logo logo
AI Search

حیض کی حالت میں إنا لله وإنا إليه راجعون پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حالت حیض میں "اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ" پڑھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ حیض (پیریڈز) کی حالت میں "اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ" پڑھنا کیسا ہے؟ کیونکہ یہ قرآن کریم میں سورۃ البقرۃ کی آیتِ مبارکہ ہے، کیا اسے دعا یا ذکر کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

عورت کا مخصوص ایام (حیض و نفاس کے دنوں) میں قرآن پاک کی تلاوت کرنا، ناجائز و حرام ہے، احادیثِ طیّبہ میں اس سے منع فرمایا گیا ہے، البتہ! ایسی عورت قرآن پاک کی وہ آیات، جو حمد و ثنا، مُناجات یا دعا کے معنی پر مشتمل ہوں، اوروہ قرآنیت کے لیے متعین نہ ہوں، اُن کو دعا اور ثنا کی نیت سے پڑھ سکتی ہے، تلاوت کی نیت سے نہیں پڑھ سکتی، چونکہ کسی اہم کام یا مصیبت کے وقت "اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ" عام طور پر ذکر و دعا کی نیت سے ہی پڑھا جاتا ہے، نہ کہ تلاوت کی نیت سے، لہٰذا عورت مخصوص ایام میں کسی اہم کام یا مصیبت کے وقت "اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ" ذکر و دعا کی نیت سے پڑھ سکتی ہے۔

عورت کے لئے مخصوص ایام میں تلاوتِ قرآن جائز نہیں، چنانچہ سنن الترمذی میں ہے : ’’عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن‘‘ ترجمہ : حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےارشاد فرمایا: حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث 131، ج 1، ص 236، مطبوعہ مصر)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے "فلو قرأت الفاتحة علی وجه الدعاء او شیئا من الآیات التی فیها معنی الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به" ترجمہ: پس اگر (حائضہ) سورۃ الفاتحہ کو دعا کے طور پر پڑھے یا اُن آیات میں سے کچھ دعا کے طور پر پڑھے، جن میں دعا کا معنی ہے اور قراءتِ قرآن کا قصد نہ کرے تو اِس میں کوئی حرج نہیں ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار، ج 1، ص 535، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”یہ معلوم رہے کہ قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر و ثنا و مناجات و دُعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے آیۃ الکرسی بلکہ متعدد آیات کاملہ جیسے سورہ حشر شریف کی اخیر تین آیتیں "هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-    عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِۚ          " سے آخر سورۃ تك، بلکہ پوری سورت جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکر و دعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب و حائض و نُفسا سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتدا میں "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" كہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ ایك آیت مستقلہ ہے کہ اس سے مقصود تبرك و استفتاح ہے، نہ کہ تلاوت، تو "حسبنا الله ونعم الوکیل" اور "اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ" کہ کسی مہم یا مصیبت پر بہ نیت ذکر و دعا، نہ بہ نیت تلاوت قرآن پڑھے جاتے ہیں، اگرچہ پوری آیت بھی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا۔۔۔ہاں!آیۃ الکرسی یا سورہ فاتحہ اور ان کے مثل ایسی قراء ت کہ سننے والا جسے قرآن سمجھے اُن عوام کے سامنے جن کو اس کا جنب ہونا معلوم ہو بآواز بہ نیت ثنا و دعا بھی پڑھنا مناسب نہیں کہ کہیں وہ بحال جنابت تلاوت جائز نہ سمجھ لیں یا اس کا عدمِ جواز جانتے ہوں تو اس پر گناہ کی تہمت نہ رکھیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ ب، صفحہ 1078، 1079، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہارِ شریعت میں ہے "اگر قرآن کی آیت دُعا کی نیت سے یا تبرک کے لیے جیسے: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یا ادائے شکر کو یا چھینک کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یا خبرِ پریشان پر اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ کہا یا بہ نیتِ ثنا پوری سورہ فاتحہ یا آیۃ الکرسی یا سورہ حشر کی پچھلی تین آیتیں هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ سے آخر سورت تک پڑھیں اور ان سب صورتوں میں قرآن کی نیت نہ ہو توکچھ حَرَج نہیں۔ " (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 326، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5020
تاریخ اجراء: 28 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 16 مئی 2026ء