logo logo
AI Search

عورت کا نعت خوانی کے لیے میک اپ کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کا نعت پڑھنے کے لیے میک اپ کرنا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا نعت خواں عورت نعت پڑھنے کے لیے میک اپ وغیرہ کر سکتی ہے؟

جواب

نعت خوانی ایک بڑی فضیلت و سعادت والا اور باعثِ برکت عمل ہے، مگر اس میں بھی شریعت مطہرہ کی حدود و قیود کا لحاظ رکھنا لازم ہے، پس اولاً یہ جان لیں کہ خواتین کا اس طرح نعت پڑھنا کہ ان کی آواز غیر محرم مردوں تک پہنچے ناجائز و حرام اور گناہ ہے؛ کیونکہ عورت کی ترنم اور خوش الحانی والی آواز بھی عورت یعنی پردے کی چیز ہے اور غیر محرموں سے اس کا چھپانا واجب ہے۔ یوں ہی عورت کا ایسی محفل میں نعت خوانی کرنا جہاں مرد و عورت کا اختلاط ہو یا کسی بھی طرح غیر محرم مردوں کی نظر اس پر پڑے، خواہ آمنے سامنے بلا واسطہ یا ویڈیو وغیرہ کے ذریعے بالواسطہ، تو یہ مطلقاً ممنوع و ناجائز ہے، چہ جائیکہ ایسی محفل میں میک اپ کر کے نعت خوانی کرنا کہ یہ مزید باعث فتنہ اور شرعاً حرام ہے؛ کیونکہ عورت کے لیے اپنی زینت غیر محرموں کے سامنے ظاہر کرنا حکم قرآنی کے خلاف ہے۔ تاہم گھریلو محفل میں کہ جہاں صرف عورتیں ہوں یا صرف شوہر اور محارم ہوں، جائز میک اپ کر کے زینت کے ساتھ بھی نعت پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ آواز بھی باہر کسی غیر محرم تک نہ پہنچے۔

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا(۳۲)﴾ ترجمہ کنز العرفان: اے نبی کی بیویو! تم اور عورتوں جیسی نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اور تم اچھی بات کہو۔ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب 33، آیت 32)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت مبارکہ کے تحت ہے: ”جب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیرِ سایہ زندگی گزارنے والی امت کی ماؤں اور عفت و عصمت کی سب سے زیادہ محافظ مقدس خواتین کو یہ حکم ہے کہ وہ نازک لہجے اور نرم انداز سے بات نہ کریں تاکہ شہوت پرستوں کو لالچ کا کوئی موقع نہ ملے تو دیگر عورتوں کے لیے جو حکم ہو گا اس کا اندازہ ہر عقل مند انسان آسانی کے ساتھ لگا سکتا ہے۔“ (صراط الجنان، جلد 8، صفحہ 17، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور زمین پر اپنے پاؤں اس لیے زور سے نہ ماریں کہ ان کی اس زینت کا پتہ چل جائے جو انہوں نے چھپائی ہوئی ہے۔ (پارہ 18، سورۃ النور 24، آیت 31)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”عورت کا خوش الحانی سے با آواز ایسا پڑھنا کہ نامحرموں کو اس کے نغمہ کی آواز جائے، حرام ہے۔ نوازلِ امام فقیہ ابو اللیث میں ہے: "نغمۃ المرأۃ عورۃ" (عورت کا خوش آواز کر کے کچھ پڑھنا "عورۃ" یعنی محل ستر ہے۔ (ت))“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 242، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ ”عورتیں باہم گلا ملا کر مولود شریف پڑھتی ہیں اور ان کی آوازیں غیر مرد باہر سنتے ہیں تو اب ان کا اس طریقہ سے مولود شریف پڑھنا ان کے حق میں باعث ثواب کا ہے یا کیا؟ “تو جواباً آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”عورتوں کا اس طرح پڑھنا کہ ان کی آواز نامحرم سنیں، باعث ثواب نہیں، بلکہ گناہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 245، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”لڑکیوں کا غیر مردوں کے سامنے خوش الحانی سے نظم پڑھنا حرام ہے اور اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بے پردہ رہنا بھی حرام۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 690، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں یا اپنی (مسلمان) عورتوں یا اپنی کنیزوں پر جو ان کی ملکیت ہوں۔ (پارہ 18، سورۃ النور 24، آیت 31)

