عورت نے جمعہ کی نماز پڑھ لی تو کیا ظہر پڑھنی ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت نے جمعہ ادا کر لیا تو کیا ظہر ساقط ہو جائے گی ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہم نیوزی لینڈ میں رہتے ہیں۔ یہاں عورتیں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے مسجد میں آتی ہیں اور امام کے پیچھے نماز جمعہ ادا کرتی ہیں، ایسی صورت میں ان پر نماز ظہر کا کیا حکم ہوگا؟ کیا نماز ظہر کی ادائیگی ان پر لازم رہے گی یا نہیں؟
جواب
عورت پر جمعہ فرض نہیں اور عمومی طور پر عورتوں کو مسجد میں آنے کی بھی ممانعت ہے، البتہ کسی خاص ملک کی خاص صورتحال کا تقاضا مختلف ہوسکتا ہے، لیکن فی نفسہ مسئلے کاجواب یہ ہے کہ اگر عورت کسی سنی صحیح العقیدہ قابل امامت شخص کے پیچھے اقتداء کی شرائط کی رعایت کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرلے جبکہ جمعہ اپنی شرائط کے ساتھ درست ہو ، مثلاً شہر یا فنائے شہر میں ہو، اذنِ عام ہو وغیرہ تو جمعہ ادا ہوجائے گا اور نمازِ ظہر فرض نہیں رہے گی، وہ ساقط ہوجائے گی۔
عورتوں کیلئے مسجد میں جماعت کی حاضری سے متعلق تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
”(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقا) ولو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان“
ترجمہ: اور عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا مفتیٰ بہ مذہب کے مطابق فسادِ زمانہ کی وجہ سے مطلقاً مکروہ ( تحریمی ) ہے، اگرچہ نمازِ جمعہ و عیدین اور مجلسِ وعظ ہو، اگرچہ عورتیں بوڑھی ہوں، اگرچہ رات کی نمازیں ہوں ۔ (تنویر الابصار و درمختار، کتا ب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 367، مطبوعہ کوئٹہ)
عورت پر جمعہ فرض نہیں، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:
’’فللجمعة شرائط، بعضها يرجع إلى المصلي، وبعضها يرجع إلى غيره.أما الذي يرجع إلى المصلي فستة: العقل، والبلوغ، والحرية والذكورة، والإقامة، وصحة البدن۔۔۔وأما المرأة فلأنها مشغولة بخدمة الزوج ممنوعة عن الخروج إلى محافل الرجال لكون الخروج سببا للفتنة؛ ولهذا لا جماعة عليهن ولا جمعة عليهن أيضا، والدليل على أنه لا جمعة على هؤلاء ما روي عن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فعليه الجمعة إلا مسافرا أو مملوكا أو صبيا أو امرأة أو مريضا فمن استغنى عنها بلهو أو تجارة استغنى الله عنه والله غني حميد»‘‘
ترجمہ: جمعہ کے لیے شرطیں ہیں، ان میں سے بعض نمازی کی ذات سے متعلق ہیں اور بعض اس کے علاوہ امور سے۔ جو شرطیں نمازی کی ذات سے متعلق ہیں وہ چھ ہیں: عقل، بلوغ، آزاد ہونا، مرد ہونا، مقیم ہونا اور بدن کی صحت۔(مرد ہونا شرط ہے، عورت پر فرض نہیں، اس لئے کہ) عورت، تو وہ شوہر کی خدمت میں مشغول ہوتی ہے اور مردوں کی محفلوں میں نکلنے سے روکی گئی ہے، کیونکہ (عورت کا گھر سے باہر) نکلنا فتنہ کا سبب ہے؛ اسی لیے ان پر جماعت واجب نہیں اور جمعہ بھی واجب نہیں۔ اور اس بات کی دلیل کہ ان لوگوں پر جمعہ واجب نہیں، وہ حدیث ہے جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس پر جمعہ واجب ہے، سوائے مسافر، غلام، بچے، عورت اور مریض کے۔ پھر جو کھیل یا تجارت کی وجہ سے اس سے بے پرواہی کرے، اللہ بھی اس سے بے پروا ہو جائے گا، اور اللہ بے نیاز، قابلِ حمد ہے۔ ( بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 259، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
’’لا تجب الجمعة على العبيد و النسوان‘‘
ترجمہ: غلاموں اور عورتوں پر جمعہ واجب نہیں۔ (الفتاوی الھندیة، جلد 1، صفحہ 144، دار الفکر، بیروت)
عورت اگر جمعہ ادا کرلے تو جمعہ ہو جائے گا اور وہ فرضِ ظہر کی طرف سے کافی ہوگا، چنانچہ کنز الدقائق مع تبیین الحقائق میں ہے:
’’(و من لا جمعة عليه إن أداها جاز عن فرض الوقت)، لأن السقوط لأجله تخفيفا فإذا تحمله جاز عن فرض الوقت كالمسافر إذا صام و الذي لا جمعة عليه هو المريض و المسافر و المرأة و العبد‘‘
ترجمہ: اور جس پر جمعہ فرض نہیں، اگر وہ ادا کر لے تو فرضِ وقت کی طرف سے کافی ہو جائے گا، کیونکہ اس سے جمعہ کا سقوط کسی عذر کی بنا پر تخفیف کے طور پر ہے، پس اگر وہ اس کو برداشت کر لے تو فرضِ وقت کی طرف سے درست ہو جائے گا، جیسے مسافر اگر روزہ رکھ لے اور جس پر جمعہ فرض نہیں وہ مریض، مسافر، عورت اور غلام ہے۔ (کنز الدقائق مع تبیین الحقائق، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 221، مطبوعہ قاھرۃ)
بہار شریعت میں ہے: ”جمعہ واجب ہونے کے ليے گیارہ شرطیں ہیں، ان میں سے ایک بھی معدوم ہو، تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا، تو ہو جائے گا۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 470، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
عورت کے جمعہ ادا کرنے کی صورت میں نمازِ ظہر ساقط ہوجائے گی، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:
’’هؤلاء الذين لا جمعة عليهم إذا حضروا الجامع وأدوا الجمعة فمن لم يكن من أهل الوجوب كالصبي و المجنون فصلاة الصبي تكون تطوعا و لا صلاة للمجنون رأسا، و من هو من أهل الوجوب كالمريض والمسافر والعبد والمرأة و غيرهم تجزيهم ويسقط عنهم الظهر‘‘
ترجمہ: جن افراد پر جمعہ لازم نہیں، اگر یہ مسجد وغیرہ آ کر نمازِ جمعہ ادا کر لیتے ہیں، تو ان میں سے جو افراد وجوب کے اہل ہی نہیں، مثلاً بچہ یا مجنون، تو بچہ کی نماز نفل شمار ہو جائے گی اور مجنون کے ذمے سرے سے کوئی نماز ہی نہیں اور جو وجوب کی اہلیت رکھتے ہیں، مثلاً مریض، مسافر اور عورت وغیرہ، تو ان کا جمعہ ہو جائے گا اوران سے ظہر ساقط ہو جائے گی۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 259، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1072
تاریخ اجراء: 02 شعبان المعظم1447ھ/ 22 جنوری 2026ء