حیض روکنے کے لیے گولیاں کھانے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حیض روکنے کے لیے دوا کھانا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جو عورتیں عمرے پر جاتی ہیں، اگر ان کے ایامِ حیض ہوں، تو وہ گولیوں کے ذریعے اپنے پیریڈز کو مؤخر (delay) کر لیتی ہیں، پھر عمرے سے واپسی پر، جب وہ گولیاں بند کرتی ہیں، تو حیض آ جاتا ہے، کیا اس طرح کرنا درست ہے؟ اسی طرح اگر کبھی قرآن پاک کے امتحان کی تاریخ آ جائے، تو اس کے لیے بھی بعض اوقات عورتیں گولی کھا کر، پیریڈز کو مؤخر کر لیتی ہیں، پھر جب گولیاں بند کرتی ہیں، تو ایام شروع ہو جاتے ہیں، کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟ نیز گولیاں کھا کر ماہواری کو روک دیا، تو کیا وہ پاک شمار ہوگی؟
جواب
ماہواری کو عارضی طور پر روکنے کے لیے دواؤں کا استعمال، طبی اعتبار سے بعض اوقات نقصان دہ ہوسکتا ہے، اور ان کے مختلف ضمنی اثرات (Side effects) بھی سامنے آسکتے ہیں، اس لیے اِن دواؤں کے استعمال سے اگر کسی عورت کی صحت کو نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں اس کے لیے اُن دواؤں کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہوگا، کیونکہ شریعت میں صحت کی حفاظت کو اہم اور لازم قرار دیا گیا ہے۔ البتہ! اگر یہ دوائیں طبی لحاظ سے مضر صحت نہ ہوں تو اِن کا استعمال شرعاً جائز ہوگا، مگر احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ پہلے کسی قابلِ اعتماد ڈاکٹر سے مشورہ کر لیا جائے، اور اُس کی رہنمائی کے بعد ہی استعمال کی جائے۔ بہرحال! اگر کوئی عورت ماہواری روکنے کے لیے دوائیں استعمال کرے، اور مقررہ ایام میں خون ظاہر نہ ہو، تو وہ ان دنوں میں شرعاً پاک ہی شمار ہوگی، ان دنوں میں اس پر ناپاکی کا حکم نہیں لگے گا۔
الفقہ علی المذاھب الاربعہ میں ہے "لايجوز للمرأة أن تمنع حيضها، أو تستعجل إنزاله إذا كان ذلك يضر صحتها، لأن المحافظة على الصحة واجبة" ترجمہ: عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے حیض کو روکے یا اُسے جلدی لانے کی کوشش کرے، بشرطیکہ اس میں اس کی صحت کو نقصان پہنچتا ہو، کیونکہ صحت کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ (الفقہ علی المذاھب الاربعۃ، جلد 1، صفحہ 115، دار الكتب العلمية، بيروت)
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے "لا يثبت الحيض إلا بالبروز لا بالإحساس به خلافا لمحمد، فلو أحست به فوضعت الكرسف في الفرج الداخل ومنعته من الخروج فهي طاهرة كما لو حبس المني في القصبة" ترجمہ: حیض کا ثبوت صرف خون کے ظاہر ہونے سے ہوتا ہے، صرف اس کے احساس سے نہیں، برخلاف امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے۔ لہٰذا اگر کسی عورت کو حیض کا احساس ہو اور وہ فرج داخل میں روئی وغیرہ رکھ لے اور خون کو باہر آنے سے روک لے تو وہ پاک ہی شمار ہوگی، جیسے کوئی شخص منی کو نالی میں روک لے (تو اس پر ناپاکی کا حکم نہیں لگتا)۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، جلد 1، صفحہ 559، مطبوعہ: کوئٹہ)
محیط برہانی میں ہے "حكم الحيض والنفاس والاستحاضة لا يثبت إلا بخروج الدم" ترجمہ: حیض اور نفاس اور استحاضہ کا حکم خون کے نکلنے سے ہی ثابت ہوتا ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 1، الفصل الثامن في الحيض، صفحہ 214، دار الكتب العلمية، بيروت)
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے "إن المرأة متى شربت دواء وارتفع حيضها فإنه يحكم لها بالطهارة" ترجمہ: عورت جب دوا ئی پئے اور اس کا حیض منقطع ہو جائے، تو اس عورت کے لئے پاکی کا حکم لگایا جائے گا۔ (الموسوعة الفقھیة الکویتیة، جلد 18، صفحہ 327، دارالسلاسل، كويت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4981
تاریخ اجراء: 18 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/06 مئی 2026ء