ماں کے سگے ماموں اور چچا محرم ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
والدہ کے سگے ماموں اور چچا محرم ہیں یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا والدہ کے سگے ماموں اور چچا محرم ہیں؟ یعنی ہمارے وہ نانا ہوئے لیکن سگے نانا نہیں ہیں؟
جواب
والد، والدہ کے سگے ماموں، چچا محارم میں سے ہیں، ان سے اجنبیوں کی طرح پردہ لازم نہیں ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ اصل قریب (ماں باپ) کی فرع (اولاد) اگرچہ بعید ہو (یعنی کتنے ہی واسطے سے ہو) وہ محرم ہے اور اصل بعید (ماں باپ کے ماں باپ وغیرہ اوپر تک) کی فرع قریب، (ان کی اپنی اولاد) محرم ہے۔ اصل بعید کی فرع قریب کی اولاد دَر اولاد محرم نہیں۔ اور والدہ کا ماموں اور والدہ کا چچا یہ اصل بعید کی فرع قریب ہیں لہٰذا محرم ہیں۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے: ”حرمت میں چار صورتیں ہیں:۔۔۔ سوم اصل قریب کی فرع اگرچہ بعید ہو جیسے ماں یاباپ کی پوتی نواسی اور ان کی اولاد و اولادِ اوالاد۔ چہارم اصل بعید کی فرع قریب جیسے پھوپھی کہ دادا کی بیٹی ہے یا خالہ کہ نانا کی یا دادا کی پھوپھی کہ پر دادا کے باپ کی بیٹی ہے یااس کی خالہ کہ دادا کے نانا کی بیٹی ہے وقس علیہ (اور اسی پر قیاس کر۔)‘‘ (ملتقطاً) (فتاویٰ رضویہ، جلد 11، صفحہ 500، رضا فاونڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2360
تاریخ اجراء: 01 محرم الحرام 1447ھ/27 جون 2025ء