کیا عورت ماموں کے ساتھ عمرہ پر جا سکتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کا اپنے ماموں و ممانی کے ساتھ عمرے پر جانا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہم دو بہنیں عمرے پر جانا چاہتی ہیں، ساتھ میں ہمارے محرم ماموں ہوں گے، ماموں کے ساتھ ان کی بیوی یعنی ہماری ممانی بھی جارہی ہیں، کیا اس طرح ہم عمرے پر جا سکتے ہیں؟ یا ہمارے لئے الگ سے محرم ہونا ضروری ہے؟
جواب
جی ہاں! پوچھی گئی صورت میں آپ سب لوگ پر عمرے پرجا سکتے ہیں، آپ کے ماموں آپ دونوں بہنوں کے لیے محرم ہیں اور اپنی زوجہ کے لیے شوہر۔ لہٰذا مزید الگ سے کسی محرم کی ضرورت نہیں۔
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بڑھیا۔۔۔شوہر یا محرم جس کے ساتھ سفر کرسکتی ہے اس کا عاقل، بالغ، غیر فاسق ہونا شرط ہے۔۔۔ مراہق و مراہقہ یعنی لڑکا اور لڑکی جو بالغ ہونے کے قریب ہوں بالغ کے حکم میں ہیں یعنی مراہق کے ساتھ جا سکتی ہے اور مراہقہ کوبھی بغیر محرم یا شوہر کے سفر کی ممانعت ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1044۔1045، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2398
تاریخ اجراء: 28 محرم الحرام1447ھ/24 جولائی 2025ء