logo logo
AI Search

غیر محرم کو محرم یا شوہر ظاہر کر کے سفر کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غیر محرم کو محرم یا شوہر ظاہر کر کے عورت کے لیے سفر کرنا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت بیرونِ ملک جاب کی غرض سے غیر محرم، مثلاً اپنے کزن کے ساتھ جا سکتی ہے ؟ نیز ڈاکومنٹس میں یہ ظاہر کیا جائے گا کہ یہ دونوں میاں بیوی ہیں، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں، تو اس طرح جانا، وہاں اکھٹے رہنا اور مل کر کام کرنا کیسا ہے ؟

جواب

بیان کردہ صورت میں عورت کا غیر محرم مرد (کزن) کے ساتھ بیرون ملک سفر کرنا، وہاں اکھٹے رہنا اور مل کر کام کرنا متعدد شرعی قباحتوں پر مشتمل ہے، لہٰذا اس کی ہرگز اجازت نہیں، تفصیل درج ذیل ہے:

(1) کسی بھی عورت کے لئے، خواہ بوڑھی ہو یا جوان، شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، شرعی مسافت (یعنی 92 کلو میٹر یا اس سے زیادہ) کا سفر شوہر یا کسی قابلِ اعتماد محرم کے بغیر کرنا، ناجائز و گناہ ہے، خواہ یہ سفر کسی دنیاوی غرض کے لیے ہو یا حج و عمرہ کے لیے، بہر صورت یہی حکم ہے، اگر عورت سفر کرے گی، تو اس کے لیے قدم قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔ مزید یہ کہ کزن محرم نہیں، بلکہ غیر محرم ہے اور غیر محرم رشتہ داروں، مثلاً کزن وغیرہ سے پردے کی تاکید عام اجنبی افراد کی بنسبت زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ رشتہ داروں کے ہاں عموماً آنا جانا رہتا ہے، اس لیے جان پہچان اور رشتہ داری کی وجہ سے ان کے درمیان جھجک کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ایک ناواقف اجنبی کے مقابلے میں ان سے فتنوں کا اندیشہ زیادہ رہتا ہے، لہٰذا کزن کے ساتھ سفر کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔

(2) غیر محرم مرد و عورت کا تنہائی اختیار کرنا، سخت ناجائز و گناہ ہے، احادیثِ طیبہ میں اس کی شدید مذمت بیان ہوئی اور صورتِ مذکورہ میں کزن کے ساتھ بیرونِ ملک اکٹھا رہنے کی صورت میں اس سے تنہائی سے بچنا بہت مشکل ہے۔

(3) اجنبی مرد کے سامنے بے پردگی کرنا، اس سے بلا ضرورت میل جول رکھنا، بے تکلفی کے ساتھ گفتگو کرنا، ہنسی مذاق کرنا، ناجائز و گناہ ہے، قرآن و حدیث میں ان کی سخت ممانعت بیان ہوئی ہے اور مذکورہ صورت میں بیرونِ ملک جا کر کزن کے ساتھ کام کرنے میں ان ساری چیزوں کا ہونا غالب ہے۔

(4) غیر محرم مرد و عورت کا اپنے آپ کو میاں بیوی ظاہر کرنا صریح جھوٹ اور دھوکہ دہی ہے، جس کی قرآن و حدیث میں سخت مذمت بیان ہوئی ہے۔

(5) عموماً اس طرح کے معاملات میں ڈاکومنٹس میں ہیر پھیر کے لیے رشوت کا لین دین بھی کیا جاتا ہے، اگر ایسا بھی کیا جائے، تو یہ ایک جداگانہ ناجائز عمل ہے۔

(6) مزید یہ کہ اجنبی مرد و عورت کا کاغذات میں اپنے آپ کو میاں بیوی ظاہر کرنا قانوناً بھی جرم ہے اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ملک کا ایسا قانون جو خلافِ شرع نہ ہو اور اس کا ارتکاب قانوناً جرم ہو جس بنا پر سزا اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے یا بچنے کے لیے رشوت دینی پڑے، تو ایسے قانون کی خلاف ورزی کرنا شرعاً بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ خود کو ذلت و رسوائی پر پیش کرنا ہے اور انسان کا خود کو ذلت پر پیش کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے۔

بالترتیب جزئیات ملاحظہ کیجیے:

