیرہ کے درجے تک پہنچا دیتا ہے، اور حدیث حسن احکام میں حجت ہوتی ہے۔ پس (حائضہ و جنبی کی تلاوت کی) حرمت ہی حق ہے؛ کیونکہ یہی دلائل کے قواعد کے مطابق ایسی مقام پر حرمت ہی جاری ہوتی ہے، نہ کہ حلت اگرچہ وہ اصل ہے۔ اسی طرح علامہ ابن حجر نے اسے ذکر کیا ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الطهارة، باب مخالطة الجنب وما يباح له، جلد 2، صفحہ 439، دار الفكر، بيروت)
علامہ محمد بن محمد ابن امیر حاج حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 879ھ/1474ء) لکھتے ہیں:
”ولا يجوز للجنب والحائض والنفساء قراءة القرآن لقوله صلي الله علیه وسلم: لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئاً من القرآن، ورواه الترمذي وابن ماجه وحسنه المنذري وصححه النووي“
ترجمہ: جنبی شخص، حائضہ اور نفاس والی عورت کے لیے قرآن کی تلاوت جائز نہیں؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: "حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔" اسے امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا، اور علامہ منذری نے اسے حسن اور امام نووی نے صحیح قرار دیا ہے۔ (حلبة المجلی في شرح منية المصلي، سنن الغسل، جلد 1، صفحہ 177، دار الكتب العلمية، بیروت)
علامہ شمس الدین محمد بن یوسف کرمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 786ھ/1384ء) لکھتے ہیں:
”حكمهما واحد لاشتراكهما في غلظ الحدث وإيجاب الغسل“
ترجمہ: ان دونوں (حیض و جنابت) کے حدث کی شدت اور غسل واجب کرنے میں مشترک ہونے کی وجہ سے دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔ (الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري، كتاب الحيض، جلد 3، صفحہ 171، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”حیض و نفاس والی عورت کو قرآنِ مجید پڑھنا دیکھ کر یا زبانی، اور اس کا چھونا، اگرچہ اس کی جلد یا چولی یا حاشیہ کو ہاتھ یا انگلی کی نوک یا بدن کا کوئی حصہ لگے، یہ سب حرام ہیں۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 379، مکتبة المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1103
تاریخ اجراء: 1 رمضان المبارک 1447ھ/19 فروری 2026ء