عورتوں کے لیے تراویح کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت پر تراویح کے حکم کی تفصیل
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا مرد کی طرح عورت پر تراویح پڑھنا ضروری ہے؟ اور اگر عورت تراویح ادا نہ کرے تو کیا حکم ہے؟ نیز غیر حافظہ عورت تراویح کی نماز کیسے ادا کرے؟
جواب
عاقل بالغ مسلمان مرد کی طرح، عاقلہ بالغہ مسلمان عورت پر بھی رمضان المبارک کی ہر رات میں مکمل بیس رکعات تراویح پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے، اور اگر عورت بلاعذرِ شرعی ایک آدھ بار تراویح نہیں پڑھے گی، تو اساءت کی مرتکب ہوگی، اور اگر اس کے ترک کی عادت بنا لے گی، تو گناہ گار اور عذاب کی مستحق ہوگی۔
اور غیر حافظہ عورت کو جتنی سورتیں یاد ہوں، ان تمام کو تراویح میں پڑھتی رہے مثلاً آخری دس سورتیں یاد ہیں، تو پہلی دس رکعتوں میں ایک مرتبہ دس سورتیں پڑھ لے، پھر بقیہ دس رکعتوں میں وہی دوبارہ پڑھ لے۔ اور اگر کسی کو صرف ایک ہی سورت یاد ہے تو وہ تمام رکعات میں صرف ایک ہی سورت کی تلاوت بھی کر سکتی ہے۔
تراویح کی نماز مرد و عورت دونوں کے لئے سنتِ مؤکدہ ہے، درِ مختار میں ہے
”(التراویح سنۃ) مؤکدۃ لمواظبۃ الخلفاء الراشدین ( للرجال و النساء) اجماعاً“
ترجمہ: تراویح کی نماز مرد و عورت پر بالاجماع سنتِ مؤکدہ ہے کہ خلفائے راشدین نے اس پر مواظبت فرمائی ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 2، صفحہ 597-596، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے ” تراویح مرد و عورت سب کے ليے بالاجماع سنت مؤکدہ ہے، اس کا ترک جائز نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ4، صفحہ 688، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
تارکِ تراویح کا حکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے، امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن تحریر فرماتے ہیں: ”سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے تین شب تراویح میں امامت فرما کر بخوفِ فرضیت ترک فرمادی، تو اس وقت تک وہ سنت مؤکدہ نہ ہوئی تھی، جب امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے اِجرا فرمایا اور عامہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس پرمجتمع ہوئے، اس وقت سے وہ سنت مؤکدہ ہوئی، نہ فقط فعلِ امیر المؤمنین سے، بلکہ ارشاداتِ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ و سلم سے، اب ان کا تارک ضرور تارکِ سنتِ مؤکدہ ہے اور ترک کاعادی فاسق وعاصی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 471، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی عالمگیری میں ہے
”والناس في بعض البلاد تركوا الختم لتوانيهم في الأمور الدينية ثم بعضهم اختار (قل هو الله أحد) [الإخلاص: 1] في كل ركعة وبعضهم اختار قراءة سورة الفيل إلى آخر القرآن وهذا أحسن القولين؛ لأنه لا يشتبه عليه عدد الركعات ولا يشتغل قلبه بحفظها، كذا في التجنيس“
ترجمہ: بعض شہروں میں لوگوں نے دنیاوی امور میں مشغولیت کے باعث تراویح میں ختمِ قرآن مجید ترک کر دیا، تو بعض نے ہر رکعت میں سورہ اخلاص کی تلاوت کو اختیار کیا اور بعض نے سورہ فیل سے آخر تک (یعنی آخری دس سورتوں) کو اختیار کیا اور یہ دونوں اقوال میں سے زیادہ اچھا ہے، کیونکہ اس سے تراویح کی رکعات اس پر مشتبہ نہیں ہوں گی اور دل ان کی تعداد محفوظ رکھنے میں مشغول نہیں ہوگا۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 118، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4774
تاریخ اجراء: 01 رمضان المبارک1447ھ/ 19 فروری2026 ء