عورت کے لیے محرم یا شوہر کے بغیر سفر کرنا، حلال نہیں، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے: ”عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لا یحل لامرأۃ تؤمن باللہ و الیوم الاخر ان تسافر سفراً یکون ثلاثۃ ایام فصاعداً الا ومعھا ابوھا او ابنھا او زوجھا او اخوھا او ذومحرم منھا“ ترجمہ: حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرنا حلال نہیں ہے، مگر جبکہ اس کے ساتھ اس کا باپ یا بیٹا یا شوہر یا بھائی یا اس کا کوئی محرم ہو۔ (صحیح مسلم، جلد 1، صفحہ 434، مطبوعہ کراچی)

علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ/1451ء) لکھتے ہیں: ”وفيه: أن النساء كلهن سواء في منع المرأة عن السفر، إلا مع ذی محرم۔۔۔وقوله صلى اللہ عليه وسلم: (لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم) عام في كل سفر، فيدخل فيه الحج“ ترجمہ: اور اس حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ محرم کے بغیر سفر کرنے کی ممانعت میں سب عورتیں برابر ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے، ہر سفر کو شامل ہے، تو اس میں حج بھی داخل ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 10، صفحہ 222، مطبوعہ بيروت)

محیط برہانی، فتاوی قاضی خان اور فتاوی عالمگیری میں ہے، واللفظ للآخر: ”لا تسافر المراۃ بغیر محرم ثلاثۃ ایام ومافوقھا“ ترجمہ: عورت بغیر محرم تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر نہیں کر سکتی۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 142، مطبوعہ کوئٹہ)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”عورت اگرچہ عفیفہ (پاکدامن) یا ضعیفہ (بوڑھی) ہو، اسے بے شوہر یا محرم سفر کو جانا، حرام ہے، اگر چلی جائے گی، گنہگار ہوگی، ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 706، 707، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)

اجنبی کے مقابلے میں غیر محرم رشتہ داروں سے پردے کی تاکید بیان کرتے ہوئے سیدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”جیٹھ، دیور، بہنوئی، پھپا، خالو، چچازاد، ماموں زاد، پھپی زاد، خالہ زاد بھائی یہ سب لوگ عورت کے لئے محض اجنبی ہیں، بلکہ ان کا ضرر نرے بیگانے شخص کے ضرر سے زائد ہے کہ محض غیر آدمی گھر میں آتے ہوئے ڈرے گا، اور یہ آپس کے میل جول کے باعث خوف نہیں رکھتے۔ عورت نرے اجنبی شخص سے دفعۃً میل نہیں کھا سکتی، اور ان سے لحاظ ٹوٹا ہوتا ہے۔ لہٰذا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے غیر عورتوں کے پاس جانے کو منع فرمایا، ایک صحابی انصاری نے عرض کی: یا رسول اللہ! جیٹھ دیور کے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا: الحمو الموت، رواہ احمد والبخاری عن عقبۃ بن عامر رضی ﷲ تعالی عنہ ۔جیٹھ دیور تو موت ہیں۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 22، صفحہ 217، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)

اجنبی مرد و عورت کے خلوت اختیار کرنے کے متعلق نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ”ألا لا یخلون رجل بإمرأۃ إلا کان ثالثھما الشیطان“ ترجمہ: خبردار! کوئی شخص کسی عورت سے خلوت نہیں کرتا، مگر ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ (سنن الترمذی، جلد 1، صفحہ 221، مطبوعہ کراچی)

در مختار میں ہے: ”الخلوۃ بالأجنبیۃ حرام“ یعنی اجنبیہ کے ساتھ خلوت حرام ہے۔ (در مختار جلد 9، صفحہ 607، مطبوعہ کوئٹہ)

موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: ”ولا تجوز خلوة المرأة بالأجنبي ولو في عمل“ ترجمہ: عورت کا کسی اجنبی مرد کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا، خواہ کام کے سلسلے میں ہی کیوں نہ ہو، جائز نہیں۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، جلد 7، صفحہ 88، مطبوعہ كويت)

بے پردگی سے منع کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: (وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى) ترجمۂ کنز العرفان: اور بے پردہ نہ رہو، جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی۔‘‘ (القرآن الکریم، سورۃ الاحزاب، آیت 33)

مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”(ایک قول یہ ہے کہ) اگلی جاہلیت سے مراد اسلام سے پہلے کا زمانہ ہے، اس زمانے میں عورتیں اتراتی ہوئی نکلتی اور اپنی زینت اور محاسن کا اظہار کرتی تھیں، تاکہ غیر مرد اِنہیں دیکھیں، لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اعضا اچھی طرح نہ ڈھکیں۔‘‘ (تفسیر صراط الجنان، جلد 8، صفحہ 21، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ کھلا ہو، جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز، تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے، خواہ وہ پیر ہو یا عالم یا عامی جوان ہو، یا بوڑھا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 239، 240، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)

