logo logo
AI Search

دلہن کو کس طرح پردہ کرنا چاہیے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دلہن کے پردہ کرنے کی تفصیل

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

دلہن کو کس طرح کا پردہ کرنا چاہیے؟

جواب

پردے کے معاملے میں خواہ دلہن ہو یا دلہن کے علاوہ کوئی  اور عورت، اسلامی اُصول یہ ہے کہ عورت کے چہرےکی ٹکلی، دونوں ہتھیلیوں اور دونوں قدموں کے علاوہ تمام بدن سِتر میں داخل ہے، یعنی عورت کے لئے غیر محرم کے سامنے بدن کے اِتنے حصے کو چھپانا ضروری  ہے، اور فتنے کے خوف کی وجہ سے فی زمانہ عورت کو چہرے کے پردے کا بھی حکم ہے، لہذا دلہن پر بھی لازم  ہے کہ غیر محرم مرد کے سامنے چہرے سمیت دیگر بدن کو چھپائے۔

پردے کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪- وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪- وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جتنا (بدن کا حصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں یا اپنی (مسلمان) عورتوں یا اپنی کنیزوں پر جو ان کی ملکیت ہوں یا مردوں میں سے وہ نوکر جو شہوت والے نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر اپنے پاؤں اس لئے زور سے نہ ماریں کہ ان کی اس زینت کا پتہ چل جائے جو انہوں نے چھپائی ہوئی ہے اور  اے مسلمانو! تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ (القرآن، پارہ 18، سورۃ النور، آیت31)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے "ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: زینت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے عورت سجتی سنورتی ہے جیسے زیور اور سرمہ وغیرہ اور چونکہ محض زینت کے سامان کو دکھانا مباح ہے اس لئے آیت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے بدن کے ان اعضا کو ظاہر نہ کریں جہاں زینت کرتی ہیں جیسے سر، کان، گردن، سینہ، بازو، کہنیاں اور پنڈلیاں۔" (تفسیر صراط الجنان، جلد6، صفحہ620، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

عورت کے لیے کن اعضاء کا پردہ ضروری ہے؟ اس کے متعلق علامہ علاؤالدین حصکفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ’’(وللحرۃ)۔۔(جمیع بدنھا) حتی شعرھا النازل فی الاصح (خلا الوجہ والکفین)۔۔ (والقدمین)۔۔(وتمنع) المرأۃ الشابۃ (من کشف الوجہ بین رجال)۔۔ (لخوف الفتنۃ)‘‘ ترجمہ: چہرے کی ٹکلی، دونوں ہتھیلیوں اور دونوں قدموں کے علاوہ، آزاد عورت کا تمام بدن، حتی کہ اصح قول کے مطابق لٹکے ہوئے بال بھی سترِ عورت ہیں۔۔اور( فی زمانہ ) خوفِ فتنہ کی وجہ سے مردوں کے سامنے جوان عورت کو اپنا چہرہ ظاہر کرنا بھی منع ہے۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 95، 96، 97، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوٰی رضویہ میں امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”بے پردہ بایں معنیٰ کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے، ان میں سے کچھ کھلا ہو، جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز، تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے، خواہ وہ پیر ہو یا عالم ہو یا عامی جوان ہو یا بوڑھا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 239، 240، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

چہرے کے پردے کے متعلق بہارِ شریعت میں صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ’’عورت کا چہرہ اگرچہ عورت نہیں، مگر بوجہ فتنہ غیر محرم کے سامنے مونھ کھولنا منع ہے یو ہیں اس کی طرف نظر کرنا، غیر محرم کے ليے جائز نہیں اور چھونا تو اور زیادہ منع ہے۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 03، صفحہ 484، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4901
تاریخ اجراء:28 شوال المکرم 1447ھ/17 اپریل 2026 ء