logo logo
AI Search

عورتوں کا اپنے ہاتھ پاؤں کے بال صاف کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورتوں کے لیے اپنے ہاتھ پاؤں کے بال صاف کرنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عورتوں کے لیے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے بالوں کو کاٹنا جائز ہے؟

جواب

عورت اپنے ہاتھ اور پاؤں کے بال کاٹ سکتی ہے، شریعت میں اس کی ممانعت نہیں۔ البتہ اگر یہ کام کسی دوسری عورت سے کروایا جائے تو پردے کا خیال رکھنا ضروری ہے یعنی ہاتھ اور گھٹنوں سے نیچے کے بال تو صاف کروانا درست ہے لیکن گھٹنوں سے اوپر کے بال کاٹنے کیلئے اس حصے کو دوسری عورت کے سامنے کھولنا جائز نہیں، کیونکہ ایک عورت کا دوسری عورت کے سامنے بھی بغیر شرعی ضرورت کے اپنے ناف سے گھٹنے تک کا حصہ کھولنا جائز نہیں۔ اسی طرح اس کام کیلئے کسی غیر مسلم عورت کے سامنے اعضائے ستر جیسے کلائیاں، بازو، پنڈلیاں کھولنا بھی جائز نہیں ہوگا، کیونکہ مسلمان عورت کا غیر مسلم عورت سے بھی وہی پردہ ہوتا ہے جو عورت کا ایک اجنبی مَرد سے ہوتا ہے یعنی جن اعضاء کو اجنبی مرد کے سامنے کھولنا جائز نہیں، اُنہی اعضاء کو غیر مسلم عورت کے سامنے بھی کھولنا جائز نہیں۔

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہا رشریعت میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’ ہاتھ، پاؤں، پیٹ پر سے بال دور کرسکتے ہیں‘‘۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 585، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ایک عورت بھی دوسری عورت کے سِتر (ناف سے گھٹنے تک کے حصے ) کو نہیں دیکھ سکتی، چنانچہ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لا ینظر الرجل الی عورۃ الرجل، ولا المرأۃ الی عورۃ المرأۃ‘‘

ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ مرد کسی دوسرے مرد کے ستر کی طرف نظر کرے اور نہ ہی عورت کسی دوسری عورت کے ستر کی طرف نظر کرے۔ (صحیح مسلم، کتاب الحیض، صفحہ  205، رقم الحدیث: 766، دار ابن کثیر)

علامہ علی بن ابو بکر مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ ’’ہدایہ ‘‘میں فرماتے ہیں:

’’و ينظر الرجل من الرجل إلى جميع بدنه إلا ما بين سرته إلى ركبته۔۔۔ و تنظر المرأة من المرأة إلى ما يجوز للرجل أن ينظرإليه من الرجل‘‘

ترجمہ: ایک مرد دوسرے مرد کے تمام جسم کو دیکھ سکتا ہے، سوائے ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنے تک (کہ اِس حصے کو نہیں دیکھ سکتا، اسی طرح) ایک عورت دوسری عورت کا وہی حصہ دیکھ سکتی ہے، جو ایک مرد دوسرے مرد کا حصہ دیکھ سکتا ہے۔ (الھدایۃ، کتاب الکراھیۃ، جلد  4، صفحہ  369، 370، مطبوعہ بیروت)

کافرہ عورت، مسلمان عورت کے اعضائے ستر کو نہیں دیکھ سکتی، چنانچہ تنویرالابصار میں ہے:

’’والذمیۃ کالرجل الاجنبی فی الاصح فلاتنظرالی بدن المسلمۃ‘‘

ترجمہ: اور اصح قول کے مطابق ذمی عورت، اجنبی مرد کی طرح ہے، لہذا مسلمان عورت کے بدن کی طرف نظر نہیں کرسکتی۔ (تنویر الابصار، جلد 9، صفحہ 612، 613، دارالمعرفۃ، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”شریعت کا تو یہ حکم ہے کہ کافرہ عورت سے مسلمان عورت کو ایسا پردہ واجب ہے، جیسا اُنہیں مرد سے، یعنی سر کے بالوں کا کوئی حصہ یا بازو، یا کلائی یا گلے سے پاؤں کے گٹوں کے نیچے تک جسم کا کوئی حصہ مسلمان عورت کا کافرہ عورت کے ساتھ کھلا ہونا جائز نہیں‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 692، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1102
تاریخ اجراء: 28 شعبان المعظم1447ھ/17 فروری 2026ء