خلیل ملت مفتی محمد خلیل خان برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1405ھ/1985ء) مذکورہ بالا آیت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ” یعنی عورتیں اپنا بناؤ سنگھار، خواہ وہ جسم کا ہو یا متعلقات جسم لباس وغیرہ کا، کسی اجنبی پر ظاہر نہ ہونے دیں۔ اس کے تحت ہر وہ چیز آ جاتی ہے جو غیروں کے لیے شوق و رغبت کا باعث ہو، مثلاً حسن صورت، خوش خرامی، لباس، خوشبو، پاؤڈر غازہ وغیرہ؛ کیوں کہ اس سے میلان طبع پیدا ہوتا ہے اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے، اسے نظر اٹھا کر تکتے ہیں اور یہ شرافت نسوانی کے خلاف ہے۔ اب عورتیں اپنا بناؤ سنگھار غیروں کے لیے کرتی ہیں یا غیروں کے سامنے ایسی حالت میں آتی ہیں کہ مردوں کی نگاہیں خواہ مخواہ ان کی طرف اٹھیں تو لعنت الہی کی مستحق ہیں، یہ مضمون احادیث کریمہ میں جا بجا ارشاد فرمایا گیا ہے۔ “ (فتاوی خلیلیہ، جلد 3، صفحہ 170، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”عورت اگر نامحرم کے سامنے اس طرح آئے کہ اس کے بال اور گلے اور گردن یا پیٹھ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر ہو یا لباس ایسا باریک ہو کہ ان چیزوں سے کوئی حصہ اس میں سے چمکے تو یہ بالاجماع حرام اور ایسی وضع و لباس کی عادی عورتیں فاسقات ہیں ...اور اگر تمام بدن سر سے پاؤں تک موٹے کپڑے میں خوب چھپا ہوا ہے، صرف منہ کی ٹکلی کھلی ہوئی، جس میں کوئی حصہ کان کا یا ٹھوڑی کے نیچے کا یا پیشانی کے بال کا ظاہر نہیں، تو اب فتوی اس سے بھی ممانعت پر ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 509-510، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے، جوان عورت کو چہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 205، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ/1993ء) لکھتے ہیں: ”عورت کی آواز بھی عورت ہے، اجنبی آدمی کو بلا ضرورت شرعی اپنی آواز نہیں سنا سکتی ہے ... لہذا عورتوں کے میلاد کا طریقہ جو یہاں رائج ہے، وہ جائز نہیں ہے۔ بہت بڑا مکان ہو، اس میں عورتیں میلاد پڑھیں یا نعت خوانی کریں اور اس کی آواز باہر نہ جائے تو پھر جائز ہے، اور مائیک سے پڑھنا اور آواز باہر کے لوگوں کو سنانا جائز نہیں ہے۔“ (وقار الفتاوی ، جلد 3، صفحہ 154، بزم وقار الدین، کراچی)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”عورت کے لیے زینت کرنا جائز ہے، لیکن ایسی شادی بیاہ کی جگہوں پر، جہاں غیر محارم کی آمد و رفت ہو وہاں ان کو پردہ کرنا چاہیے اور غیر محارم کے سامنے بغیر زینت کے بھی جانا ناجائز ہے، زینت کے ساتھ جانا شدید ناجائز ہے۔ اپنے گھروں میں غیر شادی شدہ لڑکیاں بھی زینت کر سکتی ہیں، تاکہ آنے والی عورتیں انہیں دیکھ کر شادی کا پیغام دیں، غیر محرم افراد کے سامنے ان کا آنا جانا ناجائز ہے۔“ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 157، بزم وقار الدین، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1163
تاریخ اجراء: 28 شوال المکرم 1447ھ / 17 اپریل 2026ء