عورت کو مرد کے ساتھ بقدرِ ضرورت گفتگو کی اجازت ہے، نہ کہ بے تکلفی کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے کی، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”نجيز الكلام مع النّساء للأجانب ومحاورتهنّ عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهنّ رفع أصواتهنّ ولا تمطيطها ولا تليینها وتقطيعها لما في ذلك من استمالةالرّجال إليهنّ وَتحريك الشَهوَات منهم ومن ھذا لم تجز ان تؤذن المراۃ“ ترجمہ: ہم وقت ضرورت اجنبی عورتوں سے کلام کو جائز سمجھتے ہیں، البتہ یہ جائز نہیں قرار دیتے کہ وہ اپنی آوازیں بلند کریں، گفتگو کو بڑھائیں، نرم لہجہ رکھیں یا مبالغہ کریں، کیونکہ اس طرح تو مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا ہے اور ان کی شہوات کو ابھارنا ہے، اِسی وجہ سے تو عورت کا اذان دینا جائز نہیں۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلا ۃ، جلد 2، صفحہ 97، مطبوعہ کوئٹہ )

جھوٹ کی وعید کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ) ترجمۂ کنز العرفان: اور ان کے لیے ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے۔ (پارہ 1، سورۃ البقرہ، آیت 10)

رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ایاکم والکذب، فان الکذب یھدی الی الفجور وان الفجور یھدی الی النار وان الرجل لیکذب ویتحری الکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا‘‘ ترجمہ: جھوٹ سے بچو کہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم میں لے جانے کا سبب ہیں۔ کوئی شخص جھوٹ بولتا اور سوچتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کی بارگاہ میں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی التشدید في الکذب، جلد 2، صفحہ 339، مطبوعہ لاهور)

دھوکہ دہی کے متعلق حدیث پاک میں ہے: ’’من غش فلیس منی‘‘ ترجمہ: جس نے دھوکہ دیا، وہ مجھ سے نہیں (یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 70، مطبوعہ کراچی)

امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ’’غَدَر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

رشوت کا لین دین کرنے والوں اور ان کے درمیان دلالی کرنے والے پر رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے لعنت فرمائی، چنانچہ حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: ”لعن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم الراشي والمرتشي والرائش يعني: الذي يمشي بينهما“ ترجمہ: نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے رشوت لینے والے، رشوت دینے والے اور رائش یعنی ان دونوں کے درمیان کوشش کرنے والے (دلال )پر لعنت فرمائی۔ (مسنداحمد، من حديث ثوبان، جلد 37، صفحہ 85، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)

امامِ اہلِ سُنَّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”رشوت لینا مطلقاً حرام ہے، کسی حالت میں جائز نہیں، جو پرایا حق دبانے کے لیے دیا جائے رشوت ہے، یوہیں (یونہی) جو اپنا کام بنانے کے لیے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے۔ “ (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 597، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)

خود کو ذلت میں ڈالنے کے ناجائز ہونے کے بارے میں جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں ہے: ’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا ینبغی للمومن ان یذل نفسہ‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: مومن کو جائز نہیں کہ خود کو ذلت و رسوائی میں مبتلا کرے۔ (جامع الترمذی، ابواب الفتن، ، جلد 2، صفحہ 498، مطبوعہ لاھور)

علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ’’اذلال النفس حرام‘‘ ترجمہ: اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا حرام ہے۔ (البنایہ شرح الھدایہ، جلد 04، صفحہ 619، مطبوعہ کوئٹہ)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ’’ایسے امر کا ارتکا ب جو قانوناً ناجائز ہو اور جرم کی حد تک پہنچے، شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لیے جر م قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لیے پیش کرنا شرعا بھی روا نہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 192، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن، لاھور)

تنبیہ: یاد رہے! عورت کو جائز ملازمت کرنے کی اجازت ہے، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں، چنانچہ شرائط بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”یہاں پانچ شرطیں ہیں: (1) کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے۔ (2) کپڑے تنگ و چست نہ ہوں جو بدن کی ہیأت ظاہر کریں۔ (3) بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہو۔ (4) کبھی نامحرم کے ساتھ کسی خفیف دیر کے لیے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔ (5) اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنہ فتنہ نہ ہو۔ یہ پانچ شرطیں اگر جمع ہیں، تو حرج نہیں اور ان میں ایک بھی کم ہے تو(عورت کا نوکری کرنا) حرام۔“ ( فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 248، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9911
تاریخ اجراء: 19 شوال المکرم 1447 ھ/ 08 اپریل 2026 ء