logo logo
AI Search

کیا عورت تراویح کی جماعت کروا سکتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کا تراویح کی جماعت کروانا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا عورت تراویح کی جماعت کرواسکتی ہے؟

جواب

عورت کسی بھی نماز میں، خواہ وہ پنجگانہ ہو، یا تراویح، جماعت نہیں کروا سکتی، کہ عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی و گناہ ہے۔ درِ مختار میں ہے

(و) یکرہ تحریما (جماعۃ النساء) و لو فی التراویح

ترجمہ: عورتوں کی جماعت مکروہِ تحریمی ہے، اگرچہ تراویح ہی کیوں نہ ہو۔

علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ ولو فی التراویح کے تحت فرماتے ہیں:

افاد ان الکراھۃ فی کل ما تشرع فیہ جماعۃ الرجال فرضا او نفلا

ترجمہ: مصنف علیہ الرحمۃ کے قول نے اس بات کا فائدہ دیا، کہ کراہت ہر اس نماز میں ہے، جس میں مردوں کی جماعت جائز ہے، فرض ہو یا نفل۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد2، صفحہ 365، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی اجملیہ میں ہے عورتوں کی جماعت مکروہِ تحریمی ہے۔ (فتاوی اجملیہ، جلد 2، صفحہ 345، شبیر برادرز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4837
تاریخ اجراء: 22 رمضان المبارک 1447ھ / 12 مارچ 2